پنجگور اور نوکنڈی میںپیٹرول کا بحران، کئی جگہ 5 سو روپے فی لیٹر پر فروخت، اسکول وینز عدم دستیابی پر رک گئیں
پنجگور (نامہ نگار) پنجگور میں پیٹرول کا بحران شدت اختیار کرگیا، مارکیٹ سے تیل غائب، چند ایک مقامات پر فی لیٹر پانچ سو روپے میں فروخت ہونے لگا، شہر کے بیشتر علاقوں میں پیٹرول دستیاب نہیں۔ دوسری جانب رجسٹرڈ پیٹرولیم سروس غیر فعال ہیں جن میں ملکی پیٹرولیم دستیاب نہیں، لوگ گزشتہ کئی سال سے ایرانی پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کررہے تھے مگر اب علاقے میں ایرانی پیٹرولیم کی عدم دستیابی سے شہری مشکلات کا شکار ہیں۔ پیٹرول کی عدم دستیابی سے ہر شعبہ زندگی متاثر ہے۔ ٹیچرز، اسٹوڈنٹس، ڈاکٹرز سمیت پیرا میڈیکل اسٹاف اور عام ملازمین کو ڈیوٹی پر جانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اسکول وینز تیل کی عدم دستیابی پر رک گئی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ فوری طور پر رجسٹرڈ پیٹرولیم سروس کو ملکی تیل لانے کا پابند کیا جانے، تیل کے بحران کے خاتمے کے لیے پنجگور بارڈر سے پیٹرولیم مصنوعات لانے کی اجازت دی جائے۔ تیل کا بحران اسی طرح جاری رہا تو روز مرہ کا نظام زندگی شدید متاثر ہوگا۔ علاوہ ازیں سرحدی شہر نوکنڈی میں ایرانی پیٹرول کی عدم دستیابی کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔شہر میں پیٹرول تقریباً ناپید ہو چکا ہے، جبکہ جہاں محدود مقدار میں دستیاب ہے وہاں اس کی قیمت عام شہریوں کی قوت خرید سے کہیں زیادہ ہوچکی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس وقت نوکنڈی میں ایک لیٹر پیٹرول 450 روپے تک فروخت کیا جا رہا ہے، جس کے باعث روزمرہ سفر، کاروباری سرگرمیوں اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قلت نے نہ صرف عام زندگی کو متاثر کیا ہے بلکہ مزدور طبقہ، طلبہ اور چھوٹے کاروباری افراد بھی شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نوکنڈی کے قریب راجے گزر کے راستے پیٹرول کی ترسیل کا فوری آغاز کیا جائے تاکہ نوکنڈی سمیت پورے ضلع چاغی میں پیٹرول کی دستیابی بہتر ہو اور قیمتوں میں استحکام پیدا کیا جا سکے۔ شہریوں کے مطابق اگر متبادل سپلائی روٹس فعال کیے جائیں تو پیٹرول کی مصنوعی قلت اور منافع خوری پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔ شہریوں نے متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ عوامی مشکلات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے پیٹرول کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ لوگوں کو مہنگے داموں ایندھن خریدنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔


