بارڈز کی بندش، بلوچستان کے عوام کو نان شبینہ کا محتاج بنا دیا گیا ہے، عبدالکریم نوشیروانی

کوئٹہ :بلوچستان عوامی پارٹی کے سینئر نائب صدر اور سابق صوبائی وزیر میر عبدالکریم نوشیروانی نے کہا ہے کہ بارڈرز کی بندش، بے روزگاری اور مہنگائی نے بلوچستان کے عوام کو نان شبینہ کا محتاج بنا دیا ہے، اگر صورتحال ایسی رہی اور تحریک انصاف کی حکومت عوام پر مہنگائی کا ہائیڈروجن بم گراتی رہی تو حالات اس نہج پر پہنچ جائیں گے کہ واپسی ممکن نہیں ہوگی۔ معاشی لحاظ اور بے روزگاری و غربت سے ملک میں دہشتگردی اور انتہاپسندی کی جڑیں مضبوط ہونگی جس کا یہ ملک اور صوبہ مزید متحمل نہیں ہوسکتے۔ یہ بات انہوں نے کوئٹہ میں اپنی رہائش گاہ پر ملاقات کرنے والے مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ سابق صوبائی وزیر میر عبدالکریم نوشیروانی نے کہاکہ بلوچستان کی سرحدیں افغانستان،ا یران سے منسلک ہیں جہاں غریب لوگ چھوٹا موٹا کاروبار اور تجارت کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں لیکن ان سرحدوں کی بندش کی وجہ سے وہ بے روزگار ہوگئے ہیں اور نان شبینہ کے محتاج ہو کر رہ گئے ہیں۔ عمران حکومت ٹیکس پر ٹیکس لگا رہی ہے مہنگائی کا ایٹم بم نہیں بلکہ ہائیڈروجن بم عوام پر گراچکی ہے۔ بے روزگاری، غربت اور مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اگر صورتحال یونہی رہی تو پاکستان کو نہ صرف معاشی لحاظ سے بہت بڑا نقصان ہوگا بلکہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے رحجان میں اضافہ ہوگا جس کا یہ ملک اور صوبہ مزید متحمل نہیں ہوسکتا۔ حکومت وقت نے اگر اب بھی ہوش کے ناخن نہ لئے تو اسکے انتہائی منفی اثرات مرتب ہونگے۔ عوام کا جمہوریت اور جمہوری اداروں سے اعتماد اٹھ جائے گا۔ انہوں نے مزید کہاکہ بلوچستان میں کسٹم ڈرگ اور اسلحہ کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لئے اپنا کلیدی کردار ادا کررہا ہے جس کے لئے کلکٹر کسٹم بلوچستان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں لیکن ان حالات میں کلکٹر کسٹم سے گزارش ہے کہ وہ عوام کی بری حالت کو مد نظر رکھتے ہوئے کابلی گاڑیوں کے خلاف کارروائی پر ہاتھ ہلکا رکھیں کیونکہ صوبے کے غریب عوام کے پاس اسکے سوا کوئی چارہ نہیں، امید ہے کہ کلکٹر کسٹم اس حوالے سے اعلی حکام سے بات کرکے مثبت اقدام اٹھائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں