ڈام کے ماہی گیر نان شبینہ کے محتاج ہو گئے

حب(رپورٹ/عزیز لاسی) سیزن آف ساحلی بستی ڈام کے ماہی گیرنان شبینہ کے محتاج ہو گئے تمام کاروبار ٹھپ ہو گیا ساحلی بستی اور شہر میں آسیب کا سماں کوئی پرسان حل نہیں فشرمین کوآپرٹیو سوسائٹی کے حکام سیر سپاٹوں اور اپنی نمائش تک محدود ماہی گیروں نے مشکل حالات میںصوبائی حکومت سے امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کردیا تفصیلات کے مطابق ضلع لسبیلہ کے ساحلی وصنعتی شہر وندر کے قریب میانی ہور ڈام کے ماہی گیروں نے اپنی کسمپرسی کی داستان بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پورے سندھ اور بلوچستان کی ساحلی پٹی پر آباد ماہی گیر ہر سال مئی سے اگست کے اختتام تک سی رف ( سمندر نا ہموار )ہونے کی وجہ سے ماہی گیری نہیں کرتے 4ماہ کے سیزن آف کے دوران ان دنوں ڈام کے ماہی گیرنان شبینہ کے محتاج ہو کر رہ گئے ہیں ماہی گیروں نے بتایا کہ انکی کشتیاں چھوٹی ہوتی ہیں لہٰذا ان 4مہینوں میں سمندری موجیں اور لہریں اُونچی ہونے کی وجہ سے وہ انکا مقابلہ نہیں کر سکتے اور مجبوراً انہیں ان دنوں میں اپنی کشتیاں ساحل پر لنگرانداز کر کے بیروزگار ہو کر گھروں میں بیٹھنا پڑتا ہے اور اب کچھ عرصہ سے انکی چھوٹی کشتیوں کا روزگار نہ ہونے کے برابر رہاہے چونکہ کراچی اور سندھ کے بعض سرمایہ دار سیٹھوں کی بڑی کشتیاں بلوچستان فشریز ڈیپارٹمنٹ کو بھتہ دیکر افسران و اہلکاران کی ملی بھگت سے نہ صرف گڈانی ڈام کنڈ ملیر بلکہ جیوانی تک ایک بڑی تعداد میں پہنچ جاتی ہیں او ر ممنوعہ جال اور وائر نیٹ استعمال کر کے سمندر کو بانجھ کر رہی ہیں جسکی وجہ سے اب سمندر میں مچھلیاں اور جھینگے ناپید ہو گئے ہیں مقامی چھوٹے ماہی گیر جو شکار کرتے ہیں وہ اتنا ہو تا ہے کہ بس تین وقت کا کھانا کھا کر پیٹ کی آگ بجھا سکتے ہیں ماہی گیروں کے مطابق کراچی سے آنے والی بڑی کشتیاں کئی بات انکی ماہی گیری کے جال زبردستی چھین کر لے جاچکے ہیں اور اگر وہ انہیں روکنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ ان پر کشتیوں میں رکھی ہوئی برف کے ٹکڑوں سے حملہ آور ہو جاتے ہیں اور کئی بار ان پر اسلحہ بھی تان لیا جاچکا ہے انھوں نے بتایا کہ یہ سب کچھ فشریز ڈیپارٹمنٹ کی ملی بھگت اور بھتہ کے عوض کراچی کے سرمایہ دار سیٹھوں کی مدد سے ہو رہا ہے مقامی ماہی گیروں نے بتایا کہ انہیں فشریز ڈیپارٹمنٹ اور فشرمین کو آپریٹو سوسائٹی کی جانب سے کوئی سہولت حاصل نہیں اور نہ ہی باہر سے آنے والی غیر قانونی فشنگ کشتیوں سے تحفظ دیا جارہا ہے آج بھی مقامی ماہی گیرکسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں بیماری کی صور ت میں نہ اسپتال میں دواملتی ہے اور نہ ہی طبیب دستیاب ہوتا ہے اور کسی بھی ایمرجنسی میں حب اور کراچی جانا پڑتا ہے انھوں نے بتایا کہ گزشتہ سال کرونا لاک ڈائون کے دوران بھی جب ماہی گیر اور انکے بچے بھوک سے مرنے لگے تو مقامی لوگوں نے بعض مخیر حضرات کی امداد سے انکے راشن پانی اور کھانے کا بندوبست کیا تھا لیکن وہ حکومتی امداد سے یکسر محروم رہے اگر امدادی سامان تقسیم بھی کیا گیا تو وہ سیاسی بنیاد وں پر چند لوگوں میں تقسیم ہوا لیکن حقدار اس امداد سے محروم رہے جو کہ حکومتی حلقوں کی ستم ظریفی کی ایک بدترین مثال ہے اور اب اس سال بھی یہی رویہ اختیار کیا جارہا ہے ماہی گیر 3ماہ سے بیروزگار ہیں سمندر میں شکار پر جانہیں سکتے دیگر کاروبار بھی ٹھپ پڑ چکا ہے مقامی ماہی گیروں نے صوبائی حکومت اور وزیر اعلیٰ جام کمال خان سے ڈام کے آف سیزن کے دوران مقامی ماہی گیروں کی فوری امداد کرنے کی اپیل کی ہے انھوں نے کہاکہ ڈام بستی کیلئے فوری طور پر کسی امدادی پیکج کا اعلان کیا جائے تاکہ آف سیزن میں یہاں کے ماہی گیر تین وقت پیٹ بھر کر کھانا کھا سکیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں