چھوٹے میاں سبحان اللہ

تحریر: انورساجدی
توقع تو نہیں تھی کہ میاں شہبازشریف صرف ایک دن میں اتنا بڑا یوٹرن لیں گے باغ جناح کے جلسے میں وہ گرج رہے تھے برس رہے تھے لاکھوں کا سمندر لیکر اسلام آباد پر ہلہ بولنے والے تھے ایک رات سوچنے اوراپنے مقدمات کا جائزہ لینے کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا اپنے پرانے بیانیہ کو دہرانا ہی بہتر ہے چنانچہ موصوف نے فرمایا کہ
مفاہمت نہ مزاحمت
شفاف الیکشن اور قومی حکومت
یہ قومی حکومت والی بات بھی انہوں نے تکلفاً کی ہے یا مولانا کو خوش کرنے کیلئے شوشہ چھوڑا ہے کیونکہ دونوں بھائی مولانا کو یقین دلاچکے ہیں کہ آئندہ انتخابات کے بعد جو قومی حکومت بنے گی اس کی سربراہی کا شرف مولانا صاحب کو حاصل ہوگا انہوں نے سمجھایا ہے کہ مولانا اتنی نشستیں حاصل نہیں کرسکتے کہ وزیراعظم بن جائیں چنانچہ ن لیگ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایک قومی حکومت تشکیل دے گی جس کے سربراہ مولانا صاحب ہونگے کہاں چھوٹے میاں صاحب انقلاب لارہے تھے اور کہاں 2023ء کے الیکشن تک آگئے پتہ نہیں کہ مولانا ن لیگ کے ساتھ کوئی گیم کھیل رہے ہیں یا شریف برادران ان کے ساتھ ہاتھ کررہے ہیں چھوٹے میاں نے واضح طور پر کہا ہے کہ2023ء کے انتخابات شفاف ہونے چاہئیں یعنی انہوں نے تحریک انصاف کا مینڈیٹ مان لیا ہے اور وہ ہنسی خوشی2023ء تک صبر سے کام لیں گے یہ جو مولانا نے مارچ کاروان اور دھرنوں کی دھمکی دی ہے لگتا ہے کہ یہ محض وقت گزاری کے مشاغل ہیں ایک سال بعد تو الیکشن کی سرگرمیاں شروع ہوجائیں گی آئندہ سال نومبر میں ایکسٹیشن کا معاملہ اٹھے گا میاں شہباز کا خیال ہے کہ اس وقت ان کی دوبارہ ضرورت پڑے گی شائد ان پر ہاتھ ہولا رکھا جائے جبکہ حکومت نے دھمکی دی ہے کہ میاں صاحب جلد جیل جائیں گے جس طرح اپوزیشن میں بڑے تضادات ہیں اسی طرح حکومتی وزراء کو بھی معلوم نہیں کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں کیاکررہے ہیں اور انہیں کیا کرنا چاہئے ایک ٹی وی انٹرویو میں جناب فوادچوہدری صاحب فرمارہے تھے کہ بلاول اور میاں شہباز کی پوزیشن باقی اپوزیشن سے مختلف ہے وہ اس نظام کا حصہ اور اسٹیک ہولڈر ہیں اس لئے وہ اس حد تک نہیں جائیں گے کہ نظام گرجائے اگریہ بات صحیح ہے تو بلاول اور شہباز تو ان کے ساتھی ہوئے اپنے ساتھیوں پر تنقید دشنام طرازی اور انہیں دیوار سے لگانا کونسی دانشمندی ہے میاں شہبازشریف اپنے بڑی بھائی اور بھتیجی کے مقابلہ میں سراپا انکسار ہیں وہ اپنے سے بڑے لوگوں کو دیکھ کر ہاتھ باندھنے اور جھکنے میں زرا بھی تامل نہیں سمجھتے جبکہ وہ جنگ وجدل اور مزاحمت کے بھی مخالف ہیں حتیٰ کہ وہ اپنے بڑے بھائی کے بیانیہ سے انحراف بھی کررہے ہیں اس کے باوجود انہیں دیوار سے لگانے کی بات سمجھ سے بالاتر ہے غالباً شہبازشریف کیخلاف بغض اور حسد اس وجہ سے ہے کہ وہ عمران خان کے مدمقابل ہیں خان صاحب سمجھتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بڑوں سے صلح کرکے میاں شہباز ان کی جگہ نہ لے لیں اسی وجہ سے انہیں مسلسل راستے سے ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے اس مقصد کیلئے نیب خوب استعمال ہورہا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نیب آزاد نہیں بلکہ حکومتی تابع ادارہ ہے اس لئے وزیرداخلہ شیخ رشید نے پیشگی بتادیا ہے کہ آئندہ دوسال میں نیب کے تمام مقدمات کا فیصلہ ہوگا جس کے نتیجے میں سارے چور ڈاکو جیلوں کے اندر ہونگے جبکہ آئندہ انتخابات میں عمران خان اکیلے میدان میں ہونگے ایسا بیان تو آج تک نیب کے چیئرمین نے بھی نہیں دیا شیخ رشید کو کیسے پتہ کہ نیب کے تمام مقدمات کا فیصلہ ہوگا اور ساری اپوزیشن جیلوں میں ہوگی حالانکہ کچھ عرصہ قبل شیخ صاحب نے اعلان کیا تھا کہ وہ آئندہ انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے لگتا ہے کہ ان کا اعلان جذبات کا نتیجہ تھا اقتدار ایسا ظالم شے ہے کہ جس کے منہ لگ جائے اس کا چھوٹنا مشکل ہے۔شیخ صاحب کی خواہش تو وزیراعظم بننے کی ہے لیکن پرانی تنخواہ پر کام کرتے ہوئے وہ آئندہ بھی وزارت لیکر اکتفا کریں گے وہ آج کل کہہ رہے ہیں کہ70سال کوئی زیادہ عمر نہیں ہے اس لئے آئندہ الیکشن جیت کر عمران خان دوبارہ وزیراعظم اور وہ خود ڈپٹی وزیراعظم بن جائیں گے اگر ڈپٹی نہ بنے تو سینئروزیر ضرور بنیں گے وہ بھی نہ بنے تو صرف وزارت پر بھی گزارہ کرلیں گے۔
میاں شہباز کے حالیہ یوٹرن سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ن لیگ کے اندرونی معاملات ٹھیک نہیں ہیں بڑے بھائی پرانی باتیں چھیڑ کر محاذ آرائی کو ہوا دے رہے ہیں جبکہ چھوٹے بھائی سرسے پیر سے خادم بن کر اقتدار میں حصہ لینے کے خواہش مند ہیں جب تک یہ فیصلہ نہیں ہوگا کہ کس کے بیانیہ کو فوقیت حاصل ہوگی بڑے بھائی یا چھوٹے بھائی کا بیانیہ چلے گا ن لیگ آگے نہیں بڑھ سکتی اور اس کے اندرونی اختلافات بہت جلد پبلک میں بھی آجائیں گے جس کے نتیجے میں پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔
منگل کی علی الصبح یعنی31تاریخ کی آخر شب آخری امریکی طیارہ اپنے فوجیوں کو لیکر کابل سے روانہ ہوگیا20سال کے بعد امریکہ کو بے نیل ومرام افغانستان سے جانا پڑا یہ21ویں صدی کا ناقابل یقین واقعہ ہے جبکہ20ویں صدی میں تو بہت زیادہ واقعات ہوئے تھے لیکن ویٹ نام سے فراراس صدی کا ایک بڑا واقعہ تھا فرق یہ ہے کہ امریکہ کابل سے رات کی تاریکی میں فرار ہوا جبکہ ویٹ نام سے فرار کا وقت دن کا تھا۔امریکی فرار کے ساتھ ہی طالبان مخالف شمالی اتحاد نے اقوام عالم کے نام ایک ایس او ایس پیغام بھیجا جس میں اپیل کی گئی ہے کہ انہیں طالبان کے ہاتھوں مرنے سے بچایا جائے یہ بیان ایسے وقت میں جاری کیا گیا جب طالبان کے ایک دستے نے شمالی اتحاد کے مضبوط قلعہ پنج شیر کی چوکیوں پر حملہ کیا تھا شمالی اتحاد ان ممالک سے رحم طلب کررہا تھا جو 20سالہ جنگ میں شکست کے بعد راہ فرار اختیار کرچکے تھے یہ ممالک شمالی اتحاد کی کوئی عملی مدد نہیں کرسکتے سوائے مالی تعاون کے اپنے بیان میں اتحاد نے بے سروسامانی کا رونا بھی رویا ہے اور کہا ہے کہ خود کو طالبان سے بچانے کیلئے ان کے پاس مطلوبہ وسائل بھی نہیں ہیں ان کا کہنا ہے کہ بہت جلد طالبان ان کی نسل کشی شروع کردیں گے معلوم نہیں کہ شمالی اتحاد کا یہ خوف کس حد تک بجا ہے لیکن اس مرتبہ طالبان کو صلہ رحمی اور کشادہ دلی کامظاہرہ کرنا چاہئے صرف طاقت کے استعمال سے وہ کامیابی حاصل نہیں کرسکتے کیونکہ پشتونوں کے علاوہ دیگر قوموں کی تعداد بھی کافی زیادہ ہے اگراکثریت کو دیوار سے لگایا جائیگا تو مزاحمت ہونا لازمی امر ہے جس کے نتیجے میں طالبان کو کچھ ہی عرصہ بعد پے در پے ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ جوں جوں وقت گزرے گا دنیا کے کئی ممالک شمالی اتحاد کی مدد کیلئے آگے آئیں گے کوئی بھی حکومت جب اپنے عوام کیخلاف طاقت کا استعمال کرے تو بالآخر وہ ناکامی سے دوچارہوجاتی ہے طالبان نے آتے ہی جس طرح داعش کیخلاف جنگ چھیڑی سردست یہی کافی ہے۔کیونکہ طالبان کو جس پہلی جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا وہ داعش کے ساتھ ہوگی داعش کے حامی نہ صرف افغانستان کے طول وعرض میں موجود ہیں بلکہ مستونگ کے حالیہ واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ سرحد کی اس طرف بھی داعش اچھی خاصی طاقت کے ساتھ موجود ہے اس جماعت نے چند سال کبھی اسی علاقے میں ایک چینی جوڑے کو ذبح کیاتھا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عراق اور شام سے داعش رخصت ہوکر افغانستان اور پاکستان آچکی ہے طالبان کی کارروائی کے بعد بچے کچھے لوگ بھی بلوچستان آئیں گے اور یہاں پر بلاوجہ ایک خون ریزی شروع ہوجائے گی اور اس پرآشوب علاقے میں سکورٹی کے نئے چیلنج پیداہوجائیں گے برسوں بیت گئے دعوؤں کے باوجود بلوچستان اور وزیرستان بدستور آتش فشاں بنے ہوئے ہیں اگر ہماری حکومت ان حالات کونہیں سنبھال سکتی تو نئی صورتحال کو کیسے سنبھال پائے گی دشت کابو میں کئی بار آپریشن ہوچکے ہیں لیکن یہ دشت کابوابھی تک قابو میں نہیں آیا کہیں ایسا تو نہیں کہ داعش کے نام پر بے گناہ لوگ زد میں آرہے ہیں ایسی ناانصافی سے گریز کی ضرورت ہے کیونکہ اس سے صورتحال میں مزید خرابی پیداہوگی اگرافغانستان مہاجرین کی تازہ لہر کو آنے سے نہ روکا گیا تو بلوچستان مزید تاراج ہوجائے گا پہلے تباہی کیا کم ہے کہ حکومت نئے مہاجرین کے استقبال کی تیاری کررہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں