سوراب گرلز کالج کی عمارت 18سال سے تعمیر کا منتظر ہے، بلوچ سٹوڈنٹس الائنس
سوراب: بلوچ اسٹوڈنٹس الائنس کے ممبران لطیف بلوچ، قدیربلوچ، ڈاکٹروحیدبلوچ، ابوبکردانش بلوچ،استادیاسین بلوچ، شہزادبلوچ، ظہوربلوچ، راشدبلوچ، شہزاد کے ڈی، عمران بلوچ، ودیگرنے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ڈسٹرکٹ سوراب کے گرلزکالج 18 سال گزرنےکے باوجود مکمل تعمیر نہیں ہوسکا اس جدید دور میں طالبات بوائز کالج میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں،
انہوں نے کہاکہ عوام کو تعلیمی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے مگر افسوس ضلعی ہیڈ کوارٹر میں طالبات کیلئے کالج کی سہولت نہ ہونا زیادتی ہے کالج نہ ہونے سے ہر سال سینکڑوں طلباء اور طالبات میٹرک پاس کرنے کے بعد تعلیم کو خیر باد کہہ دیتی ہیں انہوں نے کہاکہ اس ٹیکنالوجی کے دور میں طالبات کے لئے کالج نہ ہونے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اور عوامی نمائندوں کو نوجوانوں بالخصوص لڑکیوں کی تعلیم سے کوئی دلچسپی نہیں ہے حالانکہ جس معاشرہ میں عورتیں تعلیم یافتہ ہوتےہیں در حقیقت وہی معاشرہ ترقی یافتہ ہوتے ہوتاہےمگر افسوس ہمارا ایک گرلز کالج ہے جوکہ 18 سال سے اپنے عمارت کی تعمیر کا منتظر ہے، ایک مرد اگر تعلیم یافتہ ہوتاہے تو وہ اپنے ذات کیلئے ہوتاہے اگر ایک عورت تعلیم یافتہ ہوتی ہے تو وہ اپنے ساتھ ساتھ اپنے آنے والے نسلوں کیلئے ہوتی ہےانھوں نے وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان،صوبائی وزیر تعلیم سرداریارمحمدرند، رکن صوبائی اسمبلی نوابزادہ میرنعمت اللہ خان زہری سے اپیل کی ہے طلباء اور طالبات کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے اور دور جدید کے چیلیجوں کا مقابلہ کرنے اور ضلع کا نام روشن کرنے کے لئے سوراب کے گرلز کالج کو بحال کرنے میں اپنا کردار ادا کریں،


