آغا حسن کا احتجاجاً قائمہ کمیٹی کی چیئرمین شپ سے مستعفی ہونے کا اعلان

اسلام آباد:بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی)کے رکن اسمبلی آغا حسن بلوچ نے کہا ہے کہ صدر عارف علوی کو ووٹ دینے سے پہلے نقاط دیئے تھے کہ آپنے بلوچستان کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرنا ہے اور ہماری آواز ایوان میں بلند کر نا ہے لیکن صدر بننے کے بعد انہوں نے ہماری آواز بلند نہیں کی ہم نے وزیراعظم کو بھی 4 ضروری ووٹ دیئے لیکن انہوں نے 6 نقاط کو پس پشت پھینک دیا جب ہمارے مسائل حل نہیں کئے گئے تو آج ہم اپوزیشن بینچ پر بیٹھ کر اپنے لوگوں کی آواز بلند کر رہے ہیں۔ گوادر کیلئے ایک کمیٹی بنائیں جس میں اپوزیشن اور حکومتی اراکین شامل ہوں وہ گوادر آئیں اور دیکھیں کہ گوادر میں صاف پانی تک میسر نہیں ہے بنیادی ضروریات تک موجود نہیں ہیں۔ آواز بلند کرنے والوں پر جھوٹے مقدمات بنا کر پابند سلاسل کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کو حل کریں اور افغان مہاجرین کیلئے بھی اقدامات کریں اور انہیں باعزت طریقے سے اپنے ملک بھیجا جائے انہوں نے کہا کہ گوادر میں غیر ملکی افراد آکر غیر قانونی شکار کر رہے ہیں لوگوں کیلئے مشکلات بڑھا رہے ہیں۔انکا کہنا تھا کہ سی پیک بنانے سے پہلے اپنے گوادر کے لوگوں کو بجلی اور پانی دیں۔ہمارے 4 ووٹوں کی وجہ سے عمران خان وزیراعظم بنے ہمیں یقین دہانی کروائی گئی کہ آپکی ناراضگی دور کریں گے لیکن ہم ان سے مایوس ہوئے۔بلوچستان نیشنل پارٹی کے ساتھ ناروا سلوک کیا جارہا ہے تمام پارٹیوں کے اراکین کسی نہ کسی کمیٹی کے ممبر ہیں لیکن ہمارے اراکین کو ایک ایک کر کے نکال دیا گیا آج میں بھی اپنی کمیٹی سے استعفیٰ دینے کا اعلان کرتاہوں۔ممبر قومی اسمبلی محسن داوڑ نے کہا کہ آغا حسن کی پارٹی کا حق ہے کہ انہیں کمیٹی کی رکنیت دی جائے ہم بھی اپنا ووٹ انہیں ہی دیں گے

اپنا تبصرہ بھیجیں