ملیرمیں بحریہ ٹاؤن کے خلاف شکایات کا نوٹس لیا ہے،بلاول بھٹوزرداری
کراچی(آن لائن)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ، پہلے سلیکٹڈ اور دوسرے سلیکٹڈسب سے لڑنے کوتیار ہیں،شکست پر ن لیگ کا رد عمل انتہائی بچگانہ ہے ثبوت دے،اگرنون لیگ کراچی کے ضمنی الیکشن میں کامیاب ہوتی توخود شہبازشریف کوفون کرکے مبارک دیتا،پی پی پی نے ایک تیر سے شیر سمیت کئی شکار کیے،بلاول بھٹو نے کہاکہ بشیرمیمن یہ بھی بتائیں کہ کس کے کہنے پراصغر خان کیس کاپیچھا چھوڑکرمیراپیچھاکرناشروع کیا،انہوں نے کہاکہ ملیرمیں بحریہ ٹاؤن کے خلاف شکایات کا نوٹس لیا ہے اوروزیراعلی سندھ سے رپورٹ طلب کرلی ہے،کراچی کے عوام نے سلیکٹڈ حکومت کو ریجیکٹ کردیا ہے،پپلزپارٹی کی کامیابی پرکراچی کے عوام کے شکرگزارہیں۔وہ بلاول ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔اس موقع پروزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ، پیپلزپارٹی کی رہنما شیری رحمن،صوبائی وزیرسعید غنی،ایم این اے شازیہ مری،وزیراعلی سندھ کے مشیروقارمہدی اوراین اے 249 سے کامیاب امیدوارقادرخان مندوخیل دیگربھی موجود تھے۔ چئیرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کے لوگوں کو ہار ماننا سیکھنا چاہیے،ان کا شوق ہے اپوزیشن سے اپوزیشن کرنا، این اے 249 میں بہت شور سنا کہ ڈسکہ ٹو، ڈسکہ ٹو، اپنی ہار کو دیکھ کر ن لیگ نے دھاندلی کا الزام لگانا شروع کردیے،شاہد خاقان عباسی آر او آفس میں موجود تھے اور اپنی ہار دیکھ رہے تھے،اگر کوئی الزامات لگا رہا ہے تو اسے ثابت بھی کرے،جھوٹے الزام جمہوری جماعتوں پرلگانے کی بجائے دوستوں کوغورکرناچاہیئے کہ ان کا ووٹ بینک کم ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس حلقے میں شہباز شریف نے الیکشن لڑا وہاں 35 ہزار ووٹ کیسے کم ہوا؟ مسلم لیگ ن کے دوستوں کو شکست تسلیم کرنا سیکھنا چاہیے۔انہوں نے ہار کو تسلیم کرنے کے بجائے دھاندلی کا الزام لگایا، تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں تو پتہ چل جائے گا کہ کس جماعت نے سب سے زیادہ دھاندلی کی،ہم نے جس طریقے سے حکومت کوبے نقاب کیاہے یہ پاکستان کے عوام کی کامیابی ہے،یہ دوست اسٹیبلشمنٹ کامقابلہ کرنے کی بجائے پیپلزپارٹی کامقابلہ کرنا چاہتے ہوتوپھرکرو،اگرضمنی انتخاب میں کوئی گڑبڑ ہوئی ہے ثبوت ہے توسامنے لائیں یا پھرچپ ہوجائیں مان لیں آپ ہارچکے ہیں،پتنگ والے اورمولویوں کوبھی ہم نے فارغ کردیا،سب کوسمجھنا چاہیئے،پیپلزپارٹی کوپیچھے دھکیلنے کی کوشش کی گئی تاکہ لوگ آپس میں لڑیں،پنجاب میں پیپلزپارٹی کے خلاف سازش کی گئی ہم اسٹیبلشمنٹ اوران کی باقیات کامقابلہ کریں گے،جیالوں کوتنہانہیں چھوڑیں گے انہوں نے کہاکہ اگر اس الیکشن میں ن لیگ کامیاب ہوتی توخود شہبازشریف کو فون کرکے مبارکباددیتا،ن لیگ کا شوق ہے پیپلزپارٹی سے مقابلہ کرنا، تو کرو، اور ہارو،انہیں ہار ماننا سیکھنا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ اپوزیشن جماعتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے حکومت کا مقابلہ کرنا، ایک جماعت نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر ہمارے خلاف سازش کی،پیپلزپارٹی کوسوچی سمجھی سازش کیتحت پیچھے دھکیلنے کی کو شش کی گئی،ہم اپنے نظریے اور منشو رکے تحت جدو جہد کرتے رہیں گے،اسٹیبلشمنٹ، پہلے سلیکٹڈ اوردوسرے سلیکٹڈسب سیلڑنے کوتیار ہیں این اے 249 میں شکست پر ن لیگ کا رد عمل انتہائی بچگانہ ہے اور اس کا نقصان انہی کو ہوگا۔بلاول بھٹو نے کہا ثابت ہوگیا کہ عوام اپوزیشن کے ساتھ کھڑی ہے،عبرتناک شکست سلیکٹیڈ حکومت کوپیغام ہے،غربت مہنگائی اورعوام دشمنی پرعوام نے سلیکٹیڈ کورد کیا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی سیاست جمہوری قوتوں کی طرف راغب ہے،ضمنی انتخاب سینیٹ انتخابات پھرچیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں ان کوہراکرثابت کردیا جومحنت کرتا ہے اس کی جیت ہوتی ہے،ملیربلدیہ ٹاو ¿ن کے انتخابات نے ثابت کیاکہ کراچی کی عوام ہمارے ساتھ ہے،ہم بھی ان کی توقعات پرپورااترنے کی کوشش کریں گے،حکومت کی معاشی اورسیاسی پالیسیوں کوعوام نے مسترد کیا ہے،پیپلزپارٹی کے جیالوں نے رمضان اورکووڈ میں بھی جان لگاکرکام کیا،عوام نے ضمنی الیکشن میں تاریخی کامیابی دلائی اور بتا دیا کہ وہ حکومت کے نہیں اپوزیشن کے ساتھ ہیں۔بلاول بھٹو نے کہاکہ بشیرمیمن کوہم عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں بشیرمیمن کواضغرخان کیس کی تحقیقات کرنے کے بجائے میرے لانڈری کے بل کے پیچھے لگادیاگیا،اس وقت بشیرمیمن نے احکامات کیوں مانے،ریٹائرمنٹ کے بعد ایسی باتوں کاکیافائدہ،بشیرمیمن کے الزامات پرتحقیقات ہونی چاہیئے۔جسٹس فائزعیسیٰ کیخلاف ریفرنس کے معاملے پر ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے صدر پاکستان عارف علوی اور وزیر قانون فروغ نسیم کے استعفے کامطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس فائزعیسیٰ کیخلاف جھوٹے ریفرنس پروزیرقانون کومستعفی ہوناچاہیے، وزیراعظم کی پوری کابینہ اس میں ملوث ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سازش کی تحقیقات ہونی چاہیے، کیا وجہ تھی سپریم کورٹ کے جج کی کرادکشی کی گئی، عمران خان کی کابینہ کو اپنے جرم کا حساب دینا ہوگا،جسٹس قاضی فائزعیسی کے ساتھ جب واقعہ ہواتھا ریفرنس دائرکیاگیاتب بھی ہم نے مذمت کی تھی کہ یہ عدلیہ پرحملہ تھا ان کومستعفی ہونا چاہیئے تھا،ان لوگوں کے خلاف تحقیقات ہونی چاہیئے جنہوں نے معزز جج کوسیاسی انتقام کانشانہ بنایا،ہم اس فیصلے کوویلکم کرتے ہیں،ہم چاہتے ہیں کہ کسی کی کردارکشی نہ ہو۔انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی پانی کی کمی کوختم کرنے پرکام کررہی ہے،بدقسمتی ہے 1991کے معاہدے پربھی عمل نہیں ہوتا،صوبے کواس کے حصے کاپانی نہیں دیا جاتا،پاکستان پیپلزپارٹی اس مسئلے کوفوکس کررہی ہے،بلدیہ میں بھی پانی کی ایک لائن پہنچائی ہے،ہم انڈیاسے پانی پرشکایت کرتے ہیں خود اس پرعمل نہیں کرتے،پانی کی کمی ناانصافی اورموسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہے۔ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہاکہ ملیرمیں کچھ ناانصافی کی شکایات آرہی تھی،سوشل میڈیا اور واٹس ایپ پر شکایات آئی تھی کہ ملیر میں لوگ احتجاج کر رہے تھے،میں نے اس کا نوٹس لیا ہے اور وزیراعلیٰ سے رپورٹ مانگی ہے۔انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق مقامی لوگوں کوان کاحق دلائیں گے،بحریہ ٹاؤں کاایک روپیہ ملیرپرخرچ نہیں ہوسکاہے،سپریم کورٹ کے فیصلے پراعتراض نہیں کرسکتے ملیرکو اسکا حق دیں،بارشوں میں بھی ملیرکا انفراسٹرکچرتباہ ہوا،اسے ٹھیک کرناچاہیئے بحریہ ٹاؤن کے پیسے سندھ کوملنے چاہئیں۔انہوں نے کہاکہ ہم سے یہ کامیابی چھینی گئی تھی،ماضی میں پیپلزپارٹی نے کئی دفعہ این اے 249 کی نشست پر کامیابی حاصل کی ہے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر سیعد غنی نے کہاکہ ہم نے الیکشن جیتنے کا پلان کیا تھا، جیتنے کیلئے میدان میں اترے تھے اورعوام نے پیپلزپارٹی کوکامیابی سے ہمکنارکیاجس پران کے شکرگذارہیں۔#/s#


