ملک عبید کاسی کو بھوکا اور پیاسا بھی رکھا گیا
کوئٹہ (انتخاب نیوز) سول ہسپتال کوئٹہ کی پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض نے بتایا کہ لاش کے دونوں ہاتھ اور پاؤں ہتھ کھڑی سے بندھے ہوئے تھے۔ ‘ان کے ہاتھ تو بہت زیادہ سخت باندھے ہوئے تھے اور انھیں کسی خراب جگہ پر رکھا گیا تھا، جیسے گودام وغیرہ۔‘پولیس سرجن کے مطابق مقتول پر بہت زیادہ تشدد کیا گیا تھا۔ ‘تشدد کے لیے ہتھوڑی، کیل لگے ڈنڈے اور اس طرح کے دیگر آلات کا استعمال کیا گیا جن کو ہم میڈیکل کی زبان میں کند آلات کہتے ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’یہ تشدد صرف جسم کے باہر نہیں تھا بلکہ اس کے اثرات جسم کے اندرونی اعضا پر بھی تھے۔ تشدد سے ان کا سینہ اور پیپھڑے بھی متاثر ہوئے تھے بلکہ جب ہم نے ان کے سر کو کھولا تو سر کے اندر بھی تشدد کے نشانات تھے۔‘انھوں نے بتایا کہ تشدد کے علاوہ مقتول کو بھوکا اور پیاسا بھی رکھا گیا اور کھانے کے لیے صرف اتنا کچھ دیا جاتا رہا کہ وہ بس زندہ رہ سکیں لیکن ان کی ’موت تشدد کی وجہ سے ہوئی‘۔انھوں نے بتایا کہ ’لاش کی برآمدگی سے موت اندازاً 12 گھنٹے پہلے ہوئی تھی۔‘ان کے ماموں محمد یوسف خان کاکڑ نے سول ہسپتال کوئٹہ میں میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ شروع میں 15 لاکھ ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ‘ملک عبید اللہ کے اغوا کے دو روز بعد ان ہی کے فون سے یہ مطالبہ کیا گیا تھا لیکن اس کے بعد کوئی فون نہیں آیا۔’محمد یوسف کاکڑ نے کہا کہ ‘ان کے بھانجے کا اغوا تاوان کے لیے نہیں تھا کیونکہ اغوا کار پیسے مانگتا ہے لیکن ملک عبیداللہ کاسی کو تو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔‘انھوں نے کہا کہ ’ملک عبید اللہ کی بازیابی کے لیے پولیس کی جانب سے تین دن کی مہلت مانگی گئی تھی، ہم نے مہلت دی لیکن 40 روز گزر گئے مگر کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔‘


