آئندہ الیکشن نئی مردم شماری کی بنیاد پر ہوگا، عمران خان ہی اگلے وزیر اعظم ہوں گے، اسد عمر
کراچی:وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات اسد عمر نے نئی مردم شماری اور نئی حلقہ بندی کا عندیہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان ایک مرتبہ پھر وزیر اعظم کی حیثیت سے 5 سال پورے کریں گے۔کراچی میں وزیر بحری امور علی زیدی کےہمراہ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری کے بعد مردم شماری 2023 کے اوائل میں مکمل کرنے کا ہدف ہے اور اس کے بعد حلقہ بندی کی جائے گئی۔
علاوہ ازیں انہوں نے کراچی سے متعلق کہا کہ اکتوبر کے آخر تک گرین لائن منصوبہ فعال کیے جانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ منصوبہ مکمل ہوچکا ہے اور آئندہ ہفتے تک 40 بسیں بندرگاہ پر پہنچ جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے ساتھ معاشی مستقبل جوڑا ہوا ہے اور معاشی مستقبل سے قومی سلامتی جوڑی ہوئی ہے کیونکہ 50 فیصد ایکسپورٹ اسی صنعتی شہر سے ہورہی ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سابقہ صوبائی حکومتوں نے کراچی میں بڑے کام نہیں کیے اس لیے بڑے منصوبوں پر کام جاری ہے جبکہ ہماری کابینہ میں کچھ اراکین نے کراچی پر اتنی خطیر رقم لگانے پر اعتراضات بھی کیے تھے۔اسد عمر نے عمران خان کو کراچی کا چیمئین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس صنعتی شہر کے لیے وفاق کے 5 بڑے منصوبے جاری ہیں، بڑے منصوبوں کی منصوبہ بندی میں وقت درکار ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کا سب بڑا مسئلہ پانی ہے، کے فور منصوبہ جو ایک دہائی سے تعطل کا شکار تھی، شدید اختلاف کے باوجود ہم نے منصوبہ کی ذمہ داری لی اور 28 اکتوبر تک منصوبے کا ڈیزائن کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ فروری 2022 میں کام دوبارہ شروع ہوگا، منصوبے کو حکومت سندھ سے وفاقی ادارے واپڈا کے پاس منتقل کردیا ہے، واپڈا کے مطابق اکتوبر 2023 میں پانی کراچی تک پہنچادیا جائےگا۔
انہوں نے صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کی سڑکوں کی کارپیٹنگ، کچرا اٹھانے کا کام وفاق کا نہیں بلکہ صوبائی حکومت کا ہے۔
اسد عمر نے وفاق کے فیصلے سے آگاہ کیا کہ ہم کراچی میں چھوٹے چھوٹے کام بھی کریں جس پر وزیر اعلیٰ سندھ کو بہت اعتراض ہے، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری وقت مانگتے ہیں جبکہ یہ پارٹی 4 مرتبہ وفاق میں آئی اور گزشتہ 10 برس سے صوبائی حکومت میں ہے لیکن کراچی کے لیے کوئی کام نہیں کیا۔
کورونا ویکسین سے متعلق سے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کراچی کے لیے سندھ کی صوبائی حکومت کو 10 ارب روپے سے زیادہ کی ویکسین فراہم کرچکی ہے۔انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ ایک ٹیکہ بھی کسی شہری کو دینے میں ناکام ہے، تمام ویکسین نے وفاق میں لگائی ہیں، ساڑے 6 کروڑ سے زیادہ ویکسین لگ چکی ہیں، ہمارا ہدف جب مکمل ہوگا تو 25 ارب روپے کی ویکسین لگائی جا چکی ہوگی۔
اسد عمر نے کہا کہ یہ کوئی احسان نہیں ہوگا کیونکہ یہ کراچی کا پیسہ ہے جو یہاں لگے گا اور خوشی ہے۔مردم شماری سے متعلق انہوں نے کہا کہ کراچی میں شفاف مرد شماری کا مطالبہ دیرینہ ہے، سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کراچی میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مقابلے میں زیادہ بہتر کام کروائے، اس میں کوئی شک نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’لیکن وہ باوردی اور چیف ایگزیکٹو ہوتے کراچی میں مردم شماری نہیں کراسکے، 2017 میں ہونے والی مردم شمار پر بہت اعتراض سامنے آئے تھے لیکن حکومت سندھ نے مردم شماری کا سارا ڈیٹا جمع کیا اور خودہی احتجاج کیا‘۔انہوں نے کہا کہ کابینہ کی منظوری کے لیے سمری دے کر آیا ہوں، جس کا مطلب ہے کہ مردم شماری دوبارہ ہوگئی جس میں ٹیکنالوجی کا استعمال ہوگا، نادرا، ٹیلی سیکٹر کی کمپنیوں سمیت دیگر بڑے اداوں کی معاونت حاصل ہوگی۔
اسد عمر نے کہا کہ ہم مردشماری سے متعلق حقیقت چاہتے ہیں، جو نتائج ہیں وہ سامنے آجائیں، تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کررہے ہیں، کابینہ کی منظوری کے بعد سمری مشترکہ مفادات کو نسل کو ارسال کردے گی۔
انہوں نے کہا کہ منظوری کے بعد مردم شماری کے عمل کو 18 مہینے میں مکمل کرنا ہے، 2023 کے اوائل کے مردم شماری مکمل کرنے کا ہدف ہے اور اس کے بعد حلقہ بندی کی جائے۔
وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ عمران خان اگلی مدت کے لیے بھی وزیر اعظم بننے جارہے ہیں، الیکشن نئی مردم شماری کی بنیاد پر ہوگا۔اسد عمر نے پیپلز پارٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ مردم شماری کے لیے ہماری مدد کرسکتے ہیں تو ضرور کیجئے ورنہ محض بینرز لگانا اور ڈرگ روڈ کے راستے میں رکاوٹ کھڑی کرنا آپ کا حق ہے وہ آپ کرتے رہیں۔


