سرکاری اداروں کے بعد غیر سرکاری تنظیموں اور این جی اوز میں بھی اہل اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کا حق مار کر انہیں رشوت اور سفارش کلچر کے بھینٹ چڑھایا جارہا ہے، روبینہ عرفان
قلات: رکن قومی اسمبلی بی بی روبینہ عرفان نے کہا ہے کہ سرکاری اداروں میں اقرباپروری سفارش اور رشوت کلچر تو دیکھا تھا اب غیر سرکاری تنظیموں اور این جی اوز میں بھی قلات کے اہل اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کا حق مار کر انہیں رشوت اور سفارش کلچر کے بھینٹ چڑھایا جارہا ہے بی آر ایس پی حال ہی میں قلات میں کسی اور ضلع سے خسرہ پروگرام کے سروے کے لیے کوارڈنیٹرتعینات کیا ہے جو کہ یہاں کے اہل اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ساتھ ظلم کے مترادف ہے ان خیا لات کا اظہار انہو ں قلات کے نوجوانوں کی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیاانہوں نے کہا کہ بی آر ایس پی کے اپنی کرپشن کو چھپانے کے لیے بی آر ایس پی میں غیر نا اہل اور کرپشن زدہ لوگوں کو تعینات کررہا ہے جبکہ قلات میں سینکڑوں ڈگری ہولڈرز لڑکے اور لڑکیاں ڈگریاں ہاتھ میں لیکر دردر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو گئیں ہیں انہوں نے مزید کہا کہ قلات محکمہ صحت کے جونیئر آفیسران واہلکار بھی اس غیر معیاری پوسٹنگ میں شامل ہیں۔اس سے قبل بھی تعمیر خلق فاؤڈیشن ڈبلیو ایف پی اور مرف بھی اس قسم کی تعیناتیاں کرچکی ہے جوکہ علاقے کے پڑھے لکھے نوجوانوں کے ساتھ بہت بڑی ناانصافی ہے جس کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا انہوں نے بی آر ایس پی کے اعلی حکام سے پر زور مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر غیر لوکل تعیناتیوں کو منسوخ کر کے مقامی تعلیم یافتہ لوگوں کو تعینات کریں۔


