قانون نافذ کرنیوالے نوجوانوں کو لاپتہ کرنے اور سماجی برائیوں میں ملوث ہیں، بی ایس او پجار

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار) کے مرکزی چیرمین زبیر بلوچ نے اپنے بیان میں کہا کے بلوچستان میں قانون نافذ کرنیوالوں نے رواں سال 9 جون کو علی ہسپتال خضدار سے طالب علم و بی ایس او پجار وندر زون کے آرگنائزر تابش وسیم بلوچ کو گرفتار کرکے لاپتہ کردیا ۔ اس سے قبل بھی ایف سی نے نوجوانوں کو لاپتہ کرنے اور ماورائے آئین و قانون قتل کرنے کے مجرم رہے ہے گزشتہ برس حیات بلوچ کو شہید کرنے کے مجرم نا صرف ایف سی کے ملازم تھے بلکےاداروں نے ان مجرمان کو بچانے کے بھی بے انتہاہ کوشش کی ۔ 
چیرمین زبیر بلوچ نے مزید کہا  گزشتہ 4 روز سے گورنر ہاوس کوہٹہ کے سامنے چند بزرگ مرد و خواتین ہزاروں بلوچ نوجوانوں کے ساتھ اپنے بچوں کے جنازے لائے ہے جن کو ایف سی نے شہید کیا ہے ریاست کے والیوں کو چاہیے کے وہ ان بزرگوں اور ان لاشوں کا احترام کرئے اور فوری ایف سی کے ملوث تمام کارندوں کے خلاف کاروائی ہو ۔ ایف سی گزشتہ 2 دہائیوں سے سیاسی کارکنوں کو ہراساں کرنے اور لاپتہ کرنے و سیاسی ماحول میں انتشار پہلانے کا سبب رہا ہے بلوچستان کے کہی بڑے تعلیمی اداروں میں اب بھی ایف سی براجمان بیٹھا ہے لیکن نا تو حکومتی اور نا ہی انتظامی کوئی فرد ان کو نکالنے کی بات کرئے ۔
زبیر بلوچ نے مزید کہا کے بلوچستان اسمبلی و اسلام آباد میں بیٹھے نمائندوں کے لیے ایک بڑا سوال اور المیہ ہے کے بلوچ بچوں کے جنازے روڈ پہ رکھے انصاف مانگ رہے ہے لیکن اسمبلی میں بیٹھے بلوچ ان اداروں کے خلاف ایک قرار داد تک لانے کی ہمت نہیں کرپاہ رہے ہے بلوچستان اسمبلی کے بلوچ نمائندگان شائد قوم کی آواز نہیں سن رہے قوم کی آواز ہے ایف سی نکالو لیکن مجال نہیں کے کوئی نمائندہ ایف سی کے خلاف کوئی ایک لفظ بول سکے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں