ملک کومشکلات کے دلدل سے نکالنا کمزور بیساکھیوں پر کھڑی حکومت کے بس کی بات نہیں،مولانا حیدری

سوراب: جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکریٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ ملک کومشکلات کے دلدل سے نکالنا کمزور بیساکھیوں پر کھڑی حکومت کے بس کی بات نہیں،پی ڈی ایم خاموش یا کمزور نہیں ہوئی، سوات کے کامیاب جلسہ سے حکومت کی چیخیں نکل چکی ہیں،،پی ڈی ایم سیراہیں جدا کرنے کی خواہش رکھنے والوں کو بہت جلد اپنے فیصلے کااحساس ہوگا، سوات میں اپوزیشن کے کامیاب جلسہ سے صرف حکومت ہی نہیں پی پی بھی ورطہ حیرت میں پڑچکی ہے، یہ سیلاب رکنے والا نہیں اب اگلا پڑاؤ کراچی ہے، قوم سے وعدہ کرچکے ہیں کہ انہیں نااہل مسلط ٹولے سے نجات دلاکر دم لیں گے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے مدرسہ معراج العلوم کلی سرخ سوراب میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا، مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت عوام کی حمایت اور اپنی حیثیت کھوچکی ہے،اکثریت نام کی کوئی چیز اس کے پاس نہیں محض ضد کی کمزور اور مصنوعی بیساکھیوں پر کھڑی ہے، حکمرانوں کی نااہلی کے سبب ملک میں مہنگائی اوربیروزگاری آسمان کو چھورہی ہے چالیس فیصد پاکستانی غربت کی تشویشناک لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں مگر ان کی حالت زار پر توجہ دینے کے لئے کوئی سنجیدہ نہیں، قوم کو مشکلات کی اس بھنور سے صرف پی ڈی ایم میں شامل حقیقی سیاسی جماعتیں نکال سکتی ہیں، آئندہ حکومت اپوزیشن جماعتوں کی ہے، انہوں نیکہا کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت آئے روز مختلف متنازعہ بل پیش کرکے ہمارے دینی، معاشرتی اقدار پر وار کیا جارہا ہے، شرعی احکامات سے متصادم قوانین کسی صورت قبول نہیں، قوم کو یقین دلاتے ہیں کہ ایوان میں اکثریت نہ رکھنے کے باوجود متنازعہ بلوں کے خلاف آخری حد تک مزاحمت کرکے لادین قوتوں کے منصوبوں کو ہر صورت بے نقاب کریں گے، جلسہ عام سے پی ڈی ایم کے سیکریٹری اطلاعات سابق سینیٹر حافظ حمداللہ، معروف عالم دین مولانا ڈاکٹر منظور احمد مینگل، پنجاب کے نامور مبلغ مولانا محمد عمر راجن پوری جمعیت علماء اسلام کے مرکزی نائب امیر مولانا قمرالدین حافظ محمد نصیب مینگل،چیف آف قلندرانی سردار علی محمد قلندرانی مولانا عنایت اللہ رودینی جے یوآئی سوراب کے ضلعی امیر مولانا عبدالرحمن ساسولی حافظ محمد قاسم لہڑی معروف نعت خواں حافظ غلام اللہ سمیت نامور علماء کرام نے خطاب کیا، جلسہ عام میں سوراب سمیت مختلف علاقوں سے ہزاروں افراد نے شرکت کی، آخر میں قرآنِ مجید حفظ مکمل کرنے والے طلباء کرام کی دستار بندی کی گئی اور انہیں اسناد سے نوازا گیا

اپنا تبصرہ بھیجیں