مہنگائی، کرپشن اور بیڈ گورننس سے ملک میں بے یقینی کی کیفیت طاری ہے، بلوچستان بار کونسل

کوئٹہ:بلوچستان بار کونسل کے وائس چیئرمین قاسم علی گاجزئی چیئرمین ایگزیکٹیو کمیٹی ایوب ترین چیئرمین بین الصوبائی راحب خان بلیدی ایڈووکیٹ اور چیئرمین ہیومن رائٹس امان اللہ کاکڑ نے اپنے ایک بیان میں ملک بھر میں مہنگائی کرپشن اور بیڈگورننس اور آئے روز ملک میں پٹرول چینی گھی روز مرہ کے استعمال شدہ اشیا خوردنوش کے بڑھتے ہوئے مہنگائی کی توجہ چیف جسٹس آف پاکستان کو مبذول کراتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان اس کا فوری سوموٹو لینے کا مطالبہ کیا بیان میں کہا کہ ملک اس وقت نازک صورتحال سے دوچار ہے موجودہ حکمرانوں نے ملک کو تباہی کے دھانے پر لاکھڑا کیا ہے کرپشن عام ہے میرٹ نام کی کوئی چیز نہیں ملک بھر میں بڑے سے بڑے اداروں میں اقربا پروری لاقانونیت عروج پر ہے پاکستان اس وقت دنیا کا چوتھا بڑا گنا پیدا کرنے والا ملک ہے حکومت ایک مخصوص شوگر مل مالکان کو ریلیف دینے کیلئے چینی کے خود ساختہ بحران پیدا کرکے 170روپے کلو فروخت ہورہی ہے بیان میں کہا کہ پٹرول عالمی مارکیٹ میں سستی اور پاکستان میں مہنگا ہے بیان میں کہا کہ حکمرانوں نے پاکستان کو آئی ایم ایف کے ہاتھوں بیچ دیا ہے بیان میں کہا کہ بلوچستان معدنی وسائل سے مالا مال صوبہ ہونے کے باوجود بلوچستان کے عوام دو وقت کی روٹی سے محروم ہیں دنیا کے سب سے بڑے سی پیک پروجیکٹ گوادر بلوچستان میں ہے لیکن وہاں کے عوام آج بھی بنیادی ضروریات زندگی پانی بجلی روز سے محروم ہیں بیان میں کہا کہ گودار کے ماہی گیروں کے معاشی قتل عام جاری ہے غیر قانونی ٹالریننگ کا سلسلہ جاری ہے بیان میں کہا کہ بلوچستان کے عوام کا ذریعہ معاش بارڈر بزنس ہے اس وقت تفتان مند ایران بارڈر چمن بارڈر بند ہیں جس سے لاکھوں لوگ بے روزگار ہیں بیان میں کہا کہ بلوچستان میں مسسنگ پرسننز کا معاملہ سنگین ہے بیان میں کہا کہ بلوچستان کے معدنی وسائل سیندک ریکوڈیک پروجیکٹ گودار سی پیک پروجیکٹ بلوچستان سے نکلنے والے معدنیات گیس سونا تانبا کرومائیٹ کوئلہ اور دیگر معدنی وسائل کا غیر منصفانہ تقسیم ہے آٹھارویں آئینی ترمیم جن میں تمام قومی وحدتوں کا مشترکہ متفقہ آئینی ترمیم تھا وفاق نے آج تک اس پر عملدرآمد نہیں کیا ہے بیان میں کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان ان کا سوموٹو لیں بیان میں مطالبہ کیا کہ اس وقت ملک لاکھوں کیسسز عدالتوں میں پینڈنگ میں پڑے ہیں ان کی فوری سماعت کو یقینی بنائیں اور مطالبہ کیا کہ چیف جسٹس آف پاکستان ملک جوڈیشل سسٹم کو بہتر بنانے اور اپنے ادارے میں کرپشن اقربا پروری اور من پسند اور رشتے داروں کو نوازنے کا جو سلسلہ ہے اس کو روکنے میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں