ایران میں اعلیٰ سوئس خاتون سفارت کار اونچی عمارت سے گر کر ہلاک
تہران:ایران میں سوئٹزرلینڈ کے سفارت خانے کی ایک اعلیٰ خاتون اہلکار ایک بیس منزلہ عمارت سے نیچے گر کر ہلاک ہو گئیں۔ یہ خاتون سوئس سفارت خانے کی فرسٹ سیکرٹری تھیں اور ان کی لاش ایک مالی کو اس عمارت کے باغیچے سے ملی۔
ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی اِسنا نے بتایا کہ تہران میں سوئس سفارت خانے کی اس خاتون اہلکار کی عمر اکیاون برس تھی اور وہ ملکی دارالحکومت کے شمالی حصے میں ایک بلند و بالا رہائشی عمارت کے ایک فلیٹ میں رہائش پذیر تھیں۔ ان کی لاش آج منگل کے روز اس عمارت کے باغیچے سے ایک مالی کو ملی۔
کئی ماہ تک جاری مظاہروں کے بعد امریکی حمایت یافتہ رضا پہلوی ایران چھوڑ کر چلے گئے۔ یکم فروری کے روز آیت اللہ خمینی واپس ایران پہنچے اور یکم اپریل سن 1979 کو اسلامی ریاست کے قیام کا اعلان کیا گیا۔تہران میں سوئس سفارت خانہ وہاں امریکا کا اپنا سفارت خانہ نا ہونے کی وجہ سے امریکی سفارتی مفادات کی نگرانی بھی کرتا ہے۔
1979ء میں ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد سے امریکا اور ایران کے باہمی سفارتی روابط منقطع ہیں۔یہ امر غیر واضح ہے کہ یہ سرکردہ یورپی سفارت کار اپنے فلیٹ سے کن حالات میں اور کیسے کئی منزلیں نیچے گر گئیں۔ان کی موت کی تہران میں ہنگامی خدمات کے شعبے کے ترجمان نے بھی تصدیق کر دی ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں ملکی وزارت خارجہ (FDFA) نے اس خاتون سفارت کار کی شناخت ظاہر کیے بغیر لیکن ان کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی موت ایک ‘جان لیوا حادثے‘ کے نتیجے میں ہوئی، جس کے بعد سے تہران میں سوئس سفارت خانہ مقامی پولیس کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
برن میں سوئس وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا، ”ایف ڈی ایف اے اور اس کے چیف فیڈرل کونسلر اِگناسیو کاسِس کے لیے اس سفارتی اہلکار کی المناک موت ایک بہت بڑا دھچکا ہے اور وہ اس سفارت کار کے اہل خانہ کے ساتھ دلی تعزیت اور ہمدردی کرتے ہیں۔‘‘
ایران میں غیر ملکی پرچم تیار کرنے والی سب سے بڑی فیکڑی کا کاروبار تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ اس فیکڑی میں امریکی، برطانوی اور اسرائیلی پرچم صرف اس لیے تیار کیے جاتے ہیں تاکہ انہیں مظاہروں کے دوران جلایا جا سکے۔
ایرانی ایمرجنسی سروسز کے ترجمان مجتبیٰ خالدی نے اس واقعے کے بارے میں کہا، ”آج صبح سویرے جب ایک ملازم اس سوئس سفارت کار کے فلیٹ پر پہنچا تو اسے علم ہوا کہ یہ خاتون اپنے گھر پر نہیں تھیں۔ بعد میں ایک باغبان کو اس خاتون کی لاش اس بلند رہائشی عمارت کے باغیچے سے ملی۔‘‘ساتھ ہی مجتبیٰ خالدی نے یہ بھی بتایا کہ یہ خاتون تہران میں سوئس سفارت خانے کی فرسٹ سیکرٹری تھیں اور ان کے اپنے فلیٹ سے نیچے زمین پر گر جانے کی ”وجوہات کا تعین ابھی باقی ہے۔‘‘


