امریکہ دباؤ کی پالیسی کو ترک کردے:ایران
تہران:ایران نے امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سابق صدرڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اختیارکردہ دباؤ کی پالیسی کو ترک کردے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے پیرکو ہفتہ وار پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اگر وہ ٹرمپ کی ذہنیت پر عمل پیرا رہتی ہے تو اسے 2015 کے ایٹمی معاہدے، مشترکہ جامع لائحہ عمل (جے سی پی او اے) کی بحالی سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔خطیب زادہ نے کہا کہ امریکہ کو اپنا نقطہ نظر تبدیل اور زمینی حقائق پر غور کرنا چاہیے اور یہ کہ ٹرمپ کی زیادہ سے زیادہ دبا کی پالیسی ناکام ہو گئی ہے۔جے سی پی او اے کی بحالی کے لئے ویانا مذاکرات میں تعطل کے حوالے سے ایک سوال پرترجمان نے کہا کہ ایران اپنے ہاں انتظامیہ کی منتقلی میں مصروف رہا ہے اور نئے صدر ابراہیم رئیسی مذاکرات کے عمل کا فیصلہ کریں گے۔ خطیب زادہ نے کہا کہ ایران مخالف پابندیاں ختم کی جائیں، انہوں نے مزید کہا کہ "ایران جے سی پی او اے سے کم کسی چیز کو قبول نہیں کرے گا” جس کے نتیجے میں 2015 میں ایران پر سے مغربی پابندیاں ہٹائی گئی تھیں۔


