ہوشاپ واقعہ‘مکمل انکوائری کے بعد مکمل سچ سامنے آئیگا‘ڈی سی کیچ

تربت(نمائندہ انتخاب) ڈپٹی کمشنر کیچ حسین جان بلوچ نے نے سانحہ ہوشاپ کے حوالے سے اپنے دفتر میں میڈیا نمائندوں سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعہ افسوس ناک تھا اس پر دکھ کا اظہار کیا اور یکجہتی کے لیے دھرنا پر گیا، جس روز یہ دلخراش واقعہ رونما ہوا،نائب تحصیل دار نے ڈی ایس آر بھیجی جس میں کہاگیاکہ مارٹر گولہ فائر ہوا ہے پھر نائب تحصیلدار کا ڈی ایس آر وائرل ہوا میں نے اس سے فیکٹ فائنڈنگ اور واقعہ کی مکمل تفصیلات کا پوچھا تو وہ وہاں نہیں گیا تھا میں نے نائب تحصیل دار، اسسٹنٹ کمشنر اور دیگر افسران کو تاکید کرکے فوراً جائے وقوعہ بھیجا اور تفصیلی رپورٹ بھیجنے کو کہا کہ وہ اس واقعہ کی مکمل تحقیق کرکے تفصیلی رپورٹ بنا کر مجھے بھیج دیں، اسسٹنٹ کمشنر نے جاکر ابتدائی تفتیش اور تحقیق کے بعد وہاں سے شواہد اکٹھے کیے اور ہینڈ گرنیڈ کا پن، ہینڈل اور کچھ شواہد اسے ملے تھے ان کو اکٹھا کرکے مجھے پیش کیا جس کی روشنی میں میں نے ابتدائی اسٹیٹ منٹ دیا، انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر لوگ رپورٹ پر جو تنقید کررہے ہیں شاید صحیح طورپر کسی نے رپورٹ پڑھا نہیں ہے کیوں کہ یہ ابتدائی رپورٹ تھی اس پر انتظامیہ کا موقف واضح ہے، البتہ مکمل انکوائری کے بعد جو سچ ہوگا وہ سامنے آئے گا، ابتدائی رپورٹ کی روشنی میں دھرنے میں جاکر میں نے کہا تھا کہ اگر لواحقین یا آل پارٹیز کیچ کو انتظامیہ پر اعتماد نہیں تو خود وہاں جاکر دیکھ لے اور اپنی طرف سے تفتیش کریں، مزید تحقیقات کے لیے میں میڈیا،سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کو جائے وقوعہ لیجانے کے لیے تیار ہوں کہ وہ دیکھ لیں ایف سی کا چیک پوسٹ کتنے فاصلے پر ہے، کیونکہ ایف سی چیک پوسٹ جائے وقوعہ سے تین سے چار کلو میٹر کے فاصلے پر ہے، انہوں نے کہا کہ آل پارٹیز کے وفد نے جب ہوشاپ جاکر وہاں جائزہ لیا تو اس کے بعد میری ان سے ملاقات ہوئی اور ان سے میں نے چیک پوسٹ کا فاصلہ پوچھا انہوں نے بھی تین سے چار کلو میٹر کا فاصلہ بتایا، اب سوال یہ ہے کہ کس راکٹ کا فاصلہ تین سے چار کلو میٹر ہے اگر اس پر کوئی جے آئی ٹی یا جوڈیشل انکوائری کمیشن بنے گی تو وہ جائے وقوعہ ضرور جائے گی اور اس پر لازمی تحقیقات کرے گی، انہوں نے کہا کہ بلیدہ میں رامز خلیل والے واقعہ پر ہمیں افسوس ہوا تھا،اس پر جے آئی ٹی بن گئی اور وہ کام کررہی ہے، اس کا کام تحقیقات کرنا اور ملوث افراد کو سامنے لانا ہے اس کے بعد سزا و جزا کا معاملہ ہوگا، ڈپٹی کمشنر کیچ نے کہا کہ میں نے سانحہ ہوشاپ کے معاملے پر کسی کو 20 لاکھ روپے اور تربت میں گھر دینے کی آفر نہیں کی ہے اس حوالے سے سوشل میڈیا پر جو کچھ کہا جارہا ہے وہ غلط ہے، اس میں اگر کچھ سچائی ہے تو ثبوت سامنے لائیں کہ میں نے کس کو،کب اورکہاں یہ آفرکی ہے، البتہ میں نے ان کو انکوائری اور ذمہ دار افراد کو سزا دلانے کی بات کی تھی، سانحہ میں بچوں کی شہادت کے بعد میں کئی دفعہ ہسپتال گیا ہوں اور زخمی بچے کو علاج کے لیے اخراجات کی آفر کی تھی، میں نے کہا تھا کہ بچے کو علاج کے لیے کراچی شفٹ کیا جائے تاکہ ان کا بہتر علاج ہو،یہ میری ذمہ داری تھی اور میں نے اس پر اپنی ذمہ داری پوری کی، انہوں نے کہا کہ دھرنے میں جو خاتون بیٹھی تھی میں نے اس سے غلط لہجہ اختیار نہیں کیا کیونکہ وہ میری ماں جیسی تھی میری گفتگو کا رخ موڑنے کی کوشش کرکے اسے غلط رنگ دینے کی کوشش کی گئی، اس وقت ہجوم تھا جس کی شور سے کچھ سننا مشکل ہورہا تھا میں نے ان سے کہا کہ آپ بعد میں بات کریں کیونکہ اس وقت فیملی کے دیگر لوگ مجھ سے بات کررہے تھے میں نے خاتون سے کہا کہ جو ڈیمانڈ آپ رکھ رہے ہیں اسے پورا کرنے کے لیے میں حکومت کو سفارش بھیج دوں گا، اگر میری زبان سے ان کے لیے واقعی سخت الفاظ نکلے تو اس پر معذرت خواہ ہوں، انہوں نے کہا کہ سانحہ ہوشاپ میں شہید بچوں کے اہل خانہ نے مجھے اپنے ڈیمانڈ تحریری طور پر نہیں دئیے ہیں اور نہ ہی ایف آئی آر کے لیے درخواست دی ہے، میں اپنی طرف سے کیسے کچھ کرسکتا ہوں اگر وہ درخواست دیتے تو میں اس کی درخواست ضرور لیتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں