تابش وسیم بلوچ کی عدم بازیابی کیخلاف بی ایس او پجار مستونگ زون کی احتجاجی ریلی و مظاہرہ

دو ماہ گزر چکے ہیں تابش تاحال لاپتہ ہے فوری منظر عام پر لایا جائیں ۔ چیرمین زبیر بلوچ 
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار مستونگ زون کے جانب سے تابش وسیم بلوچ کے ماورائے آئین و قانون گرفتاری و لاپتہ رکھنے کے خلاف احتجاجی ریلی و مظاہرہ کیا گیا جس میں مرکزی چیرمین زبیر بلوچ، صوبائی صدر بابل ملک بلوچ، صدر این پی نواز بلوچ، سی سی ممبر ظفر بلوچ، ثمرین بلوچ، ناصر بلوچ ، نثار بلوچ، رئیس ناصر سارنگزئی،  ارشاد بلوچ ، سوشل ایکٹوویسٹ بانک حوران بلوچ، اور لاپتہ سعید بلوچ کے والدین نے خطاب کیا ۔ 
مقررین نے کہا کے کے بلوچستان کے ہر گھر کا مسلہ لاپتہ افراد کی بازیابی ہے یہ ایک سلگتا ہوا مسلہ ہے جو روز بروز گھمبیر ہوتا جارہا ہے ترقی و خوشحالی کے نام پہ ہمارے گھر کے خوشیاں ہم سے چھین لی گئی ہے ہمارے گھروں میں فاقہ کشی کی نوبت پہنچ چکی ہے نا ہمارے گھروں میں کوئی عید ہوتی ہے نا کسی قسم کی کوئی خوشی منایا جاتا اور ہر دن ہمیں جھوٹی تسلیاں دے کر بہکایا جاتا ہے کے احتجاج ختم کرئے تو اپ کے پیارے پہنچ جائے گے لیکن برسوں گزر گئے ہمارے پیارے اب تک عقوبت خانوں میں ماورائے آئین و قانون گرفتار پابند سلاسل ہے۔ 
مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تابش وسیم بلوچ ایک طالب علم رہنماء ہے اور میر غوث بخش بزنجو کے پیروکار ہے ہمیشہ تشدد کی حوصلہ شکنی کی ہے لیکن تابش سے اس کا کتاب چھین کر اسے عقوبت خانوں میں ماورائے آئین و قانون اس لئے بند کیا ہے کے وہ ایک باشعور نوجوان ہے نقاب پوش افراد کو بتانا چاہتے ہیں کے تمھارے مکروح چہرہ اب دنیا کے سامنے آہ چکا ہے اپنے عزیز اور وطن پرست دوست تابش کے لئے خاموشی کو مصلحت پسندی سمجھتے ہیں لاپتہ افراد کے مسلے پر کسی قسم کا سمجھوتہ ممکن نہیں اگر لاپتہ افراد پہ کوئی الزام ہے تو ان کو عدالت میں پیش کریں اور قانون کے مطابق ان کو سزا دی جائے ۔ 
ہم مطالبہ کرتے ہیں کے تابش وسیم بلوچ سمیت تمام لاپتہ افراد کو فوری بازیاب کیا جائے ۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں