دو دہائیاں گزرنے کے باوجود پنجگور کے دیہی اسکولوں میں ٹیچرز کی تعیناتیوں کا مرحلہ مکمل نہیں ہوسکا

پنجگور: دو دہائیاں گزر جانے کے باوجود پنجگور کے دیہی اسکولوں میں اہم مضامین کو پڑھانے کے لئے ٹیچرز کی تعیناتیوں کا مرحلہ مکمل نہیں ہوسکا جس کی وجہ سے اعلی تعلیم کے مواقعے نہ صرف ضائع ہوئے بلکہ ایسے سینکڑوں طلباء کے خواب بھی ادھورے رہ گئے جو ڈاکٹر انجینئر اور دیگر اعلی عہدوں پر پہنچنے کی آس لگائے بیٹھے تھے۔ ان بدقسمت علاقوں میں جہاں پنجگور کی 40 فیصد آبادی رہائش پذیر ہے ان علاقوں میں تحصیل پروم،تحصیل گوارگو کیلکور کی دو یونین کونسلیں، سب تحصیل گچک اور سب تحصیل کلگ شامل ہے ویسے ہی طبقاتی نظام تعلیم نے عام لوگوں کی بربادی کے لیے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑا تھا اور مذید دوردراز علاقوں کو تعلیمی سہولتوں کے حوالے سے نظر انداز کرنے سے ناخواندگی میں مزید اضافہ ہوا ہے سب تحصیل کلگ جو چتکان سٹی سے محض پندرہ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے یہاں دو ہائی سکول ہیں اور تقریبا دودرجن کے قریب مڈل اور پرائمری اسکول بھی ہیں ہائی اسکولوں کی حالت زار پر اگر نوحہ کیا جائے تو بجا نہ ہوگا کہ دنیا چاند پر کمند باندھنے کی جستجو میں لگی ہوئی ہے اور ایک ہم ہیں جو ابھی تک بے سے بکری اور ت سے تختی سے آگے نہیں بڑھے ہیں ہائی سکولوں میں نہ سائنس لیبارٹریز موجود ہیں اور نہ سائنس، انگریزی اور ریاضی پڑھانے کے لیے ٹیچرز دستیاب ہیں جب ہزاروں کی آبادی کو دور حاضر کے تقاضوں سے جوڑنے کے لیے مناسب تعلیمی مواقعے میسر نہیں تو پھر کیسے یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ حکومت تمام لوگوں کو یکساں تعلیمی مواقع فراہم کررہی ہے ب بکری اور ت تختی سے ترقی اس وقت ممکن ہوگی جب چ سے چاند کی روشنی کو دہی علاقوں میں بھی پھیلایا جائے گا ظاہر ہے پرائمری ٹیچرز کی بساط تو ت تختی تک ہے ریاضی سائنس اور انگریزی نہ پڑھانے کیمواقعے فراہم نہ کرنا سمجھ میں نہ آنے والی بات ہے کیا۔ محکمہ ایجوکیشن نے جتنی ریلسل اور تجربات کیئے ہیں وہ خاص علاقوں اور مخصوص کمیونیٹیز کے لیے ہیں دہی علاقے بیس سالہ تجربات کے باوجود ترجیحات کا حصہ نہیں بن سکیں۔ شہروں میں ہر سال ہائی اسکولوں کو اپ گریڈ کرکے انہیں ہائیر سیکنڈری اسکولوں کا درجہ دیا جاتا ہے جہاں ضرورت ہے ان علاقوں میں کسی ایک اسکول کو بھی اپ گریڈ نہیں کیا جاتا ہے تحصیل پروم پنجگور سے 100 سو کلو میٹر کی دوری پر ہے اسی طرح کیلکور بھی ڈیڑھ سو کلو میٹر کے فاصلے پر ہے، گچک شہر سے ایک سو کلو میٹر دور ہے گوارگو اور کلگ کے کلی اور دیہات شہر سے الگ تھلگ ہیں انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے اختیارداروں اور محکمہ ایجوکیشن کے زمہ داروں نے کھبی بھی یہ محسوس ہی نہیں کیا کہ ان علاقوں میں بھی ہائیر سیکنڈری اسکولوں اور کالجز کی ضرورت ہے اس طرح کی اپ گریڈیشن ان علاقوں کا حق بنتا ہے جو کالجز اور دیگر ٹیکنکل اداروں سے محروم چلے آرہے ہیں مگر افسوس دہی علاقوں کو ہر سطح پر نظر انداز کیاگیا ہے اور اس معاندانہ روش کی وجہ سے دیہی علاقوں میں تعلیم کا شرح دو فیصد بھی نہیں ہے جو بچے اپنی مدد آپ کے تحت پرائمری مڈل پاس کردیتے ہیں وہ مزید تعلیم کو جاری رکھنے کے لیے ان کے پاس کوئی مواقعے نہیں ہوتے جس کے بعد وہ اپنے خوابوں کو ادھورا چھوڑ کر مایوسیوں کی دلدل میں دھنس جاتا ہے اور والدین بھی اس کی قسمت پر ماتم کناں بن جاتے ہیں۔ اور مزید ستم دیکھیں کہ ہر سال داخلہ مہم کے نام پر کروڑوں روپے سیمینارز واک اور دوروں پر خرچ ہوتی ہیں مگر جو بنیادی تعلیمی مسائل ہوتے ہیں ان پر ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہوتا اگر بچے سکول میں آ بھی جائیں تو وہ ٹیچرز اور سہولتوں کے بغیر کیا کریں گے۔ خدارا دیہاتوں کے لوگ غریب ضرور ہیں مگر وسائل میں انکا بھی برابر کا حصہ ہے کب تک انہیں علمی سہولتوں سے محروم رکھ کر انکی خواہشات کے آگے تفریق اور عدم مساوات کھڑی کرتے رہو گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں