وزیراعلیٰ کیخلاف تحریک عدم اعتماد 20اکتوبر کو پیش ہوگی
کوئٹہ:وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد،قرارداد پیش کرنے کی بابت اجازت کیلئے تحریک 20اکتوبر کو پیش ہوگی۔بلوچستان اسمبلی سیکرٹریٹ کے جاری کردہ مراسلے کے مطابق کوئی محرک قواعد انضباط کاربلوچستان صوبائی اسمبلی مجریہ 1974ء کے قاعدہ نمبر19(ب) (4)کے تحت وزیراعلی کے خلاف عدم اعتماد کی قرار داد پیش کرنے کی بابت اجازت کی تحریک پیش کریں گے آئین کے آرٹیکل 136جسے قواعد انضباط کار بلوچستان صوبائی اسمبلی مجریہ1974کے قاعدہ نمبر19(ب) کے ساتھ پڑھا جائے کے تحت وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرار داد نمبر 115میر جان محمد جمالی، محمد صالح بھتونی، سردار عبدالرحمن کھیتران، اسداللہ بلوچ، میر ظہور احمد بلیدی، میر نصیب اللہ مری، حاجی محمد خان لہڑی، حاجی اکبر آسکانی، عبدالرشید،محترمہ بشریٰ رند، محترمہ ما ہ جبین شیران، محترمہ لیلیٰ ترین، میر سکندر علی عمرانی اور محترمہ مستورہ بی بی اراکین بلوچستان صوبائی اسمبلی کی جانب سے پیش کی جائیگی کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران جام کمال خان وزیراعلیٰ بلوچستان کی خراب حکمرانی کے باعث بلوچستان میں شدید مایوسی، بدامنی، بے روزگاری اور اداروں کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی ہے وزیراعلیٰ جام کمال نے اقتدر پر براجمان ہوکر خود کو عقل کل سمجھ کر صوبہ کے تمام اہم معاملات کو مشاورت کے بغیر ذاتی طور پر چلارہاہے جس سے صوبہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا جبکہ اس بارے میں انہیں کابینہ اراکین وقتاً فوقتاً آگاہ بھی کرتے رہے لیکن انہوں نے اس جانب کوئی توجہ نہ دی علاوہ ازیں بلوچستان کے حقوق کے حوالے سے وزیراعلیٰ جام کمال خان نے وفاقی حکومت کے ساتھ آئینی اور بنیادی حقوق کے مسائل پر انتہائی غیر سنجیدگی کا ثبوت دیا ہے جس سے صوبہ میں بجلی گیس،پانی اور شدید معاشی بحران پیدا ہوا نیز اس وقت صوبہ کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد جن میں بیوروکریٹس،ڈاکٹر، طلباء اورزمیندار حکومت کی بیڈ گورننس کی وجہ سے سراپا احتجاج ہیں لہٰذا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جام کمال کان وزیراعلیٰ بلوچستان کی خراب کاکردگی کو مدنظر رکھ کر انہیں وزیراعلیٰ/قائدایوان کے عہدے سے ہٹاکر ان کی جگہ پر ایوان کے اکثریت کے حامل رکن اسمبلی کو وزیراعلیٰ /قائد ایوان منتخب کیا جائے۔


