افغانستان: فوجی چیک پوسٹ پر طالبان کے حملے،7جوان ہلاک
کابل:افغانستان کے جنوب مغربی صوبے فراہ میں ایک فوجی چیک پوسٹ پر طالبان کے حملے میں 7 جوان ہلاک ہوگئے جبکہ صوبائی کونسل کے رکن نے 30 فوجیوں کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا۔غیرملکیخبررساں ادارے کے مطابق فراہ کی مقامی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ طالبان نے ایک پوسٹ پر حملہ کیا جہاں 7 فوجی ہلاک ہوئے جبکہ افغانستان میں یکم مئی کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔فراہ کے گورنر تاج محمد جاہد نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ طالبان نے فوجی پوسٹ تک رسائی کے لیے قریبی گھروں سے 400 میٹر سرنگ کھودی اور پوسٹ کو اڑا دیا۔ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور جنگجووں نے ایک جوان کو حراست میں بھی لیا ہے۔عینی شاہدین نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس حملے میں ایلیٹ کمانڈو فورسز کے اہلکار سمیت فوج کے درجنوں اہلکار ہلاک ہوئے۔صوبائی کونسل کے رکن خیر محمد نورزئی کا کہنا تھا کہ حملے میں تقریباً30 فوجی ہلاک ہوئے اور فوجی چیک پوسٹ اس وقت طالبان کے قبضے میں ہے۔طالبان کے ترجمان کی جانب سے اس حوالے سے بیان سامنے نہیں آیا۔مقامی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ صوبے کے دارالحکومت میں دھماکا ہوا جہاں 5 بچوں سمیت 21 افراد زخمی ہوئے۔فراہ پبلک ہیلتھ کے ڈائریکٹر عبدالجبار شائق کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں موجود تین زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔دوسری جانب کابل میں غیرملکی فوجیوں کے انخلا کیدوران حملوں کے خدشے پر دارالحکومت کی سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے اور اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے۔امریکی کمانڈر نے یکم مئی کو خبردار کیا تھا کہ ڈیڈ لائن گزرنے کی صورت میں افغانستان میں موجود فوجیوں پر حملے ہوسکتے ہیں۔افغان حکومت کا مؤقف ہے کہ جب سے امریکی صدر جوبائیڈن نے افغانستان سے 11 ستمبر تک بیرونی فوجوں کے انخلا کا اعلان کیا ہے اس کے بعد طالبان نے افغان سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ کردیا ہے


