کل سے صوبے پر مسلط آمریت وغیر جمہوری طرز حکمرانی کا خاتمہ ہوگا،شکیلہ نوید دہوار

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کی رکن بلوچستان اسمبلی شکیلہ نوید دہوار نے امید ظاہر کی کہ آج 25اکتوبر کو صوبے پر مسلط آمریت غیر جمہوری طرز حکمرانی کا خاتمہ ہوگا۔ تاریخ ان سے حیات مرزا، تاج بی بی، ملک ناز، اور آئے روز جعلی مقابلوں میں درجنوں نوجوانوں کی ہلاکتوں کا حساب ضرور لے گی۔ یہ بات انہوں نے گزشتہ شب اسپیکر بلوچستان اسمبلی کی رہائش گاہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ رکن بلوچستان اسمبلی شکیلہ نوید دہوار نے مزید کہا کہ وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان صوبے میں تین سالہ بیڈ گورننس، سیاسی انتقام، کرپشن کے ملبے تلے آج دب جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعلی نے جن بیساکھیوں کے سہارے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے طلباپر تشدد، مظلوموں کی فریاد کو نظر انداز کیا انہیں سمجھ جانا چاہئے کہ اقتدار اور منصب عارضی ہے یہ کسی کی ذاتی جاگیر یا میراث نہیں آج بلوچستان اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کے بعد وزیراعلی کو دوبارہ صوبے کے انہی شاہراہوں اور سڑکوں پر گمنام زندگی گزارنا پڑیگی۔ انہوں نے کہاکہ جس طرح وزیراعلی نے تین سالوں کے دوران اپوزیشن کے اکثریتی اراکین کو نظر انداز کرکے ان کے حلقوں میں غیر مقبول عوامی حمایت سے ہاری سلیکٹڈ لوگوں کو نوازا آج انہوں نے بھی اسکا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے بی این پی نے ہمیشہ اسمبلی فلور پر جام کمال کی غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات کے خلاف بھرپو آواز بلند کرتے ہوئے بلوچ قوم اور صوبے میں آباد دیگر اقوام کی نمائندگی کی ہے یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ آج 25اکتوبر کو صوبے پر مسلط آمریت غیر جمہوری طرز حکمرانی کا خاتمہ ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں