قندھار، ہزاروں افراد کا طالبان کیخلاف احتجاج،میرے کپڑوں کو ہاتھ مت لگاؤں افغان خواتین کی شوشل میڈیا مہم
کابل (انتخاب نیوز+ ایجنسیز)افغانستان کے جنوبی شہر قندھار میں ہزاروں افغانوں نے طالبان کے خلاف آرمی کالونی کو خالی کرنے کے احکامات جاری کرنے پر احتجاج کیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق مظاہرے کے عینی شاہد سابق حکومتی عہدیدار کے مطابق تقریباً 3 ہزار خاندانوں کو کالونی چھوڑنے کے کہنے کے بعد مظاہرین قندھار میں گورنر ہاؤس کے سامنے اکٹھے ہوئے۔مقامی میڈیا کی فوٹیج میں دکھایا گیا کہ لوگوں کے ہجوم نے شہر میں سڑک بلاک کردی ہے۔متاثرہ علاقے پر بنیادی طور پر ریٹائرڈ آرمی جنرلز کے خاندانوں اور افغان سکیورٹی فورسز کے دیگر ارکان رہائش پذیر ہیں۔عہدیدار نے بتایا کہ ان خاندانوں میں سے چند تقریبا 30 سالوں سے ضلع میں مقیم تھے اور انہیں خالی کرنے کے لیے تین روز کا وقت دیا گیا ہے۔طالبان ترجمان نے فوری طور پر انخلا پر رائے دینے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ افغانستان کی بعض خواتین نے طالبان کی مخالفت میں سوشل میڈیا پر ایک مہم شروع کی ہے جس کا نام ڈو ناٹ ٹچ مائی کلوتھس ”میرے کپڑوں کو ہاتھ مت لگا ؤ“اس مہم میں خواتین آن لائن اپنے روایتی کپڑوں میں اپنی تصاویر پوسٹ کر رہی ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق افغانستان کا سوشل میڈیا ہو یا پاکستان اور انڈیا کا، کچھ تصاویر جو ہر جگہ گذشتہ چند دن سے وائرل نظر آ رہی ہیں ان میں متعدد خواتین کو سر تا پا سیاہ لباس اور برقع پہنے کابل یونیورسٹی کے لیکچر تھیٹر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ان نقاب پوش خواتین کی تصاویر نے ملک میں افغان طالبان کی حکومت میں خواتین کی حیثیت اور اہمیت کے علاوہ اس بات پر بھی بحث چھیڑ دی کہ آیا اس قسم کا لباس جس میں عورت کی آنکھیں تک دکھائی نہ دیں کیا افغانستان کی ثقافت کا حصہ ہے؟سوشل میڈیا پر چند افغان اور پاکستانی صارفین اس برقعے کو سعودیہ سے امپورڈ شدہ سلفی نظریات کا تحفہ یا عربنائزیشن قرار دے رہے ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ سیاہ برقع ہمارے معاشروں کو سعودی عرب کی طرف سے ملنے والے سخت گیر نظریات کا تحفہ ہے۔چند خواتین صارفین کا کہنا تھاکہ یہ سیدھا سیدھا سعودی فیشن ہے کیونکہ افغان خواتین یا تو نیلے ٹوپی والے برقعے پہنتی ہیں یا سفید برقع یا چادر یا سکارف لیتی ہیں۔


