سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کا مکمل فقدان ہے، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن

کوئٹہ: سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کا مکمل فقدان ہے، ایم ایس ڈی سے تاحال سرکاری ہسپتالوں کو ادوایات نہ ملنا سیکرٹریز صحت کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے، صوبے کے دو بڑے سرکاری ہسپتالوں میں لیبارٹری کا سامان ہے نہ ہی معیاری ٹیسٹ کے نتائج، صوبے کے سب سے بڑے ہسپتال میں ایم ار ائی مشین کا نہ ہونا ہیلتھ رفارم کا ڈونگ رچانے والی سابقہ جام حکومت اور اس کے نااہل سیکریٹریز کے منہ پرزور دار تمانچہ ہے، ڈاکٹرو کے خلاف انتقامی کاروائی کی پرزور مزمت کرتے ہیں، نااہل سیکریٹریز صحت کا ڈاکٹرو کو شوکاز نوٹس جاری کرنا مزاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے اور وزیر اعلی بلوچستان کی مزاکراتی پیشکش کا تمسخر اڑانے کے برابر ہیں، وزیر اعلی بلوچستان نوٹس لے، ڈاکٹرو کے خلاف انتقامی کاروائی کرنے پر سیکریٹریز صحت کو چھوٹ نہیں ملے گی، محکمہ صحت کی تباہی کے زمیدار ان دو سیکرٹریز کو کسی صورت ہیلتھ سیکرٹریٹ میں برداشت نہیں کیا جائے گا، مزاکراتی عمل کو معنی خیز بنانے کیلئے وزیر اعلی بلوچستان محکمہ صحت کے دونوں سیکرٹریز کو فارغ کرے، ڈاکٹرو کو جاری ہونے والے شوکاز نوٹس واپس لئیے جائے،، پیرامیڈیکل اسٹاف فیڈریشن کے نائب چیرمین جمال شاہ کاکڑ کی مشاورت سے احتجاجی عمل کو مزید سخت بنایا جائے گا۔ان خیالات کااظہار ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے صوبائی صدر ڈاکٹر احمد عباس بلوچ نے اپنے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہاکہ سرکاری ہسپتال مسائل کا گھڑ بن گیا ہے، سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کا مکمل فقدان ہے، کہی مہینے گزنے کے باوجود بھی ایم ایس ڈی سے سرکاری ہسپتالوں کو ادوایات مہیا نہ ہونا سیکرٹریز صحت کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے، سرکاری ہسپتالوں میں وارڈز میں کینولا ہے نہ ہی کوئی ایمرجنسی ادویات، سابقہ وزیر اعلی اور اس کے دو نااہل سیکریٹریز کی کوتاہی کا خمیازہ مریض اور ڈاکٹرز کو بگتا پڑرہا ہے انہوں نے کہاکہ سرکاری ہسپتالوں کے لیبارٹریز کی حالت زار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، لیبارٹری میں جہاں ایک طرف تو صرف چند ایک خون کے ٹیسٹس کئے جاتے ہیں وہاں دوسری طرف ان کم ٹیسٹس کیلے نہ تو اچھے کیمیکل ہے، نہ کوئی جدید مشنری اور نہ ہی ان ٹیسٹس کے نتائج معیاری ہے، سرکاری ہسپتالوں میں لیبارٹریز کا سامان کم ہونے اور محدود فنڈ ہونے کی وجہ سے لیبارٹری ایوننگ اور رات میں کارآمد نہیں ہوتی، ایسے میں غریب مریضوں کو ہزاروں کے تشخیصی ٹیسٹس باہر سے کروانا پڑتے ہیں،انہوں نے کہاکہ سنڈیمن پراونشل ہسپتال کوئٹہ میں ایم ار ائی مشین کا نہ ہونا کسی حیرت سے کم نہیں، دوسرے صوبوں میں جہاں ٹرشری کیر ہسپتالوں میں 20 سے 30 ایم ار ائی مشین ہوتے ہیں وہاں ہمارے صوبے کے سب سے بڑے ہسپتال میں ایم ار ائی مشین نہ ہونا 3سال تک عوام کو بیوقوف بنانے والے جام صاحب اور ان کے دو نااہل و بدعنوان سیکرٹریز کے کرپشن کی داستان اور عوام دشمن ذہنیت کا منہ بولتا ثبوت ہے، انہوں نے کہاکہ چیف سیکرٹری بلوچستان اور ہیلتھ سیکرٹریز کی جانب سے ڈاکٹرو کو انتکامی بنیادوں پر شوکاز نوٹس جاری ہونے کی ہم پرزور مزمت کرتے ہیں، سیکرٹریز صحت کی ان گیڈر بھگتیو کا ہم پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، گزشتہ روز وزیر اعلی بلوچستان کی جانب سے مزاکرات کی پیشکش کے بعد ہیلتھ ڈپارٹمنٹ میں بیٹھے ان دو نااہل و کرپٹ سیکرٹریز کی جانب سے ڈاکٹرو کو شوکاز جاری کرنا مزاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش اور صوبے کے چیف ایگزیکٹو کی مزاکراتی پیشکش کا تمسخر اڑانے کے مترادف ہے،جس کی ہم پرزور مزمت کرتے ہیں صدر نے بتایا کہ محکمہ صحت میں بیٹھے ان دو نااہل اور ڈاکٹر دشمن سوچ کے حامل سیکرٹریز کے ہوتے ہوئے مزاکراتی عمل کو نتیجہ خیز بنانا ممکن دکھائی نہیں دیتا، وزیر اعلی بلوچستان واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے مزاکراتی عمل کو معنی خیز بنانے کیلئے محکمہ صحت کی تباہی کے زمیدار ان دو سیکریٹریز کو فل فور فارغ کرتے ہوئے بدنیتی پرمبنی شوکاز نوٹس کو واپس لینے کے احکامات جاری کرے،آخر میں صدر نے بتایا کہ پیرامیڈیکل اسٹاف فیڈریشن کے وائس چیئرمین جمال شاہ کاکڑ سے مشاورت کے بعد بہت جلد احتجاجی عمل کو وسعت دیتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں