کوئٹہ، آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین کے زیر اہتمام پریس کلب کوئٹہ کے سامنے مطالبات کے حق میں مظاہرہ
کوئٹہ:آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین(سی بی اے) بلوچستان کے زیر اہتمام ملک بھرسمیت بلوچستان کے دیگر شہروں کی طرح کوئٹہ میں بھی پریس کلب کے سامنے مطالبات کے حق میں مظاہرہ ہوا۔ مظاہرے میں واپڈا اور اس کے گروپ آف کمپنیز کے ہزاروں مزدوروں نے شرکت کی۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے یونین کے صوبائی چیئرمین محمد رمضان اچکزئی، چیف آرگنائزر سید محمد لہڑی، سیکرٹری عبدالحئی، وائس چیئرمین عبدالباقی لہڑی اور جوائنٹ سیکرٹری سیکرٹری محمد یار علیزئی نے کہا کہ گزشتہ کچھ دنوں میں پاور سیکٹر میں 15 لائن مین کام کے دوران شہید اور متعدد معذور ہو چکے ہیں جبکہ بلوچستان میں گزشتہ چند سالوں میں 123 لائن مینوں کی کام کے دوران شہادتیں ہو چکی ہیں۔ اس کے علاوہ عبدالجلیل اتمانخیل لورالائی، نبی بخش مینگل نوشکی، نور الحسن بگٹی سوئی، محمد ایوب یو ڈی سی گوادر، حمید اللہ میٹر ریڈر چمن، محمد اسماعیل چوکیدار RED-I کو کام کے دوران فائرنگ کرکے شہید کیا گیا ہے۔ واپڈا اور پاور سیکٹر میں بجلی کی فراہمی مزدوروں کی شہادتوں اور ان کی معذوری کی مرہون منت ہے لیکن حکومتوں کی غلط پالیسیوں نے پاور سیکٹر کو تباہی کے دہانے پہنچا دیا ہے۔ واپڈا ایکٹ 1958کے بعد واپڈا کے مستعد ادارے کے ذریعے ڈیموں اور پاور ہاؤسز سے بجلی کی پیدا وار میں اضافہ کیا گیا، 500KV،220KV،132KV،66KV کے گرڈ اسٹیشنوں اور ہائی ٹینشن لائنوں کے ذریعے بجلی پہاڑوں، میدانوں، ریگستانوں کے ذریعے ملک کے کونے کونے میں پہنچائی گئی۔ ہر شہر اور ہر قصبے میں 11KV اور 440KV لائنوں کی تعمیر سے ملک بھر میں کارخانے،زراعت، تجارت کو ترقی ہوئی اور گھریلو صارفین کی معیار زندگی میں انقلاب آیا لیکن بد قسمتی سے 1994 میں اس ملک کے بد خواہوں اور مفاد پرست لیڈروں نے بین الاقوامی مالیاتی اداروں، آئی ایم ایف، ورلڈ بنک اور ایشین ڈویلپمنٹ بنک کی ڈکٹیشن قبول کرتے ہوئے معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرنے والے قومی ادارے کی تقسیم درتقسیم کرکے ان کو کئی کمپنیوں میں بانٹ دیا گیا ہے اور اب تو حالت یہ ہے کہ جس شخص کا ایک شیئر کمپنی میں موجود نہیں وہ اس کمپنی کا چیئرمین اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبر بنے ہوئے ہیں جبکہ 12فیصد شیئر ہولڈر مزدوروں کی کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹر میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ اب کمپنیاں سیاسی حکومت، پاور ڈویژن کی بیوروکریسی اور سیاسی بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ذریعے روز بروز تباہی کی طرف گامزن ہیں اور حکومت نے ایک ایسے شخص کو جس نے کراچی الیکٹرک کو تباہ کیا انھیں مشیر بنا کر کراچی الیکٹرک کو تباہ کرنے والے انجینئروں کے ذریعے پاور سیکٹر کو مزید زبوں حالی کی طرف لے جانے کا اختیار دیا ہے اور حکومت کویہ معلوم نہیں کہ بجلی کی مہنگائی اور لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا حل ان پاور کمپنیوں کو تحلیل کرنے او ر واپڈا کے قومی ادارے کی بحالی میں ہے۔وزیر اعظم عمران خان کی حکومت نے احتساب کے نام پر پاور سیکٹر میں لوٹ مار کی انکوائری کروائی اور ریکارڈ کے مطابق پاور سیکٹر میں 51 کھرب روپے لوٹے گئے تھے لیکن حکومت نے لوٹ مار کا پیسہ واپس لینے کی بجائے ان لٹیروں کے ساتھ مک مکا کرکے بجلی کے نرخوں میں کچھ کمی کروائی لیکن اس وقت بھی پاور سیکٹر کے نمائندے حکومت کے قریب ہوتے ہوئے پالیسی میں شریک ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ حکومت کے زیر انتظام پاور سیکٹر کے تمام پاور ہاؤسز اور پاور سیکٹر کے ہائی ٹینشن لائنوں، گرڈ اسٹیشنوں کو نجکاری کے حوالے کیا جائے اور اس طرح آئی پی پیز جن کا معاہدے ختم ہو رہے ہیں ان کو پھر سے نئے معاہدے کے تحت قومی دولت لوٹنے کا موقع دیا جائے۔حکومت سب سے بڑی غلطی یہ کر رہی ہے کہ وہ واپڈا اور پاور کمپنیوں کے مزدوروں کو مختلف کمپنیوں میں تقسیم کرکے ان پاور کمپنیوں کو نجکاری کی طرف دھکیل رہی ہے۔عدالت عالیہ بلوچستان نے ایک فیصلے میں حکم دیا ہے کہ مزدوروں کی تقسیم سے کمزور مزدور اپنے حقوق حاصل نہیں کر سکتے اس لئے انہوں نے واپڈا اور پاور سیکٹر کے مزدوروں کو یکجا رکھنے کیلئے IRA-2012کو آئین کے مطابق قانون قرار دیا تھا۔ مقررین نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان ریاست مدینہ کے وژن کے تحت کام کرتے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ ملک میں غریبوں کو ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ مکانات دیئے جائیں لیکن انھیں یاد رکھنا چاہیے کہ جس طرح فوج کا ادارہ ملک کی دفاع اور سلامتی کیلئے ضروری ہے اسی طرح واپڈا کا مضبوط ادارہ ملک کی معاشی ترقی میں بجلی کی مسلسل پیداوار اور ترسیل کیلئے اشد ضروری ہے۔ انہوں نے حکومت سے پر زور مطالبہ کیا کہ کمپنیوں کو تحلیل کرنے سے بجلی کی پیدا وار میں اضافہ کرکے سستی بجلی پیدا کرنے اور صارفین کو سستی بجلی دے کر ملک میں کارخانے، زراعت اور تجارت کو ترقی دینے سے کروڑوں لوگوں کو روزگار مہیا ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کیسکو انتظامیہ اسٹاف کی کمی کو پورا کرنے کیلئے بھرتی کرنے میں ناکام ہیں کیونکہ یہاں نظام اس طرح ہے کہ جنر ل منیجر، چیف ایگزیکٹو اور بڑے عہدوں پر تعیناتیاں شکلیں دیکھ کر کی جاتی ہے جبکہ کام کرنے والے ALM کیلئے یونیورسٹی سے امتحان پاس کرنا پڑتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جو کارکن چھ فٹ کا کھڈا کھودے انھیں فوری طور پر ALM بھرتی کیا جائے اور اسی طرح ڈپلومہ ہولڈر اور پڑھے لکھے نوجوان جو لائن سپرنٹنڈنٹ، SSOاور کلرک بننے کا خواہش مند ہے ان کا ڈیپارٹمنٹ ٹیسٹ لے اور ان کی فزیکل فٹنس کے بعد انھیں شفاف طریقے سے بھرتی کیا جائے۔ مقررین نے کہا کہ 500 سے زیادہ گاڑیاں کیسکو میں موجود ہیں لیکن فیلڈ میں گاڑیوں کی کمی ہیں اور کارکنوں کی جان کی حفاظت کیلئے گاڑیاں اور بکٹ گاڑی، ٹی اینڈ پی، پی پی ای اور معیاری سامان دیاجانا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ تمام کارکنوں کی ٹریننگ بروقت ہونی چاہیے اور کارکنوں کے تمام مسائل جس میں کارکنوں کی ترقی، اپ گریڈ ایشن، تنخواہیں اور بقایا جات کا بروقت دیاجانا،فوت شدہ ملازمین کے بچوں کو فوری بھرتی،ملازمین کے بچوں کی ملازمت کو مستقل کرنا، انھیں مکانات اور فلیٹس دیا جانا کارکنوں کو مطمئن حالات فراہم کرسکتے ہیں اور وہ مطمئن حالات میں کام کرکے ادارے کی ترقی، صارفین کی خدمت میں بہترین کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جون کے مہینے میں ریکارڈ ریکوری کرکے مزدوروں نے ثابت کردیا کہ اگر انھیں عزت دی جائے اور ان کے مسائل حل ہوں تو نہ صرف و ہ بجلی کو 24 گھنٹے فراہم کرنے کے علاوہ بجلی چوری کو روکنے اور ریکوری کے اہداف کو حاصل کرسکتے ہیں۔ مقررین نے کیسکو انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ مزدوروں کو آپس میں لڑا کر خود مفادات کے حصول میں لگے ہوئے ہیں اور اس وقت کیسکو میں کرپشن عروج پر ہے اس لئے مکران میں سپرنٹنڈنگ انجینئر کے خلاف صارفین کا غم و غصہ اور ریجنل سٹور کوئٹہ میں کرپشن سے متعلق آوازیں اٹھنا ادارے کی بد نامی کاباعث بن رہے ہیں۔ مقررین نے کیسکو انتظامیہ سے پر زور مطالبہ کیا کہ وہ کارکنوں کی جانوں کی حفاظت کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے، عبدالمنان شہید پشین، سجاد احمد شہید لورالائی، حمید اللہ شہید نوشکی کی انکوائری کمیٹیاں قائم کرے جس میں بورڈ،انتظامیہ، اور یونین کا ممبر شامل ہو تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہو سکے اور مستقبل میں جانوں کو حادثات سے محفوظ بنایا جاسکے۔ مقررین نے جینکو انتظامیہ سے پر زور مطالبہ کیا کہ وہ شیخ ماندہ پاور ہاؤس کو کنڈنسر پر چلائے تاکہ کوئٹہ شہر کی وولٹیج میں بہتری آئے اور ملازمین کی دو ماہ سے بند تنخواہیں فوری طور پر ادا کی جائے۔ انہوں نے انتظامیہ سے کہا کہ وہ عدالتی فیصلوں کا احترام کرے اور مزدوروں کے مسائل حل کرے تاکہ مزدور مطمئن حالات میں ادارے کی بہتری کیلئے کام کر سکے۔انہوں نے مزدوروں کے تمام مسائل جس میں شہیدوں کے بچوں کی بھرتی، مزدوروں کی ترقیوں، اپ گریڈ ایشن کے کیسز کو جلد نمٹانے پر زور دیا اور کہا کہ اگر کارکنوں کی جان کی حفاظت کو یقینی نہیں بنایا جاتا اور مسائل جلد سے جلد حل نہیں ہوتے تو 16 اگست سے پورے صوبے میں ہفتہ مطالبات منایا جائے گا۔


