مطالبات کی منظوری کیلئے 48گھنٹوں کا الٹی میٹم دیتے ہیں، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان

کوئٹہ:ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان نے مطالبات کی منظوری کیلئے 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ مطالبات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے عمل درآمد نہ کیا گیا تو آئندہ کے احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے ترجمان کے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطاق ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کی ایگزیکٹیو باڈی کا اجلاس زیر صدارت ڈاکٹر احمد عباس ینگ ڈاکٹرز ہاسٹل سنڈیمن پراونشل ہسپتال میں منعقد ہوا،اجلاس میں حالیہ ڈاکٹروں کو درپیش مشکلات اور دیگر امور کو زیر بحث لاتے ہوئے باہمی مشاورت کے بعد فیصلے لیے گئے اجلاس میں حالیہ محکمہ صحت کی جانب سے صوبے کے 3 میڈیکل کالجز میں تعینات ڈیمونسٹریٹرز کی معطلی کی پرزور مذمت کرتے ہوئے نئے ڈیمونسٹریٹرز کی تعیناتیوں کیلئے قائم کی جانے والی کمیٹی کو یکسر مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ صوبے کے 3 میڈیکل کالجز میں پچھلے 3 سال سے تعینات ڈاکٹرز کو فوری طور پر بہال کیا جائیں اجلاس میں 27 اپریل کو بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال کے کیشئر کی جانب سے ڈاکٹروں کی تضحیک اور ہسپتال کے احاطے میں فائرنگ کے خلاف تاحال ہسپتال انتظامیہ اور سیکریٹری صحت کی بے حسی کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ مذکورہ کیشئر کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آر درج کروانے کیساتھ ساتھ عہدے سے برطرف کیا جائیں اجلاس میں صوبے میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کو مدنظر رکھتے ہوئے سنڈیمن پراونشل ہسپتال میں کورونا آئی سی یو کے قیام کو خوش آہند قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر آئی سی یوز کو مکمل طور پر سہولیات مہیا کیے جائیں اور حالیہ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی ایمرجنسی صورتحال میں چونکہ ینگ ڈاکٹرز مکمل یکسوئی کیساتھ اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں لہذا کورونا رسک الاونس پر تیزی سے عمل درآمد کرتے ہوئے تمام ڈاکٹروں کیلئے رسک الاونس جاری کئے جائیں اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چمن میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت بلوچستان سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ ہسپتال سے فورسز کو فوری طور پر نکال کر انتظامیہ کے حوالے کیا جائیں اور مستقبل میں کسی بھی محکمے کی جانب سے صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں بے جا مداخلت قابل قبول نہیں،اجلاس میں وزیر اعلی بلوچستان اور صوبائی سیکریٹری صحت سے پرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ مندرجہ بالا مسائل کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے عملی اقدامات اٹھائیں جائیں،اجلاس میں مطالبات پر پیش رفت کیلئے صوبائی حکومت کو 48 گھنٹے کی مہلت دیتے ہوئے واضع کیا گیا کہ مطالبات پر پیش رفت اور عملی اقدامات نہ ہونے کی صورت میں 48 گھنٹے کے بعد ایگزیکٹیو باڈی اجلاس میں آہندہ کے احتجاجی لاعمل کا اعلان کیا جائے گا جس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ صوبائی حکومت پر عائد ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں