مری میں کمرہ عدالت سے اغوا کیا گیا جوڑا بازیاب کروا لیا گیا

مری: مری کی عدالت میں بیان دینے کے لیے جانے والے جوڑے کو اغوا کے بعد بازیاب کروالیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق مری کی عدالت میں گذشتہ روز پسند کی شادی کرنے والا جوڑا بیان دینے پہنچا تھا، اس موقع پر درجنوں افراد عدالت سے جوڑے کو اٹھا کر لے گئے تھے، سوشل میڈیا پر واقعہ کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور نوبیاہتا جوڑے کو کجوٹ کے مقام سے بازیاب کروا کر اپنی تحویل میں لے لیا۔میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایس پی صدر کامران عامر اور اے ایس پی مری مغوی کی بازیابی کے آپریشن کی خود نگرانی کرتے رہے۔ ایس کامران عامر نے بتایا کہ واقعہ کا مقدمہ دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے، مقدمے میں اب تک 10 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔گرفتار ملزمان میں عبدالمنان، عبدالمتین، زیاب، حامد، قمر زمان، شاہ ذیب، آصف، نصیر، عدنان اور ناصر شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی، واقعہ میں ملوث تمام افراد کو گرفتار کر کے قرارواقعی سزا دلوائی جائے گی، ملزمان کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان عدالت کیا جائے گا۔ دوسری جانب اغوا ہونے والی لڑکی کا ویڈیو بیان بھی سامنے آ گیا ہے جس میں لڑکی نے مری پولیس کو شکریہ ادا کیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پولیس نے پسند کی شادی کرنے والی لڑکی کو دارالامان بھجوادیا ہے۔دارالامان منتقل ہونے کے بعد لڑکی نے وڈیو بیان جاری کیا جس میں اس نے کہا کہ میرا نام قر العین ہے، میں نے اپنی مرضی سے نعمان سے نکاح کیا ہے، مجھے کسی نے اغوا نہیں کیا، میں اور نعمان عدالت میں بیان دینے گے تھے، میرے رشتہ داروں نے وہاں آکر بدتمیزی کی، مجھے اور نعمان کو اٹھا کر لے گئے وہاں اگر پولیس وقت پر نہ پہنچتی تو مجھے مار دیا جاتا، مری پولیس کی شکر گزار ہوں کہ وقت پر پہنچ کر مجھے چھڑوا لیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں