فورٹ منرو واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتےہیں، حکومت ایکشن لے، بلوچ یکجہتی کمیٹی

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ 17 اگست 2021 ء کی رات بلوچستان کے ضلع بھارکان، رکنی کے حدود میں موجود بواٹہ ایف سی چیک پوسٹ سے ایک کلومیٹر پر واقع الہی بخش لغاری کے گھر پر نامعلوم افراد کی جانب سے اندھا دھند فائرنگ کیا گیا اور پورے خاندان کو گولیوں سے روند ڈالا جس کے نتیجے میں خاندان کے تین افراد شہید جبکہ تین افراد شدید زخمی ہوئے ہیں. نامعلوم افراد کی جانب سے زبردستی گھر میں گھس کر نہتے خاندان کو فائرنگ کا نشانہ بنا کر قتل کرنا کھلے عام بربریت ہے جس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں.

مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں مزید کہا کہ سانحہ بواٹہ میں الہی بخش لغاری سمیت خاندان کے تین افراد گولیوں کا نشانہ بنے جس میں الہی بخش کے بیٹے اور بہوں شامل ہیں. جبکہ تین افراد فائرنگ کی زد میں آکر شدید زخمی ہوئے جس میں الہی بخش کی اہلیہ، ایک بیٹے اور خاندان کے ننھی بچی رابعیہ بلوچ بھی شامل ہیں. رابعیہ بلوچ جو کہ بمشکل 3 سال کی بچی ہوگی جسے قاتلوں نے اپنے اندھا دھند فائرنگ کا نشانہ بنایا. واقعے کے خلاف ایف آئ آر تھانہ رکنی میں درج کی گئی ہے.

مرکزی ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں سانحہ بواٹہ پر شدید دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نہتے خاندان کو رات کے پہر گولیوں سے چھلنی کردینا انسانیت اور بلوچ روایات کے خلاف کھلے عام بربریت ہے جس کی جتنی مزمت کی جائے کم ہے. آخر میں ترجمان نے حکومت بلوچستان اور حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کو سنجیدگی کے ساتھ نوٹس میں اور جلدازجلد قاتلوں کو گرفتار کرکے منظر عام پر لایا جائے. اگر سانحہ بواٹہ کیس میں حکومت کی جانب سے سست روی کا مظاہر کیا گیا تو متاثرہ خاندان اور رابعیہ بلوچ کے حق ڈیرہ غازی خان سے لے کر کوئٹہ تک ایک احتجاجی سلسلہ شروع کیا جائے گا.

اپنا تبصرہ بھیجیں