امریکا نے 2018سے اب تک اپنا سفیر تک پاکستان نہیں بھیجا، شیریں مزاری
اسلام آباد:وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری پاک امریکہ تعلقات سے متعلق پھٹ پڑیں۔ تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں شیریں مزاری نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کیا خاک مثالی ہیں، امریکہ نے 2018 سے اب تک اپنا سفیر تک تو پاکستان بھیجا نہیں ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں سینیٹر مشاہد حسین نے شیریں مزاری سے پوچھا کہ پاکستان پر غلط الزامات کا معاملہ امریکا کے سامنے کیوں نہیں اٹھاتے، آج کل تو حکومت کے امریکہ کے ساتھ مثالی تعلقات ہیں۔مشاہد حسین سید کے اس سوال پر شیریں مزاری پھٹ پڑیں۔ وفاقی وزیر شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ امریکہ نے پاکستان پر غلط الزام عائد کیا ہے۔پاکستان چائلڈ سولجر کے حوالے سے اقوام متحدہ کے چارٹر پر مکمل عمل درآمد کر رہا ہے، چائلڈ سولجر لسٹ کے معاملے پر وزارت دفاع کے ساتھ مل کر اقدامات کریں گے۔ واضح رہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن کی جانب سے وزیراعظم عمران خان سے ٹیلی فونک رابطہ نہ کیے جانے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا تھا۔گذشتہ ماہ وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے اپنے ایک بیان میں امریکی صدر جوبائیڈن کا افغانستان کے معاملے پر وزیراعظم پاکستان عمران خان کو فون نہ کرنا ”سمجھ سے بالاتر” قرار دے دیا تھا تاہم بعد ازاں غیر ملکی صحافی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے وزیراعظم عمران خان سے امریکی صدر جوبائیڈن کے ساتھ ٹیلیفون کے معاملے سے متعلق سوال پوچھا جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں اکثر سنتا ہوں صدر جوبائیڈن نے مجھے فون نہیں کیا تاہم یہ ان کی مرضی پرمنحصر ہے۔وہ مجھے کال کرنا چاہتے ہیں یا نہیں یہ ان کا انتخاب ہے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ ایسا بھی نہیں ہے کہ میں کسی کی فون کال کا انتظار کر رہا ہوں۔اس بحث کے بعد پاک امریکہ تعلقات پر بھی کافی بحث ہوئی تھی اور اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا کہ امریکی صدر اور وزیراعظم عمران خان کے مابین ایک مرتبہ بھی ٹیلی فونک رابطہ نہیں ہوا۔


