ڈنڈے کے زور پر سیاست اور حکومت نہیں کی جا سکتی، مولانا واسع

سرانان:جمعیت علما اسلام خیبر پختونخوااور بلوچستان کے امراء سینیٹرمولانا عطا الرحمن، مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ ڈنڈے کی زور پر سیاست اور حکومت نہیں کی جاسکتی موجودہ حالات میں حق اور سچ کا ساتھ دینا ایمان کی نشانی ہے جمعیت علما اسلام ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے پلیٹ فارم سے تمام سیاسی اور جمہوری قوتوں کے ساتھ مل کر جدوجہد کررہی ہے افغانستان کے حالات پر جماعت کی پالیسی وضع ہونے تک بیان بازی سے گریز کیا جائے کابل پر حکمرانی کا حق افغانستان کے عوام کو حاصل ہے جمعیت علما اسلام افغانستان میں امن اور صلح چاہتا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے سرانان میں تربیتی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر جمعیت علما اسلام ضلع پشین کے امیر مولانا عزیز اللہ حنفی ضلعی ناظم عمومی حاجی سید مطیع اللہ آغا بلوچستان اسمبلی کے اراکین حاجی عبدالواحد صدیقی سید حاجی عزیز اللہ آغا رکن حاجی اصغر خان ترین شیخ الحدیث محمد موسی گل مولانا کمال الدین سابق صوبائی وزیرمولانا عبدالباری آغا مولانا مفتی سید محمد آغا مولانا نجیب اللہ آغا سابق چیئرمین مولوی محمدصادق اور دیگر نے بھی خطاب کیامقررین نے کہا کہ آئندہ دور جمعیت علما اسلام کا ہے جے یو آئی ایک عظیم جماعت ہے کارکن آپس کے اختلاف کو ختم کرکے اتحاد اور اتفاق کا مظاہرہ کریں تربیتی کنونشن کے صدارت تحصیل سرانان امیر مولانا مفتی سید محمد آغا نے کی کنونشن کی نگرانی مولانا نجیب اللہ آغا منعقد ہوا کنونشن میں روحانی شخصیت مولاناسید بدیع الدین آغا فرزند سید حاجی علی آغا،جمعیت علمااسلام پشین کے سیکرٹری اطلاعات ملک بازمحمد،مرحوم سید فضل آغا کاسیاسی جانشین انجنیئرخلیل آغا،جمعیت علما اسلام تحصیل بوستان کے امیر حاجی شاہ محمد ناصر تحصیل نانا صاحب کے امیر مولانا نور ظلم تحصیل حرمزئی کے امیر مولانا سید عبدالکریم آغا تحصیل توبہ کاکڑی کے امیرمولانا عبدالخالق شیخ الحدیث مولانا عطا اللہ سید عبدالرزاق آغامولوی نیاز محمدآغا ملک یوسف خان کاکڑسید نعمت اللہ آغا سید محمد ظفرآغا مولانا سید محیب اللہ آغا مولانا فتح محمد مجک اور دیگر رہنما بھی موجود تھے مقررین نے کہا کہ دستور اور منشور پر عمل درآمد ضروری ہے۔کابل پر حکمرانی کا حق افغانستان کے عوام کو حاصل ہے جمعیت علما اسلام افغانستان میں امن اور صلح چاہتا ہے افغانستان کے حالات پر جماعت کی پالیسی وضع ہونے تک بیان بازی سے گریز کیا جائے ہم اصول اور دلیل کے بنیاد پر سیاست کرنے پر یقین رکھتے ہیں عالم کفر مسلمانوں کو مذہب قومیت اور لسانیت کے نام تقسیم کرنے کی سازشیں کر رہے ہیں حکمت کا تقاضا ہے کہ جماعت کے رہنما اور کارکن دستور اور منشور کو اپنا نصب العین بنائے ملک کے موجودہ گھمبیر حالات میں جماعت کے کارکنوں اورذمہ داروں پر بھاری زمہ داری عائد ہوتی ہے جمعیت علما اسلام نے بلوچستان کے عوام کے حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کررہی ہے جے یو آئی کے کوششوں کے بدولت صوبے کے بجٹ کو 80ارب سے بڑھا کر 800ارب کردیا ہے این ایف سی ایوارڈ کے تقسیم کے موقع پر جمعیت علما اسلام کے نومنتخب عوامی نمائندوں نے تاریخی کردار ادا کیا ہے جمہوری قوتوں نے ہمیشہ عوام کے حقوق کے حصول کی جنگ لڑی ہے 2010کے این ایف سی ایوارڈ کی سزا مقتدر قوتوں نے 2013اور 2018کے الیکشن میں دیا صوبائی بجٹ عوام کے فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کے بجائے مخصوص شخص اور اشخاص کے جیبوں میں جارہا ہے افغانستان کے حالات پر جماعت کی پالیسی وضع ہونے تک بیان بازی سے گریز کیا جائے کابل پر حکمرانی کا حق افغانستان کے عوام کو حاصل ہے جمعیت علما اسلام افغانستان میں امن اور صلح چاہتا ہے۔ڈنڈے کی زور پر سیاست اور حکومت نہیں کی جاسکتی موجودہ حالات میں حق اور سچ کا ساتھ دینا ایمان کی نشانی ہے جمعیت علما اسلام ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے پلیٹ فارم سے تمام سیاسی اور جمہوری قوتوں کے ساتھ مل کر جدوجہد کررہی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں