جامعہ بلوچستان اور یونائیٹڈ نیشن ڈو یلپمنٹ پروگرام(یو اینڈ ڈی پی) کے مابین ایک مفاہمتی یادداشت کے سمجھوتے پر دستخط

کوئٹہ:جامعہ بلوچستان اور یونائیٹڈ نیشن ڈو یلپمنٹ پروگرام(یو اینڈ ڈی پی) کے مابین ایک مفاہمتی یادداشت کے سمجھوتے پر دستخط کئے گئے۔ باہمی سمجھوتے کے یادداشت پر جامعہ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمان اور یو اینڈ ڈی پی کے ملکی نمائندہ مسٹر نٹ اوسٹبی نے دستخط کئے۔ اس موقع پریو اینڈ ڈی پی کے صوبائی چیف بلوچستان زلفقاردرانی، جامعہ کے رجسٹرار گل محمد کا کڑ، ڈائریکٹر اورک ڈاکٹر وحید نور اور دیگر اساتذہ اور افیسران بھی موجود تھے۔ باہمی سمجھوتے کے تحت دونوں ادارے تعلیمی، تحقیقی، تربیتی سرگرمیوں کو مشترکہ طور پر فروغ دینے سمیت تعاون و اشتراک عمل سے تعلیمی معیار میں بہتری لائیں گے۔سمجھوتے کے مطابق یونیورسٹی آف بلوچستان اور یو این ڈی پی بلوچستان میں پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کی ترقی کو تیز کرنے کی طرف کام کریں گے اور صوبے میں ایجنڈا 2030 کے حصول کے لیے نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انسانی ترقی کو فروغ دینے کے لیے تعاون و اشتراک عمل کو بروء کار لائیں گے۔اس موقع پر جامعہ کے وائس چانسلر نے کہا کہ باہمی سمجھوتے سے تعلیمی، تحقیقی و تربیتی سرگرمیوں کو پروان چڑھایا جائے گا۔ وہاں طلبہ کو بہتر سمت کی جانب راغب اور روزگار کے حصول کے لئے بھی رہنمائی و تعاون کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ اور شعبہ جات کو جدید ٹیکنالوجی سے منسلک کرنے سمیت افرادی قوت کے صلاحیتوں کو دور جدید کے تقاضوں سے آراستہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں جامعہ بلوچستان اور یونائیٹڈ نیشن ڈو یلپمنٹ پاکستان اور صوبائی حکومت کے تعاون و شراکت داری سے مختلف تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جارہا ہے۔جس کا مقصد صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور ترقیاتی و مستقبل کے منصوبوں کو جدید اور سائنسی بنیادوں پر بروء کارلانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ نے ملکی و غیر ملکی اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ساتھ تعاون و اشتراک عمل کو عملی جامہ پہنایا ہے۔ جس کا نصب العین اعلیٰ تعلیم،جدید تحقیق اور ایک دوسرے کے تعاون و اشتراک عمل سے تعلیمی معیار میں بہتری اور ترقیاتی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے سمیت، ترقی یافتہ معاشرے کے قیام مقصود ہے۔اس موقع پر یو اینڈ ڈی پی کے ملکی نمائندہ نے جامعہ بلوچستان کے صوبے میں تعلیمی کاوشوں کو سرہاتے ہوئے کہا کہ مستقبل کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مشترکہ طور پر جن منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا جائے گا وہ یقینا تعلیمی نظام سمیت مختلف شعبہ جات پر بہتر اثرات مرتب کرے گی۔ صوبے میں روزگار کے حصول اور و آمدنی میں اضافے کے لئے مشترکہ طور پر اقدامات ناگزیر ہیں۔ اور مقامی وسائل کو مقامی و صوبائی سطح کی ترقی و خوشحالی کے لئے بروء کار لانا اور تعلیمی نظام کو بہتری کی طرف گامزن اور تعلیمی وسعت کو یقینی بنایا جائے تاکہ ہر فرد تعلیمی یافتہ ہو۔ کیونکہ تعلیم ہی ترقی و کامیابی کی زامن ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں