بھاگ، پانی کی بندش سے قحط سالی کا خطرہ مزید بڑھ گیا، لوگ نقل مکانی پر مجبور
بھاگ:بھاگ تحصیل زراعت کے حوالے سے ایک مقام اور شہرت رکھتا ہے کیونکہ بھاگ تحصیل میں زراعت سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہورہے ہیں یہاں سے سالانہ کروڑوں، اربوں روپے کی پیداواری ہوتا ہے یہاں کے زمین اتنے قابل ہیں کہ جو بغیر کسی یوریا،کھادفصلیں پید اکرتے ہیں صرف ایک ہی پانی سے زرعی زمینیں آباد ہوتے ہیں لیکن اس سال کاشتکاروں کو فصلات کے حوالے سے سخت شکایات ہیں کہ فصلات کو مختلف قسم کے کیڑے لگنے سے فصلات انتہائی کمزورہیں اورتدارک کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئیے جارہیہیں زمینداروں اورکاشتکاروں نے صحافیوں کو بتلایاکہ ان کے فصلات پر مختلف قسم کے کیڑیلگنے سے انکو نقصانات کا سامنا ہے یہاں کے زمینداروں کا دارومدارنہری نظام پانی پر ہے یہاں کے زمینوں کو صرف ایک پانی دیا جاتاہے جو آخری کٹائی تک وہی ایک پانی ہی ان فصلات کو کافی ہے کروڑوں،اربوں روپے کی پیداواری علاقے کو محکمہ زراعت کچھی نے مکمل طور پر زراعت کے حوالے سے نظر انداز کردیا ہے کیونکہ یہاں کے زمینداروں،کاشتکاروں،بزگروں کو آج تک باقاعدگی کے ساتھ کوئی آگاہی مہم فراہم نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس حوالے سے زمینداروں،کاشتکاروں کو کوئی تربیتی ورکشاپ کے ذریعے آگاہی فراہم کیا گیا ہے حالانکہ یہاں کے محنت کشوں زمینداروں کو فصلات کے حوالے سے مختلف قسم کے شکایات اور مشکلات کا سامنا ہے ان کے فصلات کو مختلف اقسام کے امراض لگے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے ان کے فصلات کو کافی نقصانات کا سامنا ہے تحصیل بھاگ ایک وسیعی وعریض علاقے پر محیط ہے اس وقت تحصیل بھاگ میں مختلف اقسام کے فصلات ہوئے ہیں جن میں جواری،موٹھ،مونگ،سرسوں،جانبا،تل اور دیگر فصلات ہیں ان فصلات کو مرض لگنے کی وجہ سے یہاں کے زمیندار،کاشتکار،بزگروں کو کافی مالی مشکلات کا سامنا ہے ملکی معیشت میں تحصیل بھاگ کے ان فصلات کی بہت زیادہ اہمیت ہے لیکن اس طرف توجہ نہ دینا سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ یہاں کے محنت کش سالانہ کروڑوں روپے ملکی معیشت کو مضبوط کرتے ہیں لیکن محکمہ زراعت بولان کچھی نے زمینداروں،کاشتکاروں،بزگروں کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا ہے باقاعدہ طور پر کوئی تربیتی ورکشاپ آج تک منعقد نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی اس حوالے سے یہاں کے کاشتکاروں،بزگروں کو کوئی معلوماتی پروگرام کے ذریعے کوئی آگاہی دی گئی ہے یہاں کے زمیندار،کاشتکار،بزگرآج سے صدیوں سال پہلے کا طریقہ کار استعمال کررہیہیں جس کی وجہ سے یہاں کے زمینداروں اور کاشتکاروں کے فصلات کو مختلف امراض لگ رہیہیں کیونکہ اب سائنس ٹیکنا لوجی کو دور ہے جدید مشنیری کے ذریعے زراعت کو روز بروز ترقی کی طرف لے جایا جارہاہے لیکن یہاں کے کاشتکار،بزگراور محنت کش آج سے صدیوں سال پہلے والے طریقہ کار اپنائے ہوئے ہیں جب کے ترقی یافتہ علاقے لیبارٹرزکے ذریعے جدید بیج یعنی لیبارٹرز سے تصدیق شدہ بیج کا استعمال کرتے ہیں لیکن یہاں کے زمینداراور کاشتکار ان تمام تر سہولیات سے محروم اور بے خبر ہیں حالانکہ محکمہ زراعت کو سالانہ زمینداروں،کاشتکاروں،بزگروں،محنت کشوں کی تربیت اور ورکشاپ کے حوالے سے باقاعدہ ہدایات ملتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی تحصیل بھاگ کے زمینداروں اور کاشتکاروں کی فصلات کی وجہ سے ملکی معیشت روزبروز ترقی کی طرف گامزن ہے لیکن اس کے باوجود بھی توجہ نہ دینا سمجھ سے بالاتر ہے یہاں کے کاشتکاروں اور بزگروں کو محکمہ زراعت بولان کچھی نے ہمیشہ نظر انداز کیا ہے اور ان کیلئے باقاعدہ ہر سال تربیتی ورکشاپ،آگاہی پروگرام منعقد کئے جائیں تاکہ وہ جدید دور کے ٹیکنالوجی،مشنیری اور زراعت کی بہتری سے مزید فائدہ حاصل کریں محکمہ بولان کچھی صرف زبانی جمع خرچ تک محدودنہ رہے اور عملا کام کرکے یہاں کے بزگروں اور کاشتکاروں زیادہ سے زیادہ ریلیف دیں۔


