سردار مینگل کے دھڑکتے دل کی موہوم امیدیں

تحریر:امان اللہ شادیزئی
سردار مینگل سے ملاقات کے حوالے سے جوکالم لکھ رہاتھا اس میں لاہور جانے کی وجہ سے تسلسل برقرار نہ رہا اب دوبارہ بات وہاں سے شروع کریں گے جہاں سے چھوڑی تھی چونکہ ان سے گفتگو بڑی دلچسپ تھی اور سردارصاحب بھی اپنے خیالات کا اظہار کھل کرکررہے تھے اس لئے بات سے بات نکلتی چلی جارہی تھی وہ بہت خوشگوار موڈمیں تھے سردار عطااللہ مینگل ایک لحاظ سے بلوچستان کی سیاست کے نشیب وفراز کا ایک تاریخی باب ہیں بلوچستان کی تاریخ ان کے بغیر نامکمل رہے گی آج بلوچ نوجوانوں میں سیاسی شعور او رجدوجہد کا جذبہ نظرآرہاہے اس میں سردار مینگل کے کردار کو کیسے نظر انداز کیا جاسکتا ہے نواب خیر بخش مری‘نوب بگٹی اس جدوجہد کے پس منظر میں ہمیشہ موجودرہیں گے ایک موقع پر بلوچ نوجوانوں سے ملاقات کا موقع ملا اور گفتگو ہوئی تووہ سردار مینگل کے خلاف بول رہے تھے اورا نہیں اپنے راستے میں رکاوٹ سمجھتے تھے ان سے کہا کہ آج آپ جس کے خلاف بول رہے ہیں اس نے تو اپنی جوانی اور زندگی کے یاد گار لمحات بلوچوں کے حقوق کی جدوجہدمیں گزارے ہیں جیل گئے ہیں مشکلات برداشت کی ہیں سردار مینگل اگرسرکار کی گود میں بیٹھے توآج جوآپ سیاسی شعور کی بات کررہے ہیں اور آزادی کی بات کررہے ہیں یہ سب کچھ نہ ہوتا اگر بلوچ سردار اور بلوچ زعماء یہ جدوجہدنہ کرتے بلوچ قوم ان سرداروں کے زیر احسان رہے گی نواب بگٹی نواب مری سردار مینگل کو تاریخ فراموش نہ کر سکے گی آج جس مرحلہ پر حکمرانوں کی زیادتیوں نے بلوچوں کو پہچاد یا ہے وہاں تقسیم بڑی واضح نظرآرہی ہے اب یہ سیاست پارلیمانی سیاست اور مسلح سیاست میں تقسیم ہوگئی ہے سردار مینگل کی سوچ ابھی اس طرف نہیں گئی جس طرف بعض نوجوان چلے گئے ہیں سردار مینگل نے اس حوالے سے کھل کراپنا موقف ہمارے سامنے رکھا اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے رکھ دیا اور کہا کہ میں لکھ دیتاہوں کہ اس کے کیا نتائج نکلیں گے جب ہماری ملاقات نواب خیر بخش مری سے ہوئی تو میرے ہمراہ مختار حسن(مرحوم) عبدالماجدفوز (مرحوم) ساتھ تھے اور وہ جنرل ضیاء الحق کے اس فیصلہ کے بعد جیل سے رہاہوکر کوئٹہ آئے تھے جب ضیاء الحق نے بھٹوکا تختہ الٹ دیا تھا اور حیدرآباد ٹریبونل توڑدیا تھا نواب خیربخش مری سیاسی گفتگوکو بڑی پیچیداور فلسفانہ طور پر بیان کرتے ہیں اور سننے والا بعض دفعہ الجھن میں پڑجاتا ہے۔انہوں نے ہمیں بتلایا کہ جب ہم بھٹو کے خلاف جدوجہد کررہے تھے تو ہمیں ایک ملک نے پیشکش کی کہ ہم آپ کی مد د کرنے کو تیار ہیں تو ہم نے ان کی پیشکش کو قبول نہیں کیا اور نواب مری نے کہا کہ اگر اہم نے اس حکومت کی بدولت آزادی حاصل کرسکتے تو پھر ہم اس کے غلام ہوجاتے ہیں جس نے ہماری مدد کی ہوتی اور ہمارے گلے میں اس کی زنجیر ہوتی کچھ اس سے ملتے جلتے خیالات کا اظہار سردار مینگل نے کیا اور کہاکہ ہم تو افغانستان اور ایران کے ہمسایہ ہیں توکیا ہم اپنی آزادی کو برقراررکھ سکیں گے لیکن سردار مینگل نے کہا کہ کون کافرہوگا جو آزادی کو پسند نہ کرے لیکن خدشات بھی نظر آتے ہیں انہوں نے کہا کہ جب وزیراعظم مجھ سے ملے تو جن لوگوں نے اس ملاقات کا پروگرام بنایا تھا انہیں اس ملاقات کے بعد بڑی مایوسی ہوئی ہوگی وزیر اعظم سے کہا کہ آپ غلط وقت پر آئے ہیں میرے پاس کیاہے جو میں آپ کودے سکتا ہوں اور ہمیں بتلایا کہ ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ بے اختیار ہیں اور جن کے پاس اختیارات ہیں ہو ہم سے بات کرنا پسند نہیں کرتے تو مسئلہ کیسے حل ہوگا۔ سردار مینگل نے کہا کہ حکمران تو ہمیں انسان ہی نہیں سمجھتے وہ ہمیں برابری کا حق دیئے کیلئے تیار نہیں ہیں آپ دیکھیں کہ وہ ہمارے ساتھ کیسا سلوک کرتے رہے ہیں ایوب خان کے دور میں فوجی اپریشن ہوااور اس کے بعد آج تک ہم اس کی زد میں ہیں اس پر سردار اختر مینگل نے ہنستے ہوئے دلچسپ واقعہ بتلایا اور کہا میرے سیاست میں آنے کاسبب ایک دلچسپ واقعہ بنااس موقع پر انہوں نے بتلایا کہ آپ لوگ بیلہ سے وڈھ تک گئے ہو آج یہ ایک پختہ سٹرک ہے اور جب میں سردار بناتھا تواس وقت یہ سڑک نہ تھی اور پھر میں نے اپنے لوگو ں کی مدد سے یہ سٹرک بنائی اور اس پر بجری ڈالی اور یہ گاڑیوں کے قابل ہوگئی ورنہ ہم اونٹوں پر سفر کرتے تھے اور پھر وہ دلچسپ واقعہ سنایا جس نے نوجوان قبائلی سردارکوسیاست کے تلخ میدان کا زار میں دھکیل دیا انہوں نے بتلایا کہ ہم کچھ افسروں کے ساتھ سفر کررہے تھے چونکہ راستہ کچھ دشوار تھا اور ان کی گاڑی ہم سے آگے جارہی تھی ہم اپنی گاڑی اس خیال سے ان کے آگے لے گئے کہ وہ غلط راستے پر نہ نکل جائیں صرف ان کی رہنمائی کیلئے آگے نکلابعد میں وہ میرے پیچھے نہیں آئے اور غلط راستے پر نکل گئے تھے بعد میں میرے پیچھے نہیں آئے میں جب واپس لوٹاتوکمشنر قلات کودعوت دی اور وہ آفیسربھی موجودتھا جب ہم سب کھانے کی میزکی طرف جانے لگے تو کمشنر نے کہا وہ آفیسرآپ سے ناراض ہے اگر آپ اس کو کھانے کا ہیں گے تواس کی ناراضی دور ہوجائے گی میں نے کمشنر سے کہا کہ میں نے توآپ کی دعوت کی ہے وہ اگر کھانے پر نہیں آئے گا تو میری طرف سے جہنم میں جائے میں اس کو کھانے کا نہیں کہوں گا بعد میں اس نے کھانا کھا لیا مجھے اس وقت احساس ہوا کہ یہ تو ہمیں اپنے برابر نہیں سمجھتے او رہمیں کمترسمجھتے ہیں او رفیصلہ کرلیا کہ اپنی قوم میں شعور بیداکروں گااور حقوق کی جدوجہد کروں گایوں میں سرداری سیاست کی طرف آگیا اور آج میں 80 سال کا ہونے والاہوں اس واقعہ کو سنایا اور خوب ہنسے او رچہرہ پر کچھ غصہ کے آثار بھی تھے اس واقعہ نے تلخ یادوں کو تازہ کردیا تھا سردار مینگل سے گزارش کی کہ آپ پنجاب کا دورہ کریں اور جوکچھ بلوچستان میں ہورہاہے انہیں بتلائیں آج پنجاب آپ کو سنتا چاہتاہے سردار مینگل نے کہا کہ اب میری عمر 80 سال ہوگئی ہے اب مجھ میں حوصلہ نہیں ہے کہ اس عمرمیں دورہ کروں اور کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ اب پنجاب میں بھی فوج کے خلاف لوگ بولتے ہیں اور سنتے ہیں اس کا اندازہ مجھے شہباز شریف سے ملاقات کے بعد ہوا سردار مینگل سے یہ گفتگواتنی دلچسپ اور فکرانگیزتہلکہچائے پینے کے علاوہ کسی اور چیز کے کھانے کا خیال ہی نہیں آیا تمام ٹیبلوں پر جوکچھ لوازمات موجود تھے وہ ویسے ہی رہ گئے بعد میں اپنے دوستوں سے کہا کہ یار ہم لوگوں نے سردار مینگل کو نقصان ہی نہیں پہنچایا سب کچھ ویساہی موجود رہ گیا پھر ہم خوب ہنسے پھر انہیں تفہیم القرآن کے جلدوں کا سیٹ تحفہ کے طور پر دیا وہ بہت خوش ہوئے او رکہا کہ جب میں جیل میں تھا توجماعت اسلامی نے تفہیم دی تھی پھر ہم سب نے ان کے ساتھ فوٹوسیشن کیااور سردار مینگل سے کہاکہ آپ پنجاب کادورہ کریں توانہوں ہنستے ہوئے کہا کہ یہ شادیزئی کہیں مجھے مروانہ دے ہم سب دوبارہ بیٹھ گئے عبدالمتین اخوانزادہ نے انہیں پیشکش کی کہ وہ دورہ کریں انہوں نے شکریہ ادا کیا اس کے بعد ہم نے ان سے اجازت لی تو سردار عطاء اللہ مینگل ہمیں رخصت کر نے اپنے مہمان خانے سے باہر آئے اور روانہ ہوگئے اور ہمیں رخصت کیا تو پھر وہ خانے کی طرف چلے گئے ان سے مل کر خوشی بھی ہوئی اور کچھ اداسی کی کیفیت بھی تھی انہیں 40سال پہلے دیکھا تو اب دوبارہ ریکھ رہا تھا انہوں نے اپنی بھر پور سیاست کا دور مکمل کرلیا ہے انہیں اس کا ملال ضرور ہوگاکہ بلوچ عوام وہاں نہیں پہنچ سکی جہاں ایک خوبصورت بلوچستان وجود میں آجاتا اور بلوچ قوم ایک تابناک اور خوشحال مستقبل کی دہلیز پر کھری ہوتی سردار مینگل کی خوبصورت خواب دھند میں کھو گئے ہیں انہی خیالات میں ان کا مہمان خانے سے رخصت ہوگئے وڈھ میں ان کی رہائش گاہ سے کچھ فاصلے پر ایک خوبصورت جامع مسجد پر نظر پڑی تو محمد اسلم گزگی نے بتلایا کہ یہ سردار مینگل نے تعمیر کرائی ہے وڈھ کی سب سے خوبصورت مجسد ہے بس دور سے جی بھر کر کے دیکھا پھر ہم وڈھ پریس کلب پہنے یہ بھی سردار مینگل نے عطیہ کیا ہے بڑی خوشی ہوئی کچھ دیر پریس کلب میں عبدالمتین اخوانزادہ اور مجھے صحافیوں سے مختصر گفتگو کرنا پڑی وڈھ ہی میں دو پہر کا کھانا کھایا اور روانہ ہوگئے۔
(نوٹ یہ کالم 2011میں بھی شائع ہوچکا ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں