حکومت ناراض بلوچوں سے مذاکرات کی وضاحت کرے،سینیٹر غفور حیدری
اسلام آباد:جمعیت علمائے اسلام کے رہنما سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ حکومت ناراض بلوچوں سے مذاکرات کی وضاحت کرے،آج ملک میں پشتون اور سرائیکی سمیت تمام طبقے ناراض ہیں،بلوچستان کو جان بوجھ کر پسماندہ رکھا گیا ہے،تیل وگیس اور سونے کے ذخائر سے مالامال صوبے بلوچستان کے عوام کی محرومی کا ازالہ کرنے کیلئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔منگل کے روز سینیٹ اجلاس کے دوران نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ بلوچستان کا رونا تو سب روتے ہیں مگر میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ بلوچستان کو جان بوجھ کر پسماندہ رکھا گیا ہے اور80فیصد عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان گیس و تیل کے ذخائر سے مالامال صوبہ ہے،بلوچستان میں سونے کے ذخائر ہیں،بلوچستان میں کوئلے کے ذخائر ہیں،مگر اس کے باوجود سب سے پسماندہ صوبہ ہے۔انہوں نے کہا کہ1952ء سے لیکر اب تک بلوچستان کے عوام کے ساتھ جو ہوا ہے وہ تاریخ کا حصہ ہے،بلوچستان سے تحریک پاکستان میں حصہ لینے والے خان آف قلات کو گرفتار کیا گیا اور اس کے ردعمل میں کچھ ناراض سردار بھی پہاڑوں پر چلے گئے اور بعد میں ان سرداروں کو گرفتار کرکے پھانسی دی گئی۔انہوں نے کہا کہ 1970ء کے انتخابات میں بلوچ قوم نے تمام زیادتیوں کو بھلا کر انتخابات میں حصہ لیا اور پاکستان کے آئین سمیت انتخابات کے عمل کو تسلیم کیا۔انہوں نے کہا کہ1973ء میں بلوچستان اور خیبرپختونخوا کو الگ کرنے کیلئے عراق سے اسلحہ لانے کا ڈھونگ رچایا گیا اور اس سازش کے بعد دونوں صوبوں کی حکومتوں کو ختم کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس کے بعد ایک ڈکٹیٹر نے نواب بگٹی کو شہید کیا جس سے بلوچستان کے حالات خراب ہوگئے،اس کے بعد خان عبدالصمد خان شہید کردئیے گئے مگر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے انتخابات میں حصہ لیا،اس طرح خیبرپختونخوا میں بغاوت کے مقدمے چلتے رہے۔انہوں نے کہا کہ ہم قوم پرستی اور لسانیت کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے مگر ان مظالم پر ہم سب چیختے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت ناراض بلوچوں سے مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو بتایا جائے کہ کون سے بلوچ ناراض ہیں،اس طرح پشتون ناراض ہیں،سرائیکی ناراض ہیں،بلوچستان کے عوام کو درپیش اصل مسائل کا حل نکالنا ہوگا۔#/s#(ولی/اعجاز خان)


