کوہلو، نیوکلی کے مکین پانی کیلئے ترس رہے ہیں
کوہلو:محکمہ پبلک ہیلتھ کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے، جبکہ نیو کلی کے مکین تاحال زندہ رہنے کے لیے پینے کے صاف پانی کے لیے ترس رہے ہیں،پبلک ہیلتھ کے افسران، ڈپٹی کمشنر، ایم پی اے صرف دکھاوے کے لیے دورے کرتے ہیں لیکن کوئی عملی کام نہیں کرتے جس سے علاقے کے لوگوں کو کے بنیادی ضروریات پوری ہوں، علاقے کے مکینوں نے عدلیہ سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے ضلع کوہلو کے سب سے گنجان آباد شہر کے قریب ٹاون میں واقع نیو کلی کے مکین زندگی کے بنیادی سہولیات پانی جیسے نعمت سے محروم ہیں مکینوں کے مطابق اس سے قبل پرامن احتجاج بھی ریکارڈ کروایا جس کے بعد محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے افسران، ڈپٹی کمشنر کوہلو، رکن صوبائی اسمبلی نے پرجوش انداز میں دورے بھی کئے اور مکینوں کو پانی کا سپلائی بحال کرنے کا یقین دلایا لیکن بدقسمتی سے دورے صرف فوٹو سیشن اور دکھاوے کے نکلے جبکہ علاقے کے مکین ابھی تک صاف پینے کے پانی کیلئے ترس رہے ہیں نیو کلی کے مکینوں نے عدلیہ سے اپیل کی ہے کہ کوہلو کے سب سے گنجان آباد شہر کے قریب ٹاون میں واقع نیو کلی کے مکینوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کر کے مکینوں کو نقل مکانی سے بچائیں۔


