سردارصاحب کی شخصیت کے مختلف پہلو

تحریر: انورساجدی
سردارعطاؤ اللہ خان مینگل کا نام میں نے پہلی مرتبہ ان کے ماموں سردار بلوچ خان محمد حسنیٰ سے سنا میں اس وقت ایک چھوٹا بچہ تھا اور پروار پرائمری اسکول میں پڑھتا تھا پروار قصبہ سردار محمدحسنی کی ملکیت تھا جو انہیں سردارمیروانی نے گفٹ کیا تھا کھجوروں کے سیزن میں سردار بلوچ خان ہرسال پردار آتے تھے اور چند دن یہاں پر قیام کرتے تھے ایک مرتبہ انہوں نے مجھے بلایا بہت شفقت دی انکے پاس لوگوں کا اچھا خاصا جھمگٹا ہوتا تھا لیکن وہ مجھے کہانیاں سناتے تھے میں اس وقت اس قابل نہیں تھا کہ ان کہانیوں کے پوشیدہ مقاصد سمجھ سکتا تاہم بعد کے سالوں میں کچھ کہانیاں سمجھنے کے قابل ہوگیا وہ بہت دفعہ بلکہ کثرت سے عطاء اللہ مینگل کاذکر کرتے تھے ان کے ذکر کے ساتھ ہی ان کی آنکھوں میں ایک چمک آجاتی یہ انکے بے پناہ پیار کااظہار تھا کئی بار کہا کہ انہیں سب سے زیادہ پیار اپنے اس بھانجے سے ہے حتیٰ کہ مجھے عارف جان سے بھی زیادہ عطاؤ اللہ عزیز ہے میں نے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ مجھے اپنی ہمشیرہ کی جوانمرگی کا بہت دکھ ہوا ان کی وفات کے بعد میرے بھانجے نے بہت مشکل حالات دیکھے پھر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ میں کچھ بڑا ہوگیا تو سردار صاحب سے مشکے کے ہیڈکوارٹرگجر میں ملاقاتیں ہوتی تھیں۔وہ یہاں پر میردلمراد ساجدی کے ہاں قیام کرتے تھے موقع ملتے ہی میں ان سے مزید کہانیاں سنتا تھا وہ کس طرح سردار بنے وہ بھی بتایا لیکن اس سلسلے میں ایک رائے میرغوث بخش بزنجو کی تھی اور ایک رائے سردار بلوچ خان کی تھی میر صاحب کے بقول وہ نواب خیر بخش کے ہمراہ1954ء میں خان آف قلات میر احمد یار خان سے ملے اور ان پر زوردیا کہ مینگل ایک بڑا قبیلہ ہے سرداررسول بخش کو آپ نے ریاست بدر کردیا ہے بیلہ میں مقیم ہیں اتنا بڑاقبیلہ سردار کے بغیر ادھورا ہے لہٰذا آپ ان کے فرزند عطاؤ اللہ خان کے وڈھ آنے دیں اور ان کی دستار بندی کی منظوری دیں چنانچہ خان صاحب نے یہ درخواست قبول کرلی سردار بلوچ خان نے مجھے بتایا کہ وہ1953ء میں قلات گئے واضح رہے کہ سردار بلوچ خان احمد یار کے بہنوئی تھے وہاں پر انہوں نے خان صاحب سے ملاقات کی اور کہا کہ ان کا بھانجا اپنے والد سے مختلف ہے وہ بہت باصلاحیت اور باکردار نوجوان ہے لہٰذا آپ انہیں واپس آنے اور مینگل قبیلہ کا سربراہ بننے کی اجازت دیں۔انکے بقول احمد یار قائل ہوگئے سردار صاحب نے مزید بتایا کہ چند ماہ بعد مجھے احمد یار نے اپنے فیصلہ سے آگاہ کیا وہ بیلہ گئے اور عطاؤ اللہ خان سے کہا کہ دستاربندی کے سارے انتظامات میں کرتا ہوں آپ واپس آجائیں جس پر وہ آمادہ ہوگئے تاہم ان کے والد نہیں مانے اور کہا کہ اس وقت قبیلہ پر خان صاحب کرم خان کی گرفت مضبوط ہے اسے ریاست کی حمایت بھی حاصل ہے آپ کو تووڈھ میں کوئی جانتا ہی نہیں ہے حتیٰ کہ وہاں پر آپ کیلئے رہنے کی جگہ بھی نہیں ہے اس بارے میں سردار عطاؤ اللہ خان مینگل نے خود مجھے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ میں نے اپنے والد سے کہا کہ میں ہر قیمت پر وڈھ جاؤں گا اگروہاں پر مارا گیا تو آپ یوں سمجھیں کہ آپ کا عطاؤ اللہ نام کا کوئی بیٹا ہی نہیں تھا چنانچہ میں وڈھ چلا آیا اس زمانے میں سڑک بھی نہیں تھی لیکن وڈھ آکر دیکھا کہ حالات مختلف تھے میراسن کرلوگ جوق درجوق آنے لگے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہمارے سردار آپ ہیں اسی دوران خان صاحب کرم خان نے حکومت کو درخواست دی کہ وہ بھی سرداری کے امیدوار ہیں لیکن ان کے دعوے کو قبول نہیں کیا گیا انکے ماموں سردار بلوچ خان نے مزید بتایا کہ وڈھ میں کوئی ایسا انتظام نہیں تھا کہ وہاں پر دستار بندی کی تقریب منعقد کی جائے چنانچہ انہوں نے احمد یار خان کے چچا سلطان ابراہیم کے گھر پر دستار بندی کی تقریب کے انعقاد کا فیصلہ کیا غالباً غالباً یہ مکان آج بھی موجود ہے اور آغاعبدالخالق احمد زئی اس میں رہائش پذیر ہیں ان کے بھائی آغا ظاہر بھی اسی میں رہتے تھے سردار بلوچ خان کے مطابق انہوں نے آغا صاحبان اور مشکے ہندوسیٹھ چیلارام کے تعاون سے تقریب منعقد کی اور اس طرح عطاؤ اللہ خان مینگل قبیلہ کے سردار بن گئے ان کے بقول انہوں نے براہ راست خان صاحب کرم خان کو جو کہ میر غوث بخش بزنجو کے بہنوئی تھے دھمکی دی کہ اگر اس نے کوئی بدمزگی اور بدامنی پیدا کی تو وہ ان سے لڑیں گے اس طرح عطاؤ اللہ خان سردار منتخب ہوگئے۔
سردار عطاؤ اللہ خان کی شخصیت کے بارے میں ان کے ماما بتاتے تھے کہ وہ بہت خوبصورت ہیں ان کی بڑی آنکھیں رنگت سفید ہے قد مجھ سے تھوڑا ساچھوٹا ہے اچھے کپڑے پہنتے ہیں اور انہیں مینگلی چوٹ (پشاور شوز) پہننا پسند ہے یہ جوتے سورج گنج بازار میں واقع سعادت شوز والے بناتے تھے 1960ء کی دہائی میں یہ فیشن کا لازمی حصہ تھے اور ان جوتوں کو سردار صاحب کی وجہ سے فروغ ملا تھا سردار بلوچ خان نے بتایا کہ ان کے بھانجے میں حالات کی وجہ سے غصہ کا عنصر شامل ہے لیکن وہ دل کے بڑے اچھے ہیں جب ہم مڈل میں پڑھتے تھے تو سردارعطاؤ اللہ خان جیبری آئے ہم بھی وہاں گئے اور پہلی مرتبہ انکو براہ راست دیکھا اگلے دن وہ گجر آئے واپسی پر گریشہ میں ہرن کا شکار کھیلا جہاں اس زمانے میں ہرن بڑی تعداد میں موجود تھے سردار بلوچ کے مطابق تیراندازی انہوں نے سکھائی لیکن وہ بہت اچھے تیرانداز نہیں تھے میں نے مشورہ دیا کہ آپ سردار فقیر محمد بزنجو سے یہ ہنر سیکھیں کیونکہ وہ سب سے اچھے تیرانداز تھے۔
اس زمانے میں بلوچوں میں سردارعطاؤ اللہ کی بڑی شہرت تھی اور انہیں بے انتہا مقبولیت حاصل تھی لوگ ایوب خان کیخلاف ان کی جدوجہد کو افسانوی انداز میں پیش کرتے تھے خاص طور پر جب ایوب خان نے لیاری کی آبادی کو منتقل کرکے اس علاقے میں پاکستان کی دارالحکومت بنانے کی کوشش کی تو سردار صاحب نے ککری گراؤنڈ میں ایک پرجوش تقریر کی تھی اگر چہ وہ1956ء میں لیجسلیٹو اسمبلی کے رکن تھے لیکن اس تقریر نے ایک دلیر اور نڈرلیڈر کی حیثیت سے ان کی مقبولیت میں بے انتہا اضافہ کیا اس تقریر میں انہوں نے ایوب خان کو براہ راست چیلنج کرکے انہیں نائی سے تشبیہ دی تھی ککری گراؤنڈ میں ان کی آمد عوامی سیاست کا آغازتھا
سردار عطاؤ اللہ مینگل بحیثیت انسان ایک منفرد شخصیت کے حامل تھے ان کی شخصیت کے جہاں بے شمار مثبت پہلو تھے وہاں ضرور منفی پہلو بھی ہونگے کیونکہ وہ بہت بڑے لیڈر اور قبائلی سردار تھے اگرچہ وہ بلوچستان کے عوامی سیاستدان تھے لیکن وہ اکثر ”ریزرو“ رہتے تھے وہ زیادہ گھلتے ملتے نہیں تھے اگرچہ وزیراعلیٰ بننے کے بعد انہوں نے یہ روایت توڑی کیونکہ وہ ہفتہ میں ایک بار کھلی کچہری لگاتے تھے اور لوگوں کے مسائل سنتے تھے انہوں نے بارہا عام جلسوں سے خطاب کیا لیکن وہ جب گھر کے اندر ہوتے تھے تو بہت کم لوگوں کی ان سے رسائی ہوتی تھی پوری دنیا میں جہاں بھی بلوچ رہتے تھے ان کی شہرت تھی لیکن ذاتی دوست رکھنے میں وہ بہت محتاط تھے سردار صاحب کو انگریزی لباس پہننے کا بہت شوق تھا ولایت میں وہ اکثر یہ لباس زیب تن کرتے تھے اور ہیٹ لازمی پہنتے تھے۔وہ بلاکے حاضر جواب اور فقرے چست کرنے کے ماہر تھے میرغوث بخش بزنجو ہمیشہ ان کی پسندیدہ شخصیت رہے تاہم حکومت کی برطرفی کے بعد پشاور میں نیپ کا جو کنونشن ہوا وہاں پہلی مرتبہ بھٹو سے مذاکرات کے مسئلہ پرسردار صاحب نے میر صاحب پر تنقید کی
انہوں نے کہا کہ آپ جتنا بابائے مذاکرات بنیں لیکن بھٹو بوہری بازار کا سوداگرہے وہ ایک چیز کی قیمت ایک روپے بتاکر آپ کو آٹھ آنے میں دیں گے لیکن وہ ہوگی چار آنے کی
میرصاحب نے کنونشن میں اس کاتلخ جواب بھی دیابھٹو کی پھانسی کے بعد سردار صاحب نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا ایک صحافی نے پوچھا کہ بھٹو ”بیگمات“کی سیاست کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے
سردارصاحب نے کہا کہ بڑی عدت میں ہے اورچھوٹی شدت میں ہے لہٰذا اس پر تبصرے کی کوئی ضرورت نہیں اگست1973ء میں انہوں نے چوہدری ظہوراالٰہی کی دعوت پرگجرات میں ایک جلسہ سے خطاب کیا انہوں نے میزبانوں کا خیال کئے بغیرکہا کہ اہل گجرات میں آپ سے وفا کی کوئی امید لیکر نہیں آیا ہوں مجھے معلوم ہے کہ یہاں کے گڑھے بھی بے وفا ہوتے ہیں وہ سوہنی میہنوال کی رومانی داستان کی طرف اشارہ کررہے تھے جب دشمنوں نے کچھا گڑا رکھ دیا تھا اور وہ چناب میں ڈوب کر مری تھی
1972کو جب وہ وزیراعلیٰ تھے تو انہوں نے بلوچستان یونیورسٹی میں طلباء سے خطاب کیا
کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ لوگ نظریہ پاکستان کے مخالف ہیں میں ان سے پوچھتا ہوں کہ بھائی جب مغربی پاکستان کے سپاہی نے اللہ اکبر کا نعرہ لگاکر گولی چلائی اور مشرقی پاکستان کے لوگوں نے اللہ اکبر کا نعرہ لگاکر اس گولی کو اپنے سینے میں سہا تو کدھر گیا تمہارا نظریہ پاکستان میں کہتاہوں کہ یہ نظریہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خلیج بنگال کی تہہ میں ڈوب گیا ہے
جب سردار صاحب پونم کے سربراہ تھے تو محمود خان نے ایک جلسہ پارلیمنٹ لاجز میں رکھا تھا جب لوگ پہنچے تو حکومت نے ہال پر تالا لگایا تھا جس پر پارلیمنٹ کے سامنے کھلے میدان میں تقاریر کافیصلہ کیا گیا سردار صاحب ایک کرسی پر بیٹھے تھے محمود خان انکے پاس آئے اور کہا کہ سردار صاحب ہم سے یکجہتی کیلئے اسلام آباد کے ایم این اے آئے ہوئے ہیں سینئرسعدیہ عباسی بھی آئی ہے پیلزپنجابیوں کے بارے میں کچھ نہ کہنا لیکن تقریر کے آخر میں سردار صاحب سے رہا نہ گیا اور انہوں نے کہا کہ
اہل پنجاب اگر اس ملک کو کچھ ہوگیا تو رونے کی سب سے اونچی آواز تمہاری ہوگی
سردار صاحب نے گجرات کے جلسہ میں کہا تھا کہ اگر پاکستان کو کچھ ہوگیا تو وہ بلوچستان کا نام پاکستان رکھ دیں گے اس بات پر نوجوانوں نے کافی تنقید بھی کی تھی سردارصاحب کی شخصیت کا احاطہ کرنا ایک کالم کے ذریعے ممکن نہیں اگرچہ ان کی سیاست ساری عمر مزاحمت اور پارلیمانی سیاست کے درمیان معلق رہی لیکن عمر کے آخری حصہ ہیں وہ واضح ہوگئے تھے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ
میں اس ریاست اور اس کے معاملات سے بیزار آگیا ہوں حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جو نوجوان بندوق لیکر پہاڑوں پر گئے ہیں آپ جانتے نہیں کہ وہ کیوں گئے ہیں وہ کبھی آپ کے کہنے پر اپنا اسلحہ نہیں رکھیں گے
سہیل وڑائچ کے سوال کے جواب میں کہا کہ آپ کے منہ میں گھی شکر وہ بلوچستان کے بارے میں ایک حساس مسئلہ پوچھ رہے تھے
سردارصاحب سے کافی معاملات پراختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ بلوچ عوام میں ان کی شخصیت کا اثرطویل عرصہ تک رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں