قوم پرست جماعتوں نے ہمیشہ یکطرفہ موقف کو فروغ دیا، برمش واقعے پر آواز اٹھایا جبکہ بالگتر میں زخمی بچے کیلئے کسی نے آواز بلند نہیں کی،ظہور بلیدی

کوئٹہ:وزیرخزانہ بلوچستان میر ظہور بلیدی، سیاسی جماعتوں، وکلاء، صحافی رہنماؤں سول سوسائٹی کے نمائندوں نے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر اسکی روح کے مطابق عملدآمد نہ ہونے کی وجہ انتہاء پسندی مختلف شکلوں میں موجود ہے،نیشنل ایکشن پلان پر اسکی روح کے مطابق عملدآمد اور نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے دہشتگردی کے ناسور کے خاتمے کے لئے معاشرے کے تمام طبقات کو ایک دوسرے کو اعتماد میں لیکر مشترکہ کاوشیں کرنے کی ضرورت ہے۔یہ بات صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور بلیدی، رکن صوبائی اسمبلی نصر اللہ زیرے، پروگرام کور آرڈینیٹر ایف ای ایس ہمایوں خان، ڈائریکٹر پیپس عامر رانا، ڈائریکٹر پاکستان اسٹڈی سینٹر جامعہ کراچی ڈاکٹر جعفر، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر شہزادہ ذوالفقار، بلوچستان بار کونسل کے چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی راحب بلیدی،عبداللہ ڈایو،ہیومن رائٹس کمیشن بلوچستان کے حبیب طاہر، عبدالمتین اخونزادہ، راحت ملک، فائزہ میر،ڈاکٹر لعل خان کاکڑ، سابق رکن صوبائی اسمبلی یاسمین لہڑی، سبوخ سید و دیگر نے ہفتہ کو فریڈک ایبرٹ سٹیفٹنگ کے زیر اہتمام پاکستان میں گورننس کو مستحکم کرنے، نیشنل ایکشن پلان کا انسداددہشتگردی وانتہاء پسندی میں کردار اورسپر یم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پاکستان میں دہشتگردی کی تعریف پر تیار کی جانے والی رپورٹ کی تقریب رونماء کے موقع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان ایک اچھا اقدام تھا لیکن اس پر اسکی روح کے مطابق عملدآمد نہیں ہوسکا جسکے مختلف محرکات ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں شورش قوم پرستی، قبائلیت، مذہبی اور لسانی بنیادوں پر ہے تشدد جس بھی شکل میں ہو وہ دہشتگردی ہے بلوچستان میں قوم پرستوں، سیاسی جماعتوں،الیکٹ ایبلز نے کبھی بھی اسٹیٹس کو کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کی کیونکہ یہ انکے فائدہ میں ہے بلوچستان میں محرومیت، غربت، فسادات، سمیت دیگر وجوہات کی باء پر دہشتگردی پروان چڑھی من حیث القوم ہم سب نے اپنے موقف پر زور دیا اور اسے ہی درست سمجھا جبکہ دوسرے فریقین کے موقف پر توجہ نہیں دی انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے جنوبی علاقوں میں 2ہزار سے زائد لوگ دہشتگردی کی وجہ سے لقمہ اجل بنے اور ان میں زیادہ تر لوگوں کے قاتل گرفتار نہیں ہوئے تربت میں ایک معمر خاتون کو اس لئے قتل کیا گیا کہ وہ اپنے پوتے کو مذاحمت کاروں سے رہا کروانے گئی، ملک ناز ڈکیتی میں شہید جبکہ برمش زخمی ہوئی اس واقعہ پر تمام قوم پرست جماعتوں نے آواز اٹھائی اسی کے چند دن بعد بالگتر میں اسما ء نامی بچی کوبھی فائرنگ کرکے زخمی کیا گیا لیکن کسی جماعت نے آواز بلند نہیں کی، پروم میں خاتون اور اسکے شوہر کوبے دردی سے قتل کیا گیا مگر اس پر بات نہیں کی گئی قوم پرست جماعتوں نے یک طرفہ موقف کو ہمیشہ فروغ دیا جسکی وجہ سے مسائل جوں کے توں ہیں اور یہی انکے فائدے میں جاتا ہے انہوں نے کہا کہ ہماری عوام کی یاداشت کمزور ہے وہ کچھ عرصے بعد چیزیں بھول جاتی ہے جو لوگ بلوچستان کی محرومیوں کا پرچار کرتے ہیں جس طرح وہ اپنے علاقے میں حکومت کرتے اور انکا رویہ دیکھا جائے تو معلوم ہو جائیگا انکا وژن صرف اور صرف باتوں کی حد تک محدود ہے انہوں نے کہا کہ برسراقتدار رہنے والوں نے کبھی بھی بلوچستان کے حقیقی مسائل پر کوئی جامع پالیسی نہیں دی جسکی وجہ سے صوبہ آج اس نہج پر پہنچ گیا ہے انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے ناسور کے خاتمے کے لئے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا جب اسٹیٹس کو ٹوٹے گا اس کے بعد مسائل حل ہونگے۔میر ظہور بلیدی نے کہا کہ جو لوگ بات چیت کرنے کے لئے تیار ہیں اور صوبے کے عوام کے حقوق اور بنیادی مسائل کا حل چاہتے ہیں ان سے ضرور بات ہونی چاہیے لیکن جو لوگ عوام کے معاشی اور معاشرتی حالات بہتر کرنے کی بجائے اپنے ماضی کے نظام بحال اور ذاتی فائدہ چاہتے ہیں تو ان سے بات کرنے کا فائدہ نہیں ہوگا انہوں نے کہا کہ ڈیرہ بگٹی کے لوگ اعتراف کرچکے ہیں انکا مسئلہ پی پی ایل سے تھا انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے صوبے کے شورش زدہ علاقوں کے لئے اب تک 200ارب روپے کے پیکج کی سفارشات پر عملدآمد شروع کردیا ہے جس سے ان علاقوں میں بہتری آئیگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں