سعودی عرب، یواےای کاسوڈان میں سویلین حکومت کی بحالی پرزور

ریاض:سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، امریکا اور برطانیہ نے سوڈان میں سویلین حکومت بحال کرنے پر زور دیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے ’’الجزیرہ‘‘ کے مطابق سوڈان کی حکمران فوج کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے والی دو عرب ریاستوں نے پہلے صرف ملک میں استحکام پر زور دیا تھا۔

گزشتہ ہفتے فوجی بغاوت میں وزیر اعظم عبداللہ حمدوک کو معزول کرکے دیگر رہنماوں کے ساتھ گرفتار کرلیا گیا تھا۔چاروں ممالک نے بدھ کو امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ’’ہم اس کی سویلین قیادت والی عبوری حکومت اور اداروں کی مکمل اور فوری بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں‘‘۔

امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ہم ملک میں ایمرجنسی کو ختم کرنے اور ان تمام افراد کی رہائی کی بھی اپیل کرتے ہیں جنہیں حالیہ واقعات کے بعد حراست میں لیا گیا ہے‘‘۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ’’نئے سوڈان میں تشدد کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اوراس مرحلے پر ہم تمام فریقوں کے درمیان موثر مذاکرات کی تائید کرتے ہیں اور تمام فریقین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ سوڈان کے عوام کے لیے امن اور سلامتی کو یقینی بنانے کو اپنی اولین ترجیح دیں‘‘۔

امریکا نے فوج کے ذریعہ 25 اکتوبر کو اقتدار پر قبضہ کرلینے کی مذمت کی تھی۔ فوجی بغاوت سے قبل سوڈان میں اس وقت ایک انتہائی نازک عبوری حکومت تھی، جس میں وزیر اعظم عبداللہ حمدوک کی قیادت والی سویلین حکومت میں فوجی رہنما بھی شامل تھے۔بغاوت کے بعد عبداللہ حمدوک کو پہلے گرفتار کیا گیا پھر انہیں گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔ امریکا نے اس واقعے کے بعد سوڈان کو مجوزہ 700 ملین ڈالر کی مالی امداد فوری طورپر روک دی تھی۔

سوڈان کی فوج کو افریقی یونین کی طرف سے بھی دباو کا سامنا ہے۔ اس نے ”سویلین قیادت والی عبوری اتھارٹی کے موثر بحالی” تک سوڈان کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کر لیے ہیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ چاروں ملکوں کی طرف سے جاری مشترکہ بیان میں سوڈان کا پڑوسی مصر شامل نہیں ہے۔ بغاوت کے بعد ملک میں ہونے والے جمہوریت نواز مظاہروں میں لوگوں نے قاہرہ کے رویے پربھی ناراضی کا اظہار کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں