بختیار آباد، دو قبائل کے درمیان فائرنگ، 3افراد جاں بحق
بختیارآباد:دو قبائل کے درمیان فائرنگ دو بھائیوں سمیت تین افراد جاں بحق دو زخمی، نیشنل ہائی وے روڈ پر ورثہ کا جاں بحق افراد کی لاشیں رکھ کر دھرنا، دونوں اطراف سے گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں، جب تک ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جاتا دھرنا جاری رہے گا، ورثہ کا مطالبہ، نیشنل ہائی وے بند ہونے سے مسافر، بچے اور خواتین پریشان، تفصیلات کے مطابق گزرشتہ روز بالا ناڑی لیویز تھانہ کی حدود میں دو قبائل کرد اور اعوان میں زمینی تکرار پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس میں کرد قبائل کے افراد نے فائرنگ کرکے اعوان برادری کے تین افراد کو جاں بحق اور تین افراد کو زخمی کرکے موقع سے فرار ہوگئے۔ اعوان برادری کی جانب سے جاں بحق ہونے والے افراد کی لاشوں کو نیشنل ہائی وے لمجی کے مقام پر رکھ کر دھرنا دیا گیا۔ اعوان برداری کے افراد نے انتظامیہ پر جانب داری کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ملزمان بااثر ہونے کی وجہ سے انتظامیہ جانبداری کا مظاہرہ کررہی ہے اور ملزمان کو گرفتار کرنے کی بجائے انہیں تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ اس سے قبل اعوان برادری سے مزاکرات کرنے کیلئے ڈپٹی کمشنر کچھی اصغر شہباز رند اور ڈی پی او ڈھاڈر سمیت دیگر آفیسران دھرنے کی جگہ پر پہنچے جہاں پر مظاہرین سے ان کے مزاکرات ناکام ہو گئے۔ سیاسی و قبائلی شخصیت چیئرمین رند قومی اتحاد میر سردار خان رند، سردار عبدالوحید سولنگی سمیت دیگر سیاسی و قبائلی رہنما جاں بحق افراد کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کرنے دھرنے کی جگہ پر پہنچ گئے۔ جہاں پر انہوں نے جاں بحق افراد کے ورثہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ دھرنے کے باعث دونوں جانب گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں جن میں عورتوں اور بچوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ دھرنے کے باعث ہزاروں مسافر دونوں اطراف سے دھرنے کی جگہ پھنس گئے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان سب کی ذمہ دار انتظامیہ ہے۔ پہلے بھی کء مرتبہ انتظامیہ کو بتایا گیا ہے۔ مگر کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔ قاتلوں کی گرفتاری تک جاری رہے گا۔ بعد ازاں انتظامیہ اور ورثہ کے درمیان مزاکرات کامیاب ہو گئے جس سے نو گھنٹے نیشنل ہائی وے بند ہونے کے بعد ٹریفک کے لئے کھول دیا گیا۔


