مستونگ میں خواتین اساتذہ پر فائرنگ بلوچستان کی قبائلی اور معاشرتی رواایت کے منافی ہے، ثمینہ ممتاز زہری

کوئٹہ:مستونگ میں خواتین اساتذہ پر فائرنگ بلوچستان کی قبائلی و معاشرتی روایات کے منافی ہے ان خیالات کا اظہار سینیٹر ثمینہ ممتاز نے مستونگ میں خواتین اساتذہ پر فائرنگ کے واقعہ پر اپنے مذمتی بیان میں کیا انہوں نے کہا کہ مستونگ واقعہ انتہائی افسوسناک اور بلوچستان کی اقدار کے خلاف ہے کسی بھی معاشرے میں خواتین کی تعلیم نہایت اہمیت رکھتی ہے اس گھناؤنے عمل اور واقعہ کو بلوچستان کی سماجی روایات اور اسلامی اقدار کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مستونگ واقعہ کا مقصد خواتین کو تعلیم سے دور رکھنا ہے جسے ہم کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے انہوں نے کہا کہ ہمارا دین اسلام امن کا دین ہے اور اسلام میں خواتین کا بہت اعلیٰ مقام ہے اور قبائلی و بلوچی روایات مکمل طور پر اسلام اور شریعت کے مطابق ہیں اس میں خواتین کے حقوق اور احترام کو فوقیت دی گئی ہے انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے بلوچستان تعلیم خصوصاً بچیوں کی تعلیم میں کافی پیچھے ہے اور اس طرح کے غیر روایتی اور ناقابل قبول حرکتوں سے تعلیم کو مزید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم انہوں نے کہا کہ خواتین اساتذہ پر فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہیں اور واقعہ میں ملوث افراد کو جلد از گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے انہوں نے مزید کہا کہ واقعہ بلوچستان کو جہالت کے اندھیروں میں دھکیلنے کے لئے ایک سازش ہے تاکہ خواتین گھروں سے نہ نکلیں اور تعلیم جیسے زیور سے آراستہ نہ ہوں ہماری نڈر اور بہادر بچیاں کسی بھی طرح کسی سے پیچھے نہیں ہماری بچیاں تعلیم کے زیور سے ضرور آراستہ ہوں گی اور اس طرح کے بزدلانہ واقعا ت قوم کی بہادر،خواتین اور بچیوں کے حوصلے پست نہیں کر سکتے انہوں نے کہا اس عزم کا اظہار کیا کہ گھٹیا ذہنیت رکھنے والے عناصر کو کبھی ان کے مذموم مقصد میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں