قریبی ہمسائے کی حیثیت سے پاکستان افغانستان سے علیحدگی اختیار نہیں کرسکتا،شاہ محمود قریشی

اسلام آباد(آئی این پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ قریبی ہمسائے کی حیثیت سے پاکستان افغانستان سے علیحدگی اختیار نہیں کرسکتا،افغانستان سے متعلق تمام پیش گوئیاں اور اندازے غلط ثابت ہوچکے ہیں، پڑوسی ملک میں تبدیلی ایک حقیقت ہے، افغان عوام کے مسائل کے حل کیلئے عالمی برادری کی پائیدار امداد کی ضرورت ہے۔بدھ کو امریکا اور جرمنی کی میزبانی میں افغانستان سے متعلق ورچوئل وزارتی رابطہ اجلاس ہوا جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی اظہار خیال کیا۔محمود قریشی نے کہا کہ مستحکم اور پر امن افغانستان ہی عالمی برادری کا بہتر شراکت دار بن سکتا ہے، قریبی ہمسائے کی حیثیت سے پاکستان افغانستان سے علیحدگی اختیار نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے عالمی برادری کی درخواست پر غیر ملکیوں اور افغان شہریوں کے محفوظ انخلا میں بھر پور معاونت کی، افغانستان کی سابق حکومت کے خاتمے کے بعد مہاجرین کا بڑا بحران سامنے نہیں آیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ افغان عوام کے مسائل کے حل کیلئے عالمی برادری کی پائیدار امداد کی ضرورت ہے، پاکستان پہلے ہی رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ 40لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے۔شاہ محمود نے مزید کہا کہ امریکا کے 10 ارب ڈالر منجمند کرنے سے افغانستان میں معاشی بحران جنم لے سکتا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان کے حوالے سے منعقدہ اس بروقت اجلاس میں مدعو کرنے پر سیکرٹری آف اسٹیٹ، انتھونی بلکن اور جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس کا شکر گزار ہوں، پاکستان،ہمسایہ ملک ہونے کے ناطے، گذشتہ چالیس سالوں سے افغانستان میں جاری جنگ و جدل سے شدید متاثر ہوا۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کا امن و استحکام ہمارے مفاد میں ہے، ہم افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے حوالے سے، صدر بائیڈن کے 31 اگست 2021 کو دیے گئے پیغام کو سراہتے ہیں، ہم بھی یہی سمجھتے ہیں کہ آج افغانستان کی صورتحال یکسر بدل چکی ہیں۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ طالبان کی جانب سے عبوری حکومت کا اعلان کر دیا گیا ہے، پاکستان توقع رکھتا ہے کہ گزشتہ بیس سالوں میں حاصل کی گئی سماجی و اقتصادی ترقی کے فوائد کو محفوظ بنانے کیلئے تحرک کیا جائے گا، افغانستان میں دیرپا قیام امن کیلئے افغانستان کے حوالے سے علاقائی و عالمی روابط کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، پاکستان، افغانستان کا قریبی ہمسایہ ہونے کے ناطے اس صورت حال سے دستبردار نہیں ہو سکتا، اب میں افغانستان کی موجودہ صورتحال پر روشنی ڈالنا چاہوں گا، افغانستان، میں ایک انسانی المیہ جنم لے رہا ہے، افغانستان میں قحط جیسی صورتحال، خوراک کی کمی اور بڑھتے ہوئے افراط زر کے حوالے سے رپورٹس ہم سب کے سامنے ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ طمینانبخش بات یہ ہے کہ افغان حکومت کے خاتمے کے بعد افغان مہاجرین کی جس یلغار کا خطرہ ظاہر کیا جا رہا تھا وہ بظاہر ٹل گیا ہے، ہمیں اس حوالے سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ معاشی بحران اس خطرے کو مزید بڑھا سکتا ہے، افغانستان کے قریبی ہمسایوں بالخصوص پاکستان کیلئے یہ خدشات کء گنا زیادہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ افغانوں کی معاشی معاونت کو یقینی بنایا جائے، افغانستان کے ساتھ ہمارے بارڈرز، افغانوں کیلئے کھلے ہیں لیکن دنیا کو ہماری بساط کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے، ہم پہلے سے ہی دستاویزی اور غیر دستاویزی طور پر 4 ملین افغان مہاجرین کی میزبانی کرتے آ رہے ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے جو کرونا جیسی عالمی وبا سے نبرد آزما ہے، ہمارے وسائل مزید مہاجرین کا بوجھ برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے، عالمی برادری کو افغان شہریوں کو ترجیح دینا ہو گی،افغانستان کو اس کے غیر ملکی زخائر اور عالمی مالیاتی اداروں تک رسائی نہ دینے سے ان کے مسائل کا تدارک نہیں ہو سکتا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ ہمارے اجتماعی مفاد میں ہے کہ ہم معاشی مشکلات کے باعث افغانوں کو ہجرت کرنے کا موقع فراہم نہ کریں جو بصورتِ دیگر اپنے ملک میں اطمینان سے رہ سکتے ہیں، پاکستان نے کابل سے مختلف ممالک کے شہریوں کو انخلا میں بھرپور معاونت فراہم کی، پاکستان نے امریکہ کی درخواست پر بیرونی ممالک میں منتقلی کے خواہش مند افغانوں کے "ٹرانزٹ” کے بندوبست کیے، ہمیں توقع ہے کہ افغانستان سے نکلنے کے خواہشمند افغانوں اور غیرملکیوں کے محفوظ انخلا کے وعدے کی مکمل پاسداری کی جائے گی، کابل ہوائی اڈے کا فعال رہنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح ہمارے باڈرز پر موجود دبا میں کمی لانے میں مدد ملے گی، ہم سب جانتے ہیں کہ یہ اجلاس 11 ستمبر کے حملوں کو بیس سال مکمل ہونے سے قبل منعقد ہو رہا ہے، یہ افغانستان میں انسداد دہشت گردی کے حوالے سے ہمارے مشترکہ مفاد کی یاد دلاتا ہے، پاکستان سے بڑھ کر کوئی ملک ایسا نہیں جو چاہتا ہو کہ افغانستان دہشت گرد گروہوں کی پھر سے آماجگاہ نہ بنے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم نے 80 ہزار جانوں کی قربانی دی اور ہمارے ملک کو 150 ارب ڈالر کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا، ہمیں تشویش ہے کہ کہیں القاعدہ، آئی ایس آئی ایس – کے،؛ بی ایل اے، اور تحریک طالبان پاکستان جیسے دہشت گرد گروہ، افغانستان کی سرزمینِ کو اپنے مضموم مقاصد کیلئے استعمال نہ کریں،یہ صورت حال افغانستان میں ایک مضبوط اور مستحکم حکومت کی ضرورت کو واضح کرتی ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ صرف ایسی مضبوط حکومت ہی افغانستان پر اپنی عملداری قائم کر سکتی ہے اور عالمی برادری کے ساتھ، ان دہشت گردوں کو جگہ نہ دینے کے حوالے سے معاونت کر سکتی ہے جو ہمارے ممالک کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں، لہذا ضروری ہے کہ ایسا سیاسی خلا پیدا نہ ہونے دیا جائے جس میں عدم تحفظ اور عدم استحکام کی صورتحال پیدا ہو، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عالمی برادری کی جانب سے افغانستان کی مستقل معاونت ہی انسداد دہشت گردی کے حوالے سے ہماری بہترین سرمایہ کاری شمار ہو سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں