وزیر اعلیٰ کا اسپیکر پر عدم اعتماد تبدیل کرنے کا امکان
مقدمات درج ہونے کے بعد اجلاس بلوانا مذاق اُڑانے کے مترادف ہے، مشاورت کے بعد گرفتاریاں دے سکتے ہیں حزب اختلاف،سپیکر کے بلائے گئے اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کی عدم شرکت،قدوس بزنجو کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک آنے کا امکان کو ئٹہ اسپیکر بلوچستان اسمبلی کی اپوزیشن اور حکومت کے پارلیمانی لیڈران کو اکھٹا کرنے کوششیں بے سود،اپوزیشن کابائیکاٹ اسپیکر پر جانبداری کاالزام عائد کردیا،مشاورتی نشست میں حکومتی اتحادی جماعتوں میں سے صرف سرداریارمحمدرند نے شرکت کی۔گزشتہ روز اسپیکر بلوچستان اسمبلی میں بلوچستان اسمبلی میں پیش آنے والے ناخوشگوارواقعہ کے بعد معاملات کو افہام وتفہیم کے ذریعے حل کرنے کیلئے تمام پارلیمانی جماعتوں کااجلاس طلب کرلیا تھا تاہم اسپیکر بلوچستان کی جانب سے طلب کئے گئے مشاروتی اجلاس میں کوئی پارلیمانی لیڈر پہنچ نہ سکاتین گھنٹے گزر جانے کے باوجود پارلیمانی لیڈران مشاورتی اجلاس میں پہنچ نہ سکے مشاروتی اجلاس میں شرکت کے لئے صرف پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند اسمبلی پہنچے،اسپیکر کہ جانب سے حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز کو مشاورتی اجلاس کے لیے طلب کیاگیا تھا مشاورتی اجلاس میں گزشتہ دنوں اسمبلی میں ہنگامہ آرائی،بجٹ سیشن سے متعلق مشاورت کی جانی تھی اپوزیشن نے مشاروتی اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا۔کوئٹہ وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان سے حکومتی و اتحادی جماعتوں کے اراکین نے یہاں وزیراعلی ہاؤس میں اتوار کے روز ملاقات کی۔ ملاقات میں گزشتہ چند دنوں اور خاص طور پر بجٹ سیشن کے موقع پر اپوزیشن کی جانب سے ہنگامی آرائی سمیت دیگر اہم سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز نے بجٹ سیشن کے موقع پر اسمبلی میں رونما ہونے والے واقعے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ اتحادی ارکان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کے اس رویے سے پورے ایوان کا استحقاق مجروح ہوا ہے۔ حکومتی و اتحادی جماعتوں کے ارکان کی جانب سے اسپیکر بلوچستان اسمبلی کی جانب سے بلاے گے پارلیمانی لیڈرز کے اجلاس میں احتجاجاً شرکت نہ کرنے پر اتفاق کیا گیا ارکان نے کہا کہ ہم صوبے کی روایات کے امین ہیں ان روایات کو کسی صورت پامال ہونے نہیں دیں گے۔ اتحادی ارکان اسمبلی میں پیش آنے والے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا اگر اسپیکر اپنا کردار بہتر اور ذمہ دارانہ انداز میں ادا کرتے تو یہ نوبت کبھی نہیں آتی۔ اسپیکر اسمبلی اور اسمبلی حکام کے غیر ذمہ دارانہ رویہ اور طرز عمل کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی۔ اس عمل سے نہ صرف بجٹ سیشن متاثر ہوا بلکہ اسمبلی کا تقدس بھی پامال ہوا۔ اس موقع پر وزیراعلی نے اتحادی ارکان کے تحفظات غور سے سنے اور کہا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی ہم سب کی مشترکہ ذمداری ہے۔ بلوچستان کی تاریخ میں ایسا واقع رونما نہیں ہوا۔ اس واقعے کی ہم سب شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس ایوان پر ہم سب کو فخر ہے اس کے تقدس کو اپوزیشن نے پامال کیا۔ وزیراعلی بلوچستان نے اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز کو یقین دلایا کہ وہ اس معاملے کو بلوچستان عوامی پارٹی کی سطح پر بھی اٹھائیں گے۔ْ
تیسرا انٹرو


