پشتونخوامیپ کا عثمان کاکڑ کی شہادت کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ
کوئٹہ:پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ کے جاری کردہ بیان میں پارٹی کے مرکزی سیکرٹری وصوبائی صدر ملی اٹل شہید محمد عثمان خان کاکڑ کی نماز جنازہ کی تاریخی تعزیتی اجتماع میں صوبے وملک کے تمام سیاسی پارٹیوں کے قائدین، رہنماؤں، قبائلی زعما، علماء کرام ہر پیشہ اور ہر شعبہ زندگی وہر مکتبہ فکرکے نمائندوں اور صوبے وملک کے عوام کی لاکھوں کی تعداد شرکت پر سب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ صوبے کی تاریخ کے اس فقید المثال تعزیتی اجتماع نے ثابت کردیا ہے کہ شہید محمد عثمان خان کاکڑ پشتون قومی سیاسی تحریک کے عظیم رہنماء اور ملک کے محکوم اقوام ومظلوم عوام کے حقوق واختیارات کے حصول کے علمبردار اور ملک بھر کے مظلوموں کے موثر آواز تھے۔اس عظیم تعزیتی اجتماع نے یہ بھی ثابت کیا کہ شہید محمد عثمان خان کاکڑ تمام محکوم قوموں اورتمام مظلوم عوام کے محبوب رہنماء تھے جنہو ں نے اپنی زندگی میں بلا رنگ ونسل،بلا مسلک وعقیدہ کے ستم دیدہ وتباہ حال عوام کے حق میں موثر آواز اٹھائی۔ 17جون کے شام کو ان کے گھر میں اُن پر استعماری قوتوں نے جو بے رحمانہ اور جان لیوا حملہ کیا اس کے بعد کوئٹہ اور کراچی میں ان کے علاج کے دوران پشتون بلوچ صوبے بلوچستان،سندھ وکراچی اور ملک کے عوام نے جس کثیر تعداد میں ان کی عیادت کی اورتمام ملک ودنیا بھر میں ان کی صحتیابی کیلئے دعاؤں اور خیراتوں کا جو سلسلہ چلا اور پھر جام شہادت نو ش کرنے کے بعد جب کراچی سے کوئٹہ تک 22جون کو ان کی جنازے کے جلوس کا حب سے کوئٹہ تک صوبے کے بلوچ اور پشتون عوام اور تمام سیاسی پارٹیوں کے قائدین اور ہر مکتبہ فکر کے نمائندوں نے جس والہانہ انداز سے استقبال کیا اور ان کی میت پر عقیدت واحترام کے پھول نچاور کیئے اور 23جو ن کو کوئٹہ سے ان کے آبائی شہر مسلم باغ تک ان کے جنازے کے جلوس کا جس احترام وعقیدت کے ساتھ استقبال کیا گیا اور پھر ان کی نماز جنازہ اور تدفین کے فقید المثال تاریخی تعزیتی اجتماع میں لاکھوں کی تعداد میں ملک بھر کے تمام علاقوں سے آنیوالی عوام،سیاسی ومذہبی رہنماؤں، قبائلی وسماجی مشران وشخصیات او رہر مکتبہ فکر کے نمائندوں کی شرکت نے یہ ثابت کیا کہ شہید رہنماء بلند وبالا مقام کے عامل کردار اور قومی شخصیت تھے۔ ملی اٹل شہید عثمان خان کاکڑکی شہادت کے عظیم سانحہ پر محکوم قوموں اور مظلوم عوام کی تمام جمہوری قوتوں نے باہم ملکر شہید کے استعماری قاتلوں کے خلاف مذمت اور نفرت کے اظہار کیلئے جس اتحاد واتفاق اور یکجہتی کا جو مظاہرہ کیا ہے وہ بے مثال ہے۔ تاریخی تعزیت اجتماع سے بخوبی یہ واضح ہوتا ہے کہ ملک کے عوام کی جمہوری قوتوں کا متفقہ ومشترکہ مطالبہ یہ ہے کہ شہید رہنماء محمد عثمان خان کاکڑ کی شہادت کے سانحہ کی اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات کی جائے اور ان کے قاتلوں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔بیان میں شہید رہنماء کی سوگ میں صوبے میں تمام کاروبار بند کرنے پر تمام تاجر برداری ان کی تنظیموں اور ان کی طرف سے تعزیتی جلوسوں وتعزیتی اجتماع میں بھرپور تاریخی شرکت پر تہہ دل سے شکریہ ادا کیا گیا ہے اور صوبے بھر کے ٹرانسپورٹروں کی جانب سے تعزیتی اجتماع میں شرکت کرنیوالے عوام کو ٹرانسپورٹ کی مفت سہولت فراہم کرنے پر شکر گزار ہیں اوروکلاء برادری کے تنظیموں کے احتجاج، ہڑتال، سوگ اور ٹیچرز ایسوسی ایشن کی جانب سے سوگ کے اعلانات پر ان کا شکریہ ادا کیا گیا ہے۔اور حب سے کوئٹہ و کوئٹہ سے مسلم باغ جاتے ہوئے شہید رہنماء کے میت کے استقبال کیلئے مختلف مقامات پر خواتین اور سکول کے بچوں کی جانب سے ان کے استقبال کرنے پر شکر گزار ہیں۔ پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری وصوبائی صدر شہید رہنماء محمد عثمان خان کاکڑ کی فاتحہ خوانی ان کے آبائی شہر مسلم باغ میں ان کی رہائش گاہ پر جاری ہے۔ جس میں آج مختلف سیاسی رہنماؤں، پارلیمنٹرینز، قبائلی معتبرین، علماء کرام، ادیبوں، شاعروں،تاجروں، وکلاء، آفیسروں، ٹرانسپورٹروں سمیت مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کیں۔ اس موقع پر جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل سنیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے شہید رہنماء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم سینٹ میں 6سال ساتھ رہے۔ انہوں نے سینٹ میں صف اول کا کردار ادا کیا اور آج اس سانحہ کے باعث ایسا محسوس کررہا ہوں کہ اپنے آپ سے تعزیت کررہا ہوں۔ پی ڈی ایم کی تشکیل کے بعد ملکر ایک جماعت کے ساتھیوں جیسا جدوجہد اور کام کیا،سینٹ میں شہید رہنماء عثمان خان کاکڑ کی تقریر ہمیشہ مشعل راہ تھی بلکہ قابل توجہ بھی تھی۔وہ ہم میں نہ رہے اور ہم نے بھی جانا ہے لیکن جس جرات اور بہادری کے ساتھ انہوں نے جدوجہدکرتے ہوئے زندگی گزاری وہ قابل تحسین اور قابل تقلید ہے۔ انہوں نے ہمیشہ حق کو حق سمجھ کر کہا اور دلیل کے ساتھ کہا۔ انہو ں نے ہر کسی کے سامنے انتہائی جرات کے ساتھ حق کی گفتگو کی اور یہ نہیں دیکھا کہ میری گفتگو سے کون ناراض ہورہے ہیں اور کون خوش ہورہے ہیں بلکہ حق کا ساتھ دیتے رہے۔ ہمیں امید ہے کہ پارٹی ان کا نعم البدل فراہم کریگی اور آپ سب پارٹی اور خاندان کو جو صدمہ پہنچا ہے جمعیت علمائے اسلام آپ کے ساتھ اس غم میں برابرکی شریک ہیں۔ مولانا فضل الرحمن صاحب نے بھی پیغام دیا ہے جو آپ کے ساتھ شریک کررہا ہوں۔ فاتحہ خوانی کے اس موقع پر ممتاز عالم دین حافظ محمد یوسف صاحب آپ چمن میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے آج یہاں حاضری یہاں آپ کی پارٹی اور خاندان کے ساتھ اس غم میں برابر کے شریک ہونا ہے۔ شہید محمد عثمان خان کاکڑ صرف ہمارے اور آپ کے نہیں بلکہ تمام بلوچستان کے سیاسی رہنماء اور خدمتگار تھے۔ انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں ان کی شہادت کے باعث جو خلا پیدا ہوا ہے وہ پُر کرنا مشکل ہے لیکن سوشل میڈیا پر ان کے بیٹے خوشحال خان کو سُنا ہے امید ہے کہ وہ اپنے عظیم والد کی طرح اپنی قوم کی خدمت کرینگے ان کی شہادت کے غم میں ہم سب شریک ہیں۔ ہمارے مدرسے میں ان کیلئے اجتماعی قرآن ختم اور دعا ہوئی ہم اُس کے خاندان،پارٹی ذمہ داران تمام کے ساتھ تعزیت کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ وطن میں ایسے المناک واقعات مزید قابل برداشت نہیں۔ فاتحہ خوانی کے اجتماع سے سنیٹر نصیب اللہ بازئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عثمان خان کاکڑ کے شہادت کا واقعہ انتہائی افسوسناک اور غمناک ہیں جو انسان کے سر کو چکرا دیتا ہے وہ ایک فرد کا نام نہیں بلکہ نظریہ تھا اور ہے۔ کوئٹہ یونیورسٹی میں طالب علمی کے دور سے اُسے جانتا ہوں پاکستان پروگریسو سٹوڈنٹس الائنس (PPSA)کی تحریک میں ان کا تاریخی کردار تھا میری اپنی بیماری کے موقع پر میرے گھر آئے اور مجھے صحت مند رہنے کیلئے نصیحت کرتے رہے۔اور وہ اپنے نظریات کے ساتھ پرعزم شخصیت تھے اور وہ ہر کام انتہائی ایمانداری کے ساتھ سرانجام دیتے تھے اور جو لوگ ایماندار ہوتے ہیں عثمان لالا شہید اُس کی بہترین مثال ہیں۔ ان کے واقعہ کی خبر ہونے کے بعد سینٹ کے چیئرمین سمیت سب سے رابطے میں رہا اور عثمان لالا شہید کے تعزیتی اجتماع میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت قابل دید تھی۔ اس عمر میں اس عزت کا مقام قابل تحسین ہیں۔ سینٹ میں ان کا کردار ہمیشہ بہت اعلیٰ رہا۔ شہید عثمان خان نے سینٹ کی پسماندہ علاقوں کی سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے ملک کے چہاروں صوبوں گلگت بلتستان سمیت تمام غریب علاقوں کے دورے کیئے اور سارے ملک کے پسماندہ علاقوں کیلئے تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی سمیت مختلف منصوبے تجویز کیئے اور ایک تاریخی دستاویزی رپورٹ تیار کرکے سینٹ کے سامنے رکھااور بلا تمیز ان تمام علاقوں کے مسائل حل کرنیکی جدوجہد اور کوششیں کیں۔ ہم اور آپ کو بھی شہید رہنماء کی طرح کوششیں کرنی چاہیے، عثمان خان مرے نہیں بلکہ زندہ ہیں اور اس انسان میں کوئی بھی منفی سوچ نہیں تھی بلکہ وہ بہت بڑے رہنماء تھے میں ان کے تمام ساتھیوں اور خاندان سے تعزیت کرتا ہوں۔


