جام حکومت کی تبدیلی اسٹیبلشمنٹ کے مرضی کے بغیر ممکن نہیں،مولانا شیرانی

دکی:جمعیت علما اسلام پاکستان کے مرکزی رہنماہ مولانا محمد خان شیرانی نے قبائلی رہنماہ حاجی عمران ناصر کی رہائش گاہ پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اسٹیبلشمنٹ کا ہے جام حکومت کی تبدیلی اسٹیبلشمنٹ کے مرضی کے بغیر ممکن نہیں۔فوج اور چھانی کے مرضی کے بغیر کوئی حکومت تبدیل نہیں کرسکتا اگر اسٹیبلشمنٹ جام کمال سے راضی ہے تو اسے کوئی تبدیل نہیں کرسکتا اگر اسٹیبلشمنٹ جام حکومت سے راضی نہیں تو سیاسی طریقے سے ہی جام کو ہٹایا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ جمعہوریت اسٹیبلشمنٹ کی ضرورت ہے کیونکہ اسٹیبلشمنٹ جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر دنیا کی نظروں سے اپنے اپکو اوجھل رکھنا چاہتی ہے اسٹیبلشمنٹ ناکامی کا ملبہ ہمیشہ سیاسی لوگوں کے سر تھوپنا چاہتی ہے۔اسٹیبلشمنٹ سیاستدانوں کو مہروں کی طرح استعمال کرتی یے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام ظالمانہ ہیانسانی حقوق کے نعرے محض دھوکہ ہیں۔عام آدمی کے حقوق اسی نظام نے غضب کئے ہوئے ہیں۔ پی ڈی ایم اور اسٹیبلشمنٹ ملک کو توڑنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔تین صوبے کے پی کے بلوچستان اور سندھ اپنے اپکو مظلوم کہتے ہیں اور ان تینوں صوبوں سے محرومیوں کی آوازیں بلند ہورہی ہیں اگر صرف پنجاب سے آواز بلند ہوئی تو ملک کو توڑنے کے لئے راہ ہموار ہوجائیگی۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امریکہ کی شکست کے نعرے جھوٹ ہیں امریکہ کو شکست نہیں ہوئی ہے اگر امریکہ واقعی شکست خوردہ ہے اور تال بان فاتحہ تو فاتحہ تا ل با ن امریکہ سے مدد کیوں طلب کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کو دنیا میں امن لانا مطلوب نہیں کیونکہ اگر دنیا پر جنگ مسلط رہتی ہے تو امریکہ کی چودھراہٹ بھی قائم رہیگی جنگ کے خاتمے سے امریکہ کی چودھراہٹ خودبخود ختم ہو جائیگی۔ڈی جی آئی ایس آئی کے تقرری کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے میرا موقف واضح اور ان دا ریکارڈ ہے قبل ازیں مولانا محمد خان شیرانی ایک روزہ دورے پر دکی پہنچے جہاں انہوں نے قبائلی رہنماہ سردار معصوم خان ترین کے بھائی اور ایم این اے سردار اسرار ترین کے چچازاد کے وفات پر تعزیت کا اظہار کیا اور مولانا خلیل الرحمان ترین اور قبائلی رہنماہ حاجی محمد عمران ناصر کی جانب سے دئیے گئے چائے پارٹی میں شرکت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں