گڈانی شپ بریکنگ یارڈ,120گھنٹے گزرنے کے بعد بھی انکوائری رپورٹ مکمل ہوسکی
حب(نمائندہ انتخاب) گڈانی شپ بریکنگ یارڈ پلاٹ نمبر 60مشتبہ مواد سے بھرے بحر ی جہاز ” چیئرش” کی تحقیقات کرنے والے متعلقہ سرکاری اداروں میں رابطوں کا فقدان جہاز کی بیجنگ سے مشتبہ مواد کے انکشاف کی خبروں تک معاملے پر ایک دوسرے پر اعتماد سازی فضا قائم نہ ہوسکی 120گھنٹے گزرنے کے بعد بھی انکوائری رپورٹ مکمل ہوسکی اور نہ ہی جہاز میں مبینہ طور پر موجود کیمیائی مواد کی تجزیاتی رپورٹ مل سکی متعلقہ اداروں کی طرف سے ایک دوسرے سے معاملات چھپائے جانے لگے ،کسٹم نے ادار ہ تحفظ ماحولیات کو کسٹم رپورٹ آفیشل لیٹر کے بغیر دینے سے انکار کردیا جبکہ BDAنے سیل پلاٹ کو EPAکی جانب سے 3بار ڈی سیل اور پھر سیل کرنے پر اعتراضات اٹھادیئے اس سلسلے میں بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ بحر ی جہاز کے حوالے سے انٹرپول کی آگاہی رپورٹ کے جاری کرنے کے 3دن بعد گڈانی شپ بریکنگ یارڈ کے پلاٹ نمبر 60پر لنگر انداز جہازکی رپورٹ EPAکے دعوے کے مطابق 24مئی کو ملتی ہے تب دوسرے دن پھر 25مئی EPAکی جانب سے پلاٹ کو سیل کرنے کے اقدامات اٹھائے جاتے ہیں اور اسی دن BDAنے جہاز کی نال کٹنگ کی بغیر اطلاع پر شپ بریکنگ کمپنی پر جرمانہ عائد کیا جاتا ہے اور پلاٹ کو سیل کرنے کی کاروائی کی جاتی ہے جبکہ اس سے قبل ای پی اے بلوچستان کی جانب سے نال کٹنگ کی اجازت (IEER) انیشل انوائرمینٹل ایگزامنینیشن رپورٹ جاری کرنے سے پہلے ای پی اے کے افسران جہاز کا معائنہ کرتے ہیں اسکے بعد جہاز میں موجود مواد کے نمونے بھی لیئے جاتے ہیں ذرائع کے مطابق تو پھر اس وقت مذکورہ ادارے کو جہاز میں موجود مواد کے خطرات کا اندازہ کرنے سے کن عوامل نے روکا یا پھر EPAان تمام حالات اور معاملات سے بے خبر رہا جبکہ 25مئی کو مبینہ حقائق طشت ازبام ہو نے کے بعد اب تک 6دن گزرنے کے باوجود 2016ء کے شپ بریکنگ یارڈ کے تباہ کن حادثے کے بعد بنائی گئی ایس او پیز کی روشنی میں متعلقہ سرکاری ادارے EPA،بی ڈی اے ،؛لیبر ڈیپارٹمنٹ اور مقامی انتظامی افسران مذکورہ جہاز کا مشترکہ معائنہ کیوں نہ کر سکے ہیں دوسر ی جانب صوبائی حکومت کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر لسبیلہ کی جانب سے اے ڈی سی )(جنرل) کی سربراہی میں جو انکوائری کمیٹی 26مئی کو تشکیل دی گئی اس کمیٹی کو 48گھنٹوں میں رپورٹ مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی تھی اور تما م متعلقہ اداروں کے شپ بریکنگ یارڈ کی طے شدہ ایس او پیز میں کردار کا پتہ لگانے کی ہدایت بھی دی گئی ہے لیکن اب تک 120گھنٹے گزرنے کے باوجود نہ انکوائری رپورٹ سامنے آسکی ہے اور نہ ہی سرکاری لیبارٹری سے جہاز کے اندر موجود مبینہ مواد کی تجزیاتی رپورٹ آسکی ہے ذرائع بتاتے ہیں کہ متعلقہ سرکاری اداروں میں رابطوں اور اعتماد سازی کے فقدان سمیت ایک دوسرے سے معاملات راز میں رکھنے کی وجہ سے معاملات سردخانے کی نذر ہونے کے خدشات کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا ذرائع کے مطابق مذکور ہ جہاز کے بیچ ہونے پر گڈانی کسٹم ہائوس نے کسٹم ڈیوٹی کے حوالے سے جو رپورٹ ترتیب دی ہوگی اس میں جہاز کے اندر جو کچھ ہو گا اس میں ضرور ذکر ہونا چاہئے لیکن گڈانی کسٹم نے EPAکو مذکورہ رپورٹ آفیشل لیٹرکے بغیر دینے سے انکار کردیا ہے ذرائع مزید بتاتے ہیں کہ ایک ہفتہ سے گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں لنگر انداز مذکورہ بحری جہاز کے ایشو پر نہ صرف ملکی ادارے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ایک تہلکہ مچا ہو الیکن لسبیلہ انتظامیہ کی جانب سے مکمل خاموشی ہے نہ میڈیا سے کوئی بات شیئر کی جارہی ہے اور نہ ہی مذکورہ معاملے پر کوئی بات سرکاری سطح پر سامنے لائی جارہی ہے تاکہ مذکورہ جہاز کا اونٹ کسی کروٹ تو بیٹھ سکے اس معاملے کے حقائق کو سامنے لاکر اگر کوئی ادارہ یا پھر شپ بریکر کی غفلت اور قصور کا تعین ہوسکے


