اوتھل، ضلعی انتظامیہ کی مندر پر پابندی کے باوجود لوگوں کا ہجوم کورونا کی خلاف ورزی ہے، عوامی حلقے
اوتھل: ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پبلک مقامات اور مزارات پر کوروناوائرس کے پیش نظر عوام کے ہجوم پر پابندی کی خلاف ورزیاں جاری،ہنگلاج مندر کے میلے پر پابندی کے باوجود ہزاروں لوگ ہنگلاج مندر پر جمع ہوگئے ایس او پیز کی مکمل دھجیاں اڑا دی گئیں،لسبیلہ میں بڑے پیمانے پر کورونا وائرس پھیلنے کا خطرہ پیدا ہوگیا،ضلعی انتظامیہ کی نااہلی پر عوامی حلقوں میں تشویش۔تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کے پیش نظر حکومت سطح پر ایس او پیز پر مکمل عملدرآمدکرانے کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں اس حوالے سے پبلک مقامات،مزارات پررش کر نے پر حکومتی سطح پر پابندی عائد کردی گئی ہے اسی تناظر میں ڈپٹی کمشنر لسبیلہ نے بھی لسبیلہ میں ہنگلاج مندرہندو شیوا منڈلی کے نمائندوں سے ملاقات کرکے سالانہ تین روزہ میلہ منسوخ کرنے کی اپیل کی تھی جس پر ہندوشیوا منڈلی نے سالانہ تین روز میلہ منسوخ کردیا تھا جبکہ شاہ نورانی کا سالانہ میلہ بھی شاہ نورانی کے گدی نشینوں نے کورونا وائرس کی تیسری لہری کے پیش نظر منسوخ کردیا تھا لیکن اس کے باوجود ڈپٹی کمشنر لسبیلہ وضلعی انتظامیہ کی نااہلی کے باعث ہنگلاج مندر میں ہزاروں ہندویاتری جمع ہوگئے ہیں اور ایس او پیز کی مکمل خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں جس کی وجہ سے لسبیلہ میں کورونا وائرس پھیلنے کا شدید خطرہ پیدا ہوگیا ہے واضح رہے کہ محکمہ صحت لسبیلہ نے بھی عوام کو ایس او پیز پر مکمل عملدرآمدکرنیکی ہدایات دی ہیں لیکن ہنگلاج مندر میں قانون کی دھجیاں بکھیری جارہی ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ڈپٹی کمشنر لسبیلہ وضلعی انتظامیہ کی نااہلی پر لسبیلہ کے عوامی حلقوں میں تشویش کی لہرپائی جارہی ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی اس غفلت کے باعث اگر خدانخواستہ لسبیلہ میں کورونا وائرس پھیلاتو اسکو کنٹرول کرنا مشکل ہوجائے گا کیونکہ لسبیلہ میں قرنطینہ سینٹر اورآئسولیشن وارڈ جو کورونا وائرس کی پہلی اور دوسری لہر کے دوران قائم کئے گئے تھے اب وہ بھی ختم کردیئے گئے ہیں ا ور کورونا وائرس کو کنٹرول کرنے کیلئے کوئی سہولیات میسر نہیں عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان اور چیف سیکرٹر ی بلوچستان سے لسبیلہ میں ایس او پیز کیخلاف ورزیوں کانوٹس لینے کا مطا لبہ کیا ہے۔


