پاکستان میں غریب طبقے کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں، پی ڈبلیو ڈی ایمپلائز یونین بلوچستان
کوئٹہ:پی ڈبلیو ڈی ایمپلائز یونین بلوچستان کے چیئرمین ممتاز بزرگ مزدور رہنما خیر محمد فورمین نے کہا ہے کہ ملک میں غریب عوام بالخصوص محنت کش طبقہ کا استحصال جاری ہے، ملک میں مہنگائی و بے روزگاری عروج پر ہے، غربت آخری حد تک پہنچ چکی ہے، 95 فیصد غریب طبقے کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں،ہوشربا مہنگائی کی وجہ سے جسم و جان برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے جس کی وجہ سے غریب زندہ درگو ہو رہے ہیں۔ بھوک اور افلاس کی وجہ سے لوگ اپنے لخت جگر کو بیچنے پر مجبور ہیں۔ جبکہ غریب ملک کے امیر حکمرانوں کو دنیا کی تمام آسائشیں میسر خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ناجائز منافع خور ماہ صیام میں بھی روزہ داروں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔سرکاری نرخ پر کوئی دوکاندار یا ریڑی بان عملدرآمد نہیں کر رہے ہیں۔ مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں جبکہ صوبائی حکومت نے عوام کو زخیرہ اندوزوں اور گرانفروشوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔صوبائی حکومت، ضلعی انتظامیہ، کوالٹی اور پرائس کنٹرول کمیٹیاں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں۔صوبائی انتظامیہ کی غفلت و لاپرواہی کی وجہ سے گوشت، سبزیاں، پھل، دالیں، چینی،آٹا، گھی اور تیل سمیت دیگر خوردنی اشیاء عوام کے دسترس سے باہر ہو چکی ہیں۔ خوردنی اشیاء اور انسانی جان بچانے والی ادویات میں ملاوٹ کی وجہ سے معاشرے میں خطرناک بیماریاں پھیل رہی ہیں، ہسپتالیں مریضوں سے بھرے پڑے ہیں مگر صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ ٹھس سے مس نہیں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ماہ صیام میں روزہ داروں اور غریب عوام پر رحم کریں اور سرکاری نرخنامہ پر عملدرآمد کیلئے بھرپور اقدامات اٹھاکر ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لاتے ہوئے عوام کو ان ناجائز منافع خوروں کے چنگل سے آزاد کرائیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت قومی اداروں کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی ایماء پر کوڑیوں کے مول بیچ کر برسرروزگار مزدوروں کو بے روزگار کرنا چاہتی ہے۔ قومی ادارے ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ قومی اداروں کو بیچنے سے ملکی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔حکومت قومی اداروں کو نجکاری کرنے کی بجائے ان میں اصلاحاتی نظام لایا جائے، اداروں میں سیاسی مداخلت اور اقربا پروری نے تباہ و برباد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی 62 مزدور یونینوں پر عائد پابندی آئی ایل او کے کنونشنز برخلاف اور ملکی آئین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ مزدور یونینوں پر پابندی کی وجہ سے بلوچستان کے ہزاروں مزدور سخت مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ صوبے کے 62 مزدوریونینوں پرعائد پابندی فی الفور اٹھائی جائے تاکہ مزدور یونینز لیبر قوانین کے تحت اپنے اپنے اداروں کے محنت کشوں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے آئینی و قانونی جدوجہد کا راستہ اختیار کر سکے۔ 62 یونینوں پر قدغن کی وجہ سے آج ہزاروں مزدورسڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں۔اس سلسلے میں رجسٹرار ٹریڈ یونینز بلوچستان کا کردار بھی مایوس کن ہے۔رجسٹرار ٹریڈ یونین کو چاہیے کہ وہ اس سنگین معاملے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ مزدور تنظیموں کے مسائل کے حل میں رکاؤٹیں دور ہو سکے


