طلبہ و طالبات کے مسائل کے حل کیلئے ایک منظم سیاسی پلیٹ فارم کی ضرورت ہے، بساک

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی آرگنائزنک کمیٹی کا دوسرا اجلاس زیر صدارت مرکزی آرگنائزر ڈاکٹر شکیل بلوچ منعقد،اجلاس میں آرگنائزنگ کمیٹی کے رکن حاجی حیدر بلوچ کو مسلسل تنظیمی قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے پر تنظیم سے فارغ کر دیا گیا ہے، تنظیم کے آئین اور قوائد و ضوابط سے کوئی بالاتر نہیں، بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کا دوسرا اجلاس زیر صدارت مرکزی آرگنائزر ڈاکٹر شکیل بلوچ منعقد ہوا، اجلاس میں سابقہ کارکردگی رپورٹ، تنظیمی امور، تنقیدی نشست اور آئندہ لائحہ عمل کے ایجنڈے سیر حاصل بحث رہے۔اجلاس میں مرکزی آرگنائزر ڈاکٹر شکیل بلوچ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں میں بلوچ طلباء و طالبات کو درپیش مسئلے اور مسائل کا سامنا ہے ان مسائل کو چیلنج کرنے کیلئے ایک منظم سیاسی پلیٹ فارم کی ضرورت ہے۔ بغیر تنظیمی پلیٹ فارم کے مسائل اور مشکلات کبھی حل نہیں ہو سکتے۔ مقتدرہ قوتیں جنکی حکمرانی کرپشن اور غریبوں کے ساحل و سائل کو لوٹنے کی بنیاد پر قائم ہیں کبھی نہیں چاہتے کہ وہ سیاسی اور معاشی بنیاد پر منظم ہوں بلکہ وہ کسی حد تک سیاسی ماحول کو ختم کرنے کیلئے ماحول سازگار بنا کر پالیسیاں مرتب کرتے ہیں۔ لیکن ایک تربیت یافتہ سیاسی کارکن سیاسی طریقہ کار زیر استعمال میں لا کر تمام مسائل کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کرکے اپنے تنظیمی پلیٹ فارم کو منظم اور مستحکم بناتی ہے۔ اسکے علاوہ آج اس بحرانی کیفیت میں مقتدرہ قوتوں نے طلباء سیاسی تنظیم میں انتشار پھیلانے اور انہیں مایوس کرنے کیلئے کچھ کرداروں کو سرگرم بنا کر کارکنوں کے درمیان ایسی نفرت انگیز اور مضحکہ خیز باتیں پھیلائیں تاکہ طلباء ایک دوسرے سے مزید فاصلہ رکھ کر سوشلی بائیکاٹ کریں۔ ان قوتوں کو سمجھنا اور انکے خلاف پالیسی بناکر انہیں ناکام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مرکزی رہنماؤں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بساک ان سیاسی بحرانی کیفیت کے باوجود بھی تنظیمی سرگرمیوں کو جاری رکھی ہوئی ہیں۔ دراصل یہ سیاسی قیادت کی کامیاب حکمت علمی ہے کہ وہ اراکین کو پر امید اور قائدانہ صلاحیتوں کے ساتھ اپنے عظیم مقصد کے حصول کیلئے جدوجہد کر رہی ہے۔ آج وہ قوتیں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں اور بلوچ طلباء کے اندر ایک سیاسی بحث کا آغاز ہو چکا اور وہ بڑھ چڑھ کر سیاست میں حصّہ لے رہے ہیں جو کہ ان قوتوں کے ناپاک ارادوں کے برعکس ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بساک کے کارکنوں کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ مختلف جگہوں میں کتب میلے کا انعقاد کرکے کتب بینی کو پروان چڑھا کر بلوچ نوجوانوں کے ہاتھوں کتاب اور قلم تھما دینا قوم کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ اسکے علاوہ مختلف سیاسی موضوع پر اسٹڈی سرکلز منعقد کرنے سے طلباء و طالبات میں شعور اور آگاہی پیدا ہوچکی ہے۔ طلباء کو سیاسی تربیت کیلئے تنظیم کو دوستوں نے اہم موضوعات پر لکھے گئے مواد اکٹھے کئے ہیں جنہیں جلد ایک میگزین کی شکل میں شائع کریں گے تاکہ طلباء و طالبات ان سے استفادہ حاصل کر سکیں۔ اس قلیل المدت میں تنظیمی رہنماؤں کے انتھک جدوجہد سے تنظیم نے مختلف جگہوں میں زونل کابینہ تشکیل دیکر بساک کے پروگرام کو تعلیمی اداروں میں پھیلائیں جو کہ طلباء سیاست کیلئے ایک خوش آئند پیغام ہے۔
سنٹرل آرگنائزنگ کمیٹی کے دیوان میں تنظیمی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کیلئے مختلف فیصلے لئے گئے جنمیں چند مہینے بعد مرکزی کونسل سیشن کے کے انعقاد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ زونل سطح پر سیاسی تربیتی پروگرام منعقد کرنے کیلئے اہم فیصلے کئے گئے۔ مسلسل تنظیمی آئین کے قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے اکثریتی فیصلے پر حاجی حیدر کی بنیادی رکنیت ختم کرکے ان کو تنظیم سے فارغ کیا گیا۔ اس سے پہلے تنظیم نے انہیں مزید مواقعے فراہم کرنے اور سدھرنے کیلئے دو مرتبہ شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا جن سے وہ باز نہ آئے تو تنظیم نے اْن کو معطل کیا۔ اسکے باوجود وہ اپنے حرکتوں سے باز نہ آئے جسکا خمیازہ مجموعی طور پر تنظیمی اسٹرکچر کو بھگتنا پڑا اور بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد کی جانب سے بھی شکایتیں موصول ہوئیں۔ تنظیم کے آئینی قوائد اور ضوابظ سے کوئی شخص بالا نہیں۔ تنظیم تمام کارکنوں کو تاکید کرتی ہے کہ آج کے بعد حاجی حیدر کو تنظیم سے کوئی تعلق نہیں اور انکے ساتھ تنظیمی معاملات میں ڈسکشن سے گریز کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں