میجر طاہر اپنے محافظوں کی فائرنگ سے زخمی ہوا جبکہ ایف آئی آر میرے نام سے در ج ہے،سمیع اللہ کاکڑ

کوئٹہ:سمیع اللہ کاکڑ ایڈووکیٹ نے الزام عائد کیا ہے کہ صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کے بیٹے نے گھر پر آکر پیسوں کی لین دین پر میرے بھائی عتیق الرحمن کاکڑ کو شہید کیا ان کے اپنے باڈی گارڈز کی فائرنگ سے میجر طاہر شاہ کھیتران اور دیگر لوگ زخمی اور جاں بحق ہوگئے ایف آئی آر کیلئے درخواست میں نے دی جبکہ ایف آئی آر میرے خلاف درج ہوئی آرمی چیف اس واقعے کا نوٹس لیکر ہمیں انصاف فراہم کرے ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا سمیع اللہ کاکڑ نے کہا کہ 25اکتوبر کو شام ساڑھے5بجے صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کے بیٹے میجر طاہر شاہ کھیتران اپنے گارڈز کے ہمراہ میرے بھائی کے گھر آئے انہوں نے میرے بھائی سے 30لاکھ روپے لے کر 4ملازمتیں دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن چار ماہ گزرنے کے باوجود ملازمتیں نہ ملنے پر میرے بھائی عتیق الرحمن کاکڑ شہید نے ان سے پیسوں کا تقاضا کیا جس پر دونوں میں بات بڑھ گئی تو ان کے مسلح گارڈز نے فائرنگ کی جس سے میرا بھائی شہید میجر طاہر شاہ کھیتران زخمی اور 3 گارڈز جاں بحق ہوگئے میں پہلے ایف آئی آر کیلئے جناح ٹاؤن گیا جہاں ایس ایچ او نے کہا کہ یہ علاقہ صدر کا بنتا ہے میں اور ایچ ایس او جناح ٹاؤن میر ے گاڑی میں صدر تھانے میں آئے تو معلوم ہوا کہ ایس ایچ او صدر تھانے جائے وقوع کیلئے روانہ ہوچکا تھا جب میں اپنے بھائی کے گئے پہنچا تو میرے بھائی اور دیگر افراد کی لاشیں پڑی تھی جنہیں ہسپتال منتقل کیا گیاانہوں نے آرمی چیف سے مطالبہ کیا کہ میجر طاہر شاہ کھیتران کے خلاف آرمی قوانین کے تحت انکوائری کی جائے اور ہمیں انصاف فراہم کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں