اسٹیبلشمنٹ کو دعوت گناہ ہمیشہ سیاستدانوں نے دی، خواجہ آصف
لاہور:پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو دعوت گناہ ہمیشہ سیاستدانوں نے دی ہے اس لیے صرف اسے مورد الزام ٹھہرانا چاہئیے۔انہوں نے کہا ہے کہ اگر سیاستدان آئینی حدود میں رہتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دینا بند کر دیں تو سیاست میں اس کا کردار خود بخود ختم ہو جائے گا،انہوں نے کہا کہ ملک میں آئین کی حکمرانی اور لوگوں کی رائے کا احترام ہونا چاہئیے۔ہمارا ووٹ کو عزت دو کو نعرے کا مطلب صاف شفاف الیکشن ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کو جو رول آئین نے تفویض کیا ہے وہ وہی ادا کرے اور میں اس رول کو احترام کی نظر سے دیکھتا ہوں۔خواکہ آصف نے کہا کہ جنہوں نے ملک کے لیے قربانیاں دی تھیں وہ دنیا سے چلے گئے ہیں جب کہ ہم اپنے گروہی اور ذاتی مفادات کی لڑائی لڑ رہے ہیں ملک کے لیے کوئی نہیں لڑ رہا۔رہنما ن لیگ کا کہنا تھا کہ پارٹی میں دو قسم کی سوچ ہے لیکن میں کسی ایک کے ساتھ نہیں ہوں۔پارٹی میں آخری فیصلہ نوازشریف کا ہوتا ہے۔۔ یاد رہے 12 اگست۔2021 کو احتساب عدالت نے مسلم لیگ نون کے راہنما خواجہ آصف کی عدالت میں حاضری سے استثنی کی درخواست منظور کرلی تھی، احتساب عدالت لاہور میں اثاثہ جات کیس کی سماعت ہوئی جس میں مسلم لیگ نون کے راہنما خواجہ آصف پیش ہوئے، خواجہ آصف کے وکلا نے ریفرنس دائر ہونے تک عدالت میں حاضری سے استثنی کی درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ سابق وزیر دفاع خواجہ آصف کے خلاف ریفرنس تاحال دائر نہیں کیا گیا اور ماضی میں ایسی صورتحال میں حاضری سے استثنی کی استدعا منظور کی گئی، احتساب عدالت کے جج شیخ سجاد احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں دیگر احتساب عدالتوں کا پابند نہیں تاہم آپ ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں دکھائیں. نیب پراسیکیوٹر نے خواجہ آصف کو ریفرنس دائر ہونے تک حاضری سے استثنی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق خواجہ آصف ہر تاریخ پر عدالت میں پیش ہونے کے پابند ہیں. نیب پراسیکیورٹر نے موقف اختیار کیا کہ جب تک عدالت کوئی آرڈر نہیں کرتی خواجہ آصف عدالت پیش ہونے کے پابند ہیں تاہم عدالت نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد خواجہ آصف کی حاضری سے استثنی کی درخواست منظور کرلی گئی تھی۔


