سبی، فوڈ اتھارٹی کا گرینڈ آپریشن، ملاوٹ شدہ اشیاء تلف، بھاری جرمانے، دکانیں سیل

سبی: بلوچستان فوڈ اتھارٹی کا سبی میں گرینڈ آپریشن یوریا کھاد اور سرف ملا دودھ برآمد کئی من تلف بھاری جرمانے ملک شاپ سیل بکرے گائے مرغی کے گوشت کی دوکانوں پر بھی چھاپے مارے گئے، میر سجاد علی بلوچ ڈپٹی ڈائریکٹر بلوچستان فوڈ اتھارٹی کوئٹہ نے کہا کہ انسانی صحت سے کھیلنے کی اجازت کسی صورت نہیں دیں گے یوریا کھاد اور سرف ملا کر دودھ کی فروخت برادشت نہیں کریں گے ایسے دودھ کا استعمال دل اور گردے کے لئے خطرہ کا باعث ہے۔ تفصیلات کے مطابق سبی سمیت بلوچستان بھر میں انسانی صحت کی حفاظت اور صحت مند اشیاء کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی محمد ابراہیم بلوچ کے احکامات پر ڈائریکٹر بلوچستان فوڈ اتھارٹی میر غلام مرتضیٰ کلہوار کی ہدایات پربلوچستان فوڈ اتھارٹی نے سبی کا اچانک دورہ کیا دورے کے موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈاتھارٹی بلوچستان میر سجاد علی بلوچ کی سرپرستی میں فوڈ سیفٹی آفیسر ڈاکٹر ماجد علی چھلگری، فوڈ سیفٹی آفیسر ڈاکٹر مصطفےٰ ابڑو نے سبی میں مختلف ملک شاپ پر چھاپے مارے عبدالشکور،کوئٹہ ملک شاپ پر یوریاکھاد اور سرف ملے دودھ کی موجودگی پر سخت برہمی کا شکار ہوئے شاپ پر موجود تمام دودھ فوری طور پر تلف کردیا گیا یوریا کھاد اور سرف کی ملاوٹ کے لئے جدید ٹیسٹنگ کا نظام موجود تھا دودھ کے نمونے لے کر ٹیسٹ کیا گیا جس پر یوریا کھاد اور سرف کی موجودگی کا انکشاف ہوا جس پر دکان پر موجود سارا دودھ فوری طور پر تلف کرکے بھاری جرمانے کیے گئے جبکہ سبی میں مضر صحت دودھ کی فروخت پر ملک شاپ کو سیل بھی کیا گیا اس موقع پر تحصیل دار سبی نصیر احمد ترین نائب تحصیل دار سبی محمد اقبال سومرو، سالدار لیویز میر شہباز خان باروزئی بھی چھاپہ مار ٹیم کے ہمراہ تھے بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی ٹیم نے مختلف بڑے چھوٹے مرغی کے گوشت کی دوکانوں پر بھی چھاپے مارے صفائی کے فقدان پر بھی برہمی کا اظہار کیا اس موقع پرڈپٹی ڈائریکٹر بلوچستان فوڈ اتھارٹی میر سجاد علی بلوچ نے قومی خبر رساں ادارے آئی این پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی عوام کو کسی صورت معزصحت اشیاء خوردونوش کا استعمال نہیں کرنے دیں گے انسانی صحت پر سمجھوتہ کسی صورت نہیں کریں گے بلوچستان فوڈ اتھارٹی قوانین کے مطابق ملاوٹ کرنے والے تاجر وں کے خلاف بلا امتیاز کاروائی کررہا ہے سبی میں یوریاکھاد اور سرف کی ملاوٹ سے دودھ فروخت کیا جارہا ہے جس سے دل اور گردے متاثر ہوتے ہیں ملاوٹ شدہ تمام دودھ تلف کردیا گیا ہے انتباہ کیا گیا ہے کہ دوبارہ ملاوٹ شدہ دودھ فروخت نہ کیا جائے انہوں نے کہا کہ گوشت کو دھوپ کے سامنے نہ رکھا جائے صفائی کا خاص خیال رکھا جائے انہوں نے کہا کہ مقامی میڈیا کی ذمے داری ہے کہ وہ ملاوٹ کرنے والے تاجروں کی نشاندہی کرکے اپنی ذمے داریوں کا احساس کریں اور ذمے دار شہری ہونے کو ثبوت دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں